• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صبا ناز 

کیا ہوا سارہ ،ایسے الماری کھول کر کیوں کھڑی ہو ؟ امی سمجھ نہیں آرہا کل ایونٹ پر کیا پہن کر جائوں …کپڑوں سے الماری بھری پڑی ہے کچھ بھی پہن جائوں اس میں اتنا پریشان ہونے کی کون سی بات ہے ۔جی ! کپڑے تو بہت ہیں لیکن سمجھ نہیں آرہا ان میں سے کون سا لباس پہنو ۔

یہ مسئلہ صرف سارہ کا نہیں بلکہ ہر دوسری لڑکی کا ہے ،جب بھی گھر سے باہر جانا ہو ان سب کے ذہنوں میں ایک ہی سوال کی کچڑی پک رہی ہوتی ہے کہ ’’کیا پہن کر جائوں جو سب سے منفرد نظر آئو ‘‘یا یہ پریشانی کہ ‘‘میرے پاس تو کپڑے ہی نہیں ہیں ‘‘ بے شک الماریاں بھری پڑی ہوں ، پھر چاہے زیادہ پڑھی لکھی ہو یاکم،فیشن کرتی ہو یا نہیں لیکن اس معاملے میں ان سب کی سوچ مشترک ہوجاتی ہے۔

کہتے ہیں کسی سے آپ کی پہلی ملاقات ہی اس پر آپ کی شخصیت کے نقوش واضح کردیتی ہے ۔ اور جب بھی آپ کسی سے ملتے ہیں تو سب سے پہلے جو چیز سامنے آتی ہے وہ آپ کا پہناوا ہی ہوتا ہے جسے دیکھ کر سامنے والے پر آپ کی شخصیت ظاہر ہوتی ہے۔ لیکن پھر بات آتی ہے کہ آخر کس قسم کے کپڑے پہن کر ہم سامنے والے کو متاثر کرسکتے ہیں ؟ 

ایک اچھے لباس کا کیا مطلب ہے ؟ وہی لباس آپ کی شخصیت کو پُروقار بناتا ہے جو نہ تو زیادہ ڈھیلا ہو کہ ایسا لگے کسی سے مانگ کر پہنا ہے اور نہ ہی زیادہ ٹائٹ کہ یوں لگے چھوٹی بہن کا پہن لیا ہے۔ اور اس کا انتخاب کرتے ہوئے یہ بات لازمی ذہن میں رکھیں کہ آپ کہاں جارہی ہیں ۔ اگر آپ چمکیلا بھرکیلا لباس پہن کر جاب کے لیے انٹرویو دینے کے لیے جارہی ہیں تو بالکل بھی اچھا تاثر نہیں دے گا ۔ جاب انٹرویو کے لیے جاتے ہوئے اس بات کاخیال رکھیں کہ انٹرویو لینے والے کی ساکھ بہت اچھی ہے تو وہ انھیں ہی ترجیح دے گا جو اسے اپنے آئینہ دار دکھے گا ۔اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ ایک انٹرویو کے لیے کسی مہنگے برانڈ کا سوٹ خریدیں ۔

بلکہ بڑے بڑے مالز میں برانڈز کی وینڈوشاپنگ کریں اور یہ دیکھیں کہ وہاں کس قسم کے فیشن اِن ہے، کیسے رنگ کے کپڑے ، کیسا ڈیزائن ، کیسے رنگ موسم کے حساب سے چل رہے ہیں اس کا اندازہ ہونے کے بعد انہی ڈیزائنز و فیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے بازاروں اور مالزکا رخ کریں جو آپ کی پہنچ میں ہوں ڈھونڈنے میں تھوڑی محنت کرنی پڑی گی۔لیکن کوئی بات نہیں آپ کو اس کا پھل مل ہی جائے گا یعنی برانڈڈ سے ملتا جلتا ضرور کچھ حاصل ہوگا جسے دیکھ کر سامنے والا کچھ لمحے کے لیے تو پہچان نہیں سکے گا کہ یہ برانڈڈہے یا ریپلیکا ، یوں آپ کم قیمت میں موجودہ وقت کی مناسبت سے فیشن بھی کرلیں گی اور دیکھنے والے کو جاذب النظر بھی دکھائی دیں گی۔

بعض خواتین کم وسائل کی صورت میں لنڈا بازار کا رخ بھی کرتی ہیں اور اس میں کوئی برائی نہیں اگر آپ کبھی نہیں گئی ہیں تو ایک بار ضرور جائیں، کیوںکہ وہاں جو نت نئے ڈیزائنز ہوتے ہیں وہ شاید ہی کہیں ملیں اور یہ سوچ کر کیوں جاتی ہیں کہ لنڈا بازار ہے اسے ایک ایڈونچر سمجھ کر جائیں۔

یہ حقیقت ہے کہ آپ کے پہننے اوڑھنے سے آپ کے اندر کا اعتماد وابستہ ہوتا ہے اور 50 فی صدآپ کی خود اعتمادی پست ہوجاتی جب آپ نے سامنے والے کے مقابلے میں اچھا نہ پہنا ہو اور یہ ہی سطح اس وقت 50فی صدزائد ہوجاتی ہے جب آپ نے کچھ منفرد اور موجودہ فیشن کے مطابق زیب تن کیا ہو۔ لبادہ محض آپ کی خود اعتمادی کا ضامن نہیں ہوتے بلکہ یہ آپ کی شخصیت پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ 

لہٰذا کپڑوں کا انتخاب کرتے ہوئے موسم اور ماحول کو ذہن میں رکھنا چاہیے ۔سب سے اہم بات کہیں جاتے ہوئے اپنی صاف ستھرائی کا ضرور خیال رکھیں، کیونکہ آپ کتنا بھی اچھا پہن لیں اگر آپ کا چہرہ گند لگا رہا ہو یا آپ کے بالوں میں بم پھٹا ہو تو سامنے والے کو کرایت ہی محسوس ہوگی اور وہ آپ سے بات کرتے ہوئے ہچکچائے گا یا شاید بات کرنے سے گریزہی کرے ۔ کیوں نا! آج ہی آپ باہر جاتے ہوئے اچھے لباس کے ساتھ ساتھ ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر توجہ دیں اور اپنی شخصیت کو جاذب النظر بنائیں۔