• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پھدکو کتے نے ذرا سا بھونکتے ہوئے اثبات میں تھوتھنی ہلائی ۔’’ ہاں ،میں سچ کہہ رہا ہوں ۔چلو اب ایک اور مزے دار کام کرتے ہیں ۔۔۔‘‘

میں چونک گیا ۔’’ مزے دارکام ۔۔۔؟‘‘

پھدکو کتا ہنس کے بولا :’’ ہاں مزے دار کام ۔اب ہم آگے چلیں گے اور تماشائیوں کو اپنے کرتب دکھائیں گے ،ان کو تفریح کا موقع فراہم کریں گے ۔۔۔‘‘

میں حیرانی اور بے یقینی سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔اس نے ایک گلاٹی مارتے ہوئے کہا :’’ میں پھرکی کی طرح گھوم کر شعبدہ دکھاؤں گا اور آپ اپنی بیساکھی کو تھام کر اس کے ساتھ سر کے بل کھڑے ہوجائیں گے ،کسی نے آج تک خالو بھالو کو ایسا کرتب دکھاتے ہوئے نہیں دیکھا ہو گا ۔۔۔‘‘

میں نے ذرا سوچتے ہوئے کہا :’’ مگر اس سے کیا ہوگا ۔۔۔‘‘

پھدکو مسکراتے ہوئے بولا :’’ اس سے ہمیں کچھ پیسے کمانے کا موقع ملے گا ۔ہم جنہیں کرتب دکھائیں گے وہ ہمیں پیسے دیں گے ۔میں اپنا کرتب دکھا کر تماشائیوں کے سامنے گھوموں گا اور سب سے کرتب دیکھنے کے پیسے وصول کروں گا ۔ہمارے نصیب جو کچھ ہوگا ہمیں مل جائے گا ،شاید یہی وہ آپ کا نصیب ہو، جس کی تلاش میں آپ نکلے ہو ۔۔۔‘‘

میں بے یقینی سے اس کی طرف دیکھنے لگا ،مگر وہ بہت پریقین تھا۔اسے پورا یقین تھا کہ اس طرح ہم کچھ آمدنی حاصل کرنے میں کام یاب ہو جائیں گے ۔ظاہر ہے میرے پاس اس کا ساتھ دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ایک طرح سے وہ میرا استاد تھا۔ اس نے مجھے کئی کرتب سکھا دیے تھے ۔اپنے استاد کا احترام ضروری ہوتا ہے ۔مجھے بھی پھدکو کتے کا احترام کرنا تھا ۔اس کی کسی بات سے انکار نہیں کرنا تھا ۔

میں پھدکو کتے کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔چلتے چلتے ہم جنگل میں بہت دور نکل گئے ۔راستے میں ہم نے کئی بار اپنے کرتبوں کی مشق بھی کی، جہاں ضروری سمجھا وہاں بیٹھ کر کچھ آرام بھی کیا ۔چلتے چلتے ہم جنگل کے ایک کھلے حصے میں پہنچ گئے ۔وہ گھنے درختوں کے درمیان ایک بڑے سے میدانی حصے جیسی ایک بہترین جگہ تھی ۔میں نے اطراف میں دیکھتے ہوئے کہا :’’ اپنے کرتب دکھانے کے لیے یہ ایک بہترین اور صاف ستھری جگہ ہے ۔۔۔‘‘

پھدکو کتے نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا:’’ نہیں ۔۔۔ہمارا شو دیکھنے کے لیے یہاں کوئی موجود نہیں ہے ۔۔۔‘‘

میں اطراف میں نظریں دوڑاتے ہوئے بولا :’’ کیوں نہیں ہے ،ذرا دھیان سے دیکھو، یہاں بہت سی چیونٹیاں ہیں اور وہ دیکھو ،وہاں گیلی زمین کے پاس کچھ کیچوے کلبلا رہے ہیں ،وہ ایک کالا سا بھنورا بھی ہے اور کچھ ٹڈے بھی دکھائی دے رہے ہیں ۔۔۔‘‘

پھدکو کتا انکار میں سر ہلاتے ہوئے بولا :’’ نہیں خالو بھالو ۔۔۔یہ وہ تماشائی نہیں ہیں جو ہمیں کرتب دیکھنے کے بدلے میں خوش ہو کر ہمیں کچھ انعام میں دے سکیں ۔۔۔‘‘میں نے سمجھاتے ہوئے کہا :’’ بات سنو پھدکو ،ہمیں اپنے کرتب شروع کرنے کی ضرورت ہے بس ۔۔۔یہ ہمیں دیکھیں گے تو اطراف میں جا کر دوسروں کو بتائیں گے ،یوں ہمارے ارد گرد بہت سے تماشائی خود بخود جمع ہوجائیں گے،تم فکر مت کرو۔۔۔‘‘

میری اس دلیل پر پھدکو کتا خاموش ہوگیا۔اس کی خاموشی دراصل آمادگی کا اظہار تھی ۔ہم نے اس میدان میں ایک جگہ منتخب کی اور اپنے کرتب شروع کردیے ۔

پھدکو کتا ،ہوا میں اچھل اچھل کر گلاٹیاں کھانے لگا اور میں نے اپنی بے ساکھی زمین پہ کھڑی کرکے اس کے سہارے گھومنا اور ناچنا شروع کردیا۔

ہماری ان حرکتوں کو دیکھ کر اطراف کی چیونٹیاں ،ٹڈے ،بھنورے ،بھیمریاں ،کیچوے اور دوسرے چھوٹے چھوٹے حشرات جمع ہونا شروع ہو گئے ۔انہیں یوں دائرے میں موجود دیکھ کر میں نے بندر کے بارے میں ایک دل چسپ سا گانا بھی گایا۔میرا گانا سن کر سارے جان داروں کومزہ آگیا۔وہ میرے ساتھ جھومنے لگے ۔کیچوے کلبلانے لگے ۔ٹڈوں نے اپنے پنجوں کو پروں سے رگڑنا بند کردیا اور آنکھیں گھما گھما کر پھدکو کتے کا کرتب اور میرا ناچ گانا دیکھنے لگے۔کیچوے بے اختیار میرے گانے کی تعریف کرنے لگے۔میں خوشی کے مارے اور اونچی آواز میں گانے لگا ،مستانے لگا ۔

تب ٹڈے اچانک ہی اپنے پنجوں کو گانے کی دھن پر اپنے پروں سے رگڑتے ہوئے بہترین موسیقی پیدا کرنے لگے ۔یوں دیکھتے ہی دیکھتے اس جنگل میں جیسے منگل ہو گیا ۔ہم ابھی اپنی اس کام یابی پرخوش ہو ہی رہے تھے کہ اچانک وہ ہوگیا جس کا ہم نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا ۔جس وقت پھدکو کتا ،اپنا کرتب دکھانے کے لیے گلاٹی کھا رہا تھا ،اور میں اپنی بیساکھی کے سہارے دائرے میں گھوم رہا تھا ،اس وقت میری آنکھوں نے وہ خوف نا ک منظر دیکھا۔وہ مخلوق اچانک ہی نکل کر ہمارے قریب پہنچ گئی تھی ۔

جی ہاں ۔۔۔انتہائی خوف ناک اور طاقت ور مخلوق جسے ہم سب انسان کہتے ہیں ۔ہاں۔۔۔وہ انسانوں کے بچے تھے ۔دو نوعمر لڑکے تھے۔اچانک ہی درختوں کے جھنڈ سے نکل کرہمارے قریب پہنچ گئے تھے ۔

اس سے پہلے کہ ہم سنبھلتے ان میں سے ایک نے چلا کر کہا :’’ ارے ،بہت پیارا کتا ہے ،پکڑو اسے ،بھاگنے نہ پائے ۔۔۔‘‘

دوسرے لڑکے نے اونچی آواز میں پوچھا:’’ اور یہ بھالو ۔۔۔؟‘‘

یہ سنتے ہی میرا خون خشک ہو گیا،پہلے لڑکے نے جلدی سے کہا :’’ لعنت بھیجو بھالو پہ اس کتے کو پکڑو ،جلدی کرو ۔۔۔‘‘

انہوں نے پھدکو کتے کی طرف دوڑ لگا دی ۔پھدکو کتا اس وقت تک گلاٹیاں بھول چکا تھا ۔وہ دونوں لڑکوں کو اپنی طرف دوڑتے دیکھ کر سر پہ پیر رکھ کر درختوں کی طرف بھاگا۔ دونوں لڑکے بھی اس کے پیچھے دوڑے ۔

میں اپنے سارے کرتب بھو ل گیا۔اپنی جگہ کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔دھڑکتے دل کے ساتھ اپنے دوست کے پیچھے خوف نا ک لڑکوں کو دوڑتے ہوئے دیکھنے لگا۔میری سٹی گم ہوگئی تھی ۔پھدکو کتا خود کو بچانے کے لیے جان توڑ کوشش کررہا تھا۔ بہت تیز بھاگ رہا تھا مگر لڑکے بھی کم نہیں تھے ۔پھر میں نے یہ بھیانک منظڑ بھی دیکھا کہ وہ دونوں لڑکے پھدکو کتے کے سر پہ پہنچ گئے ۔

اب مجھے کچھ نہ کچھ کرنا تھا ۔

کسی بھی طرح اپنے دوست کی جان بچانی تھی ۔

کیا کرنا ہوگا، یہ سوچنے کے لیے وقت درکار ہے،جب

کچھ کرسکوں گا تو آپ کو بتاؤںگا، اُس وقت تک کے لیے خالو بھالو آپ سے رخصت چاہتا ہے۔