• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ایل اوسی پر رہنے والوں کی مشکلات ترجیحی بنیادوں پر حل کی جائیں

تحریک آزادی کشمیر تاریخ کے انتہائی نازک موڑ سے گزر رہی ہے ہندوستان کی حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد آزاد کشمیر کو اپنے ایوانوں میں موضوع بحث بنایا ہوا ہے 1947 میں موجودہ آزاد کشمیر کے علاقوں سے ہجرت کر کے مقبوضہ کشمیر اور ہندوستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہندو سکھ کشمیر کی تنظیم دلتان بھواس کو ہندوستان کی حکومت نے بھاری فنڈز دیکر متحرک کیا ہے کہ وہ آزاد کشمیر کے جن علاقوں سے متاثر ہوکر آئے ہیں وہاں کا ڈومیسائل بنوائیں تاکہ پتہ چل سکے وہ آزاد کشمیر میں کہاں اپنی جائیداد چھوڑ کر آئے ہیں مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی کے ریاستی صدر جت دھردنا سنگھ نے دھمکیاں دی ہیں کہ جو سرکار 370. اور 35A کا خاتمہ کر سکتی ہے وہ آزاد کشمیر بھی لیے سکتی ہے ان دنوں دہلی میں اس حوالے سے ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے کشمیری نژدا لوگوں کو ہندوستان کے مختلف علاقوں سے اکھٹا کیا جارہا ہے۔ 

ایسی تسلسل میں چند دن قبل وادی نیلم کے سرحدی علاقہ ٹٹوال میں بی جے پی کے انتہا پسند روندر رینا سنگھ کی قیادت میں شاردہ مندر کا سنگ بنیاد رکھا اور بھجن گایا گیا اس تقریب میں کشمیر وقف بورڈ کے چیرمین درخساں اندرابی نے بھی شرکت کی اس موقع پر انتہا پسند ہندووں نے دھمکی دی کہ جلد یہ ترنگا دریائے کشن گنگا کے اس طرف لہرایں گے ٹٹوال 2005. میں کراسنگ پواینٹ قاہم ہوا تھا آج بھی موجود ہے اس گاوں کی سو فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ 

یہ پر مندر قاہم کرنے کا مقصد مسلم آبادی کو متاثر کرنا ہے مسلمانوں کی زمینوں پر قبضہ کرنا ہے اور ہندوستان بھر سے ہندووں کو عبادت کے نام پر یہاں لانا ہے تاکہ ہندووں کو باور کرایا جائے کہ انکی منزل شاردہ ہے شاردہ ضلع نیلم کی تحصیل ہے اور قدیم بدھ مت یونیورسٹی یہاں کے آثار قدیمہ میں سے اہم سیاحتی مرکز ہے انتہا پسندوں نے دھمکی دی اگلا حدف شاردہ ہے ہندوستان کی حکومت نے کشمیر کے اندر مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے دن رات کام ہورہا ہے۔ 

دوسری جانب آزاد کشمیر میں اقتدار کی جنگ کیلئے رسہ کشی لگی ہوئی ہے تحریک آزادی کے بیس کیمپ کی حکومت کو کوئی پرواہ نہیں کنٹرول لائن کی دوسری طرف کیا ہورہا ہے اس وقت مقبوضہ کشمیر میں گھر گھر تلاشیوں کے بہانے کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا جارہا ہے انہیں نامعلوم مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے گزشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر کے سرحدی علاقوں میں فرضی مقابلوں میں 6 کشمیری نوجوان کو شہید کیا گیا ہے۔ 

جس وقت انتہا پسند ہندو کنٹرول لائن پر اپنی پراسرار سر گرمیوں میں مصروف تھے آزاد کشمیر کے سینر وزیر سردار تنویر الیاس ضلع نیلم کے کنٹرول لائن کے علاقوں کے دورے پر تھے وزیر حکومت نے بھارتی گولہ باری کے دوران سب سے متاثر ہونے والے علاقوں کے لوگوں کے حوصلے کی داد دی کہ ان بہادر لوگوں کی پاک افواج کے ساتھ دفاع وطن کی بدولت بھارتی افواج کو پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے بھی دیکھنے کی جرت نہیں۔ 

 سینئر وزیر نے مقبوضہ کشمیر کے اہم قصبہ ٹٹوال کے سامنے چہلیانہ کے مقام پر آزاد کشمیر کے شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کل سامنے انتہا پسند بی جی پی کے لوگ دھمکیاں دے کرگے ہیں انہیں آزادکشمیر کے لوگوں کے بارے میں معلومات لینی چائیے تھی سیئنر وزیر نے کہا یہ 1947والے مجاہدین کی اولاد ہیں یہ لوگ 74سالوں سے پاک فوج کے ساتھ دفاع وطن کا فریضہ سرانجام دیے رہے ہیں۔ 

یہ لوگ سر جیت دھرنا اور روندر رینا کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں سیئنر وزیر نے کنٹرول لائن پر بسنے والوں کی مشکلات کو ترجیح بنیادوں پر حل کروانے کی یقین کرائی مقبوضہ جموں کشمیر میں نوجوانوں، بچوں اور کشمیری شہریوں پر بھارتی قابض افواج کے حملوں کیخلاف پاسبان حریت اور سکولوں کالج کے اشتراک سے بڑی احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا ۔ جس میں طلبہ اور طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ بھارت مخالف ریلی میں شریک بچوں نے بینر اٹھا رکھے تھے اسلام ، آزادی اور جہاد کے نعروں سے مزین پٹیاں سروں پے باندھ رکھیں تھیں۔ 

ریلی سے چیئرمین پاسبان حریت عزیر احمد غزالی اور دیگر نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ہاتھوں نہتے شہریوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کرنا بھارتی افواج کی بدترین دہشتگردی اور سفاکیت کی شدیر مزمت کی ہے مقررین نے نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نہتے شہریوں پر ظلم اور بربریت کے پہاڑ توڑنے پر غم وغصے کا اظہار کیا ہے اور انسان حقوق کی عالمی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ایشیاء واچ جیسے دیگر اداروں کیلئے لمحہ فکریہ قرار دیا مقررین نے اقوام متحدہ نے جموں کشمیر کے سیاسی مستقبل کے تعین کیلئے اقوام متحدہ سے 16 قراردادوں میں اس بات کی ضمانت دی تھی پر عملدر ردآمد کا مطالبہ کیا ہے کشمیری عوام کو آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کا موقع دیا جائے لیکن چوہتر برس گزرنے کے باوجود یہ عالمی ادارے بھارت کو ان قراردادوں پر عملدرآمد کرنے کیلئے آمادہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ 

بھارت اپنی روایتی ہٹ دھرمی پر قائم ہے آزادی کے بیس کیمپ سے مسئلہ کشمیر کو جارحانہ انداز میں اُٹھائے جائے گا مسئلہ کشمیر پر کوعالمی سطح پر اُجاگر کرنے کی کوششوں کو سراہا بھارت کو افغانستان کی صورتحال سے سبق حاصل کرنا چاہیے کہ کوئی ظلم وجبر سے قوم کسی پر زیادہ دیر قابض نہیں رہ سکتی جو کہ افغانستان میں پہلے سویت یونین اور بعد میں امریکہ کو شکست کا منہ دیکھنا پڑابھارت اپنے جبر و استبداد کے ذریعے زیادہ دیر تک غلام نہیں رکھا جاسکتا یہ بات درست ہے کہ ظلمت کی رات چاہئے کتنی ہی لمبی کیوں نہ سویرا ضرور ہوتاہے۔

تازہ ترین
تازہ ترین