تہران /دبئی /القدس (اے ایف پی/ نیوز ڈیسک) امریکا ‘اسرائیل اور ایران کا جنگ ختم کرنے سے انکار ‘ایرانی جزیرہ خارگ اور آبنائے ہرمز مشرق وسطیٰ میں جاری لڑائی کا محور بن گئے ‘ امریکی صدر نے خارگ جزیرے پر مزید حملوں کی دھمکی دیدی جبکہ تہران نے دیگر ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کی جنگ میں شامل ہوکر آبنائے ہرمز کھولنے میں مدد نہ کریں ‘امریکا اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملے جاری ‘صوبہ اصفہان پر بمباری ‘متعدد افراد شہید ‘تہران کے اسرائیل پر ڈرونز اور میزائلوں سے تابڑتوڑجوابی حملے ‘بڑے پیمانے پر تباہی ‘ امریکی قونصل جنرل کی رہائش گاہ کو نقصان ‘پولیس یونٹ اور سیٹلائٹ کمیونی کیشن سینٹر تباہ ‘متعدد مقامات پر آگ‘ 100سے زائد افراد زخمی ‘ عراق اور کویت میںفوجی اڈے اور ایئرپورٹس نشانہ‘بغدادمیں 5افرادزخمی ‘ کویت ایئر پورٹ کا ریڈار سسٹم تباہ‘ اٹلی کی فوج نے کویت میں واقع ایک امریکی اطالوی فوجی اڈے پر ڈرون حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہاہے کہ حملے میں اطالوی ٹاسک فورس کا وہاں موجود ریموٹ کنٹرول طیارہ تباہ ہو گیا ہے۔متحدہ عرب امارات نے مزید6ایرانی میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہونے اپنی ہلاکت کی خبروں کی تردیدکرتے ہوئے کہاہے کہ وہ زندہ ہیں اور ان کے ہاتھ کی چھ انگلیاں نہیں ہیں ‘دوسری جانب پاسداران انقلاب نے نیتن یاہو کا تعاقب جاری رکھ کر انہیں قتل کرنےکی دھمکی دی ہے‘ ایران کی اماراتی بندرگاہیں خالی کرنے کی وارننگ‘ ایران میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں 500 افراد گرفتار ‘حزب اللہ کا تل ابیب کے قریب اسرائیلی فضائی اڈے پر جدید میزائلوں سے حملہ‘ تل ابیب نے میزائل انٹرسیپٹرز کی کمی کی خبروں کی تردید کردی ‘ امریکی صدر نے کہاکہ ایران بات چیت پر تیار اور معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن میں ابھی نہیں کرنا چاہتا کیونکہ شرائط ابھی اتنی اچھی نہیں ہیں‘امریکا نے ایران کے ان دعوؤں کو ’جھوٹا‘ قرار دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ خلیجی ممالک پر ڈرون حملوں میں ملوث ہیں‘ ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ہماری پوزیشن مضبوط اور مستحکم ہے ‘ہم نے کبھی جنگ بندی کی درخواست کی اور نہ ہی کبھی مذاکرات کا مطالبہ کیا‘جو ممالک آبنائے ہرمز سے محفوظ راستہ چاہتے ہیں ایران ان سے بات کرنے کو تیار ہے‘ کئی ممالک نے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کیلئے ہم سے رابطہ کیا ہے ‘اماراتی سرزمین سے خارگ جزیرے پر حملے کئے گئے ۔ ایران کے جوہری مراکز ملبے تلے دبے ہیں اور فی الحال ہمارے پاس کوئی پروگرام نہیں اور نہ ہی ان کی دوبارہ بحالی کا کوئی منصوبہ ہے۔سی بی ایس نیوزکو انٹریو میں عباس عراقچی کا کہنا تھاکہ ہم صرف اپنے لوگوں کا دفاع کر رہے ہیں‘ ہمیں امریکیوں سے بات کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، کیونکہ ہم ان سے تب بھی بات کر رہے تھے جب انہوں نے ہم پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تہران نے اتوارکو دیگر ممالک کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ اس کی جنگ میں مداخلت کرنے کے خلاف خبردار بھی کیا ہے۔ تہران نے اپنے عرب پڑوسیوں کو بھی ایک سخت پیغام بھیجا ہے، جس میں ایرانی وزیرخارجہ کے بقول انہیں بتایا گیا ہے کہ ایران کے پاس اس بات کے "ٹھوس شواہد" موجود ہیں کہ ان کی سرزمین پر قائم امریکی اڈے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔خلیجی نیوز پلیٹ فارم سے گفتگومیں عباس عراقچی کا کہناتھاکہ یہ جنگ تب ختم ہوگی جب ہمیں یہ یقین ہو جائے گا کہ یہ دوبارہ نہیں دہرائی جائے گی اور نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔دوسری جانب آبنائے ہرمز میں جہاز بھیجنےکی اپیل پر امریکا کے اتحادی ممالک نے محتاط ردعمل دیاہے ‘ عباس عراقچی نے اپنے فرانسیسی ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو میں انہیں متنبہ کیا کہ وہ ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو تنازع میں شدت اور پھیلاؤ کا باعث بن سکے۔برطانوی وزارتِ دفاع نے بھی کوئی حتمی وعدہ نہیں کیا اور کہا کہ ہم اس وقت اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ خطے میں جہاز رانی کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف آپشنز پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں ۔ برطانیہ کے وزیرتوانائی سکیورٹی ایڈ ملی بینڈ نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایاکہ اب منصوبہ یہ ہونا چاہیے کہ تنازعہ کی شدت کو کم کیا جائے‘جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے بیانات کا جائزہ لے رہاہے جبکہ جاپان کی حکمراں جماعت کے پالیسی چیف تاکایوکی کوبایاشی نے کہا کہ موجودہ قوانین کے تحت جاپانی بحریہ کے جہاز خطے میں بھیجنے کی شرط انتہائی کڑی ہے۔ادھر این بی سی نیوز کو انٹرویو میں ٹرمپ کاکہناتھاکہ تہران مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے بے تاب ہے لیکن امریکہ بہتر شرائط منوانے کے لیے جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔