• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن



قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کی جانب سے مالیاتی بل پیش کردیا گیا، اپوزیشن نے بل پیش کرنے پر ہنگامہ آرائی اور شور شرابہ شروع کردیا۔

اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، اسمبلی میں رولز معطل کرنے کی قرارداد منظور کرلی گئی، مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے ایوان میں رولز معطل کرنے کی قرارداد پیش کی۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے مالی ضمنی بل 2021 قومی اسمبلی میں پیش کیا، اپوزیشن نے مالیاتی ضمنی بل پیش کرنے پر شدید احتجاج کیا۔

وزیرخزانہ شوکت ترین کے بل پیش کرنے کے دوران اپوزیشن نے شور شرابہ کیا اور اپوزیشن ارکان نے ایوان میں نعرے بازی شروع کردی۔

اسپیکر قومی اسمبلی  نے  اپوزیشن ارکان سے اپنی نشستوں پر جانے کی اپیل کی۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے اعلان کیا کہ گنتی کےدوران توسیع کی قرار داد کےحق میں 145 ووٹ ہیں، اپوزیشن رکن شازیہ مری نے ایوان میں گنتی کو چیلنج کردیا۔

اسپیکر کی جانب سے آرڈیننس میں توسیع کی قرارداد منظور کرلی گئی۔

اپوزیشن رہنما نوید قمر نے ٹائم بار ہونے کے باعث آرڈیننس پیش کرنے کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ جو آرڈیننس پہلے ہی ختم ہوچکا ہے اس کی کیسے توسیع ہوسکتی ہے۔

بابر اعوان نے کہا کہ ہم نے آرڈیننس وقت ختم ہونے سے پہلے ایوان میں پیش کیے تھے۔

قومی اسمبی کا اجلاس جمعہ دن 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

’قوم شرمسار ہورہی ہے، ایوان میں کیا ہورہا ہے‘

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ آج عوام کی زباں بندی کر کے پاکستان کی معاشی خود مختاری بیچی جارہی ہے،  ساری قوم شرمسار ہورہی ہے کہ آج ایوان میں کیا ہورہا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ میری آواز کو نہ بند کریں مجھے بولنے دیں، میں بائیس کروڑ عوام کی بات کررہا ہوں  آپ معاشی طور پر ہمیں غلام کررہے ہیں۔

رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ پاکستان کی خود مختاری کو سرنڈر نہ کریں، آپ کی چئیر کو تین ایشوز پر شرمسار ہونا چاہیے، آپ نعرے لگاتے تھے دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیں گے، حکومت ساڑھے تین سال جھوٹ بولتی رہی ہے۔

طوفان کھڑا کیا گیا کہ حکومت جانے والی ہے، اسد عمر

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ کچھ ہفتوں سے طوفان کھڑا کیا گیا تھا کہ حکومت جانے والی ہے، آج ووٹوں کی گنتی کے دوران یہ تین سے زیادہ ووٹ کھڑے نہیں کرسکے۔

اسد عمر نے کہا کہ مسلمانوں کا خون کرنے والے نریندر مودی کو گھروں پر بلانے والے قومی سلامتی کی بات کرتے اچھے نہیں لگتے۔

وفاقی وزیر  نے کہا کہ کے پی کے نتائج پر جے یو آئی بات کرے تو سمجھ بھی آتی ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ شرم کی انتہا ہوتی ہے،  پاکستان کا لیڈر ہو کر پاکستان کے سرینڈر کی بات کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس  سے نمٹنے کے حوالے سے دنیا ہماری تعریفیں کرتی ہے۔

مالیاتی ضمنی بل2021 کےاہم نکات

قومی اسمبلی میں حکومت کی جانب سے  پیش کیے گئے  مالیاتی ضمنی بل 2021 کے اہم نکات سامنے آگئے۔

بل میں زیرو ریٹڈ انڈسٹری کے 6 آئٹمز پر جی ایس ٹی چھوٹ واپس لینے کی تجویز دی گئی ہے، امپورٹیڈ فارمولا دودھ، سائیکلوں پر دی گئی ٹیکس چھوٹ واپس لینےکی تجویز دی گئی۔

مالیاتی  ضمنی بل  کے مطابق زیرو ریٹڈ آئٹمز پر ٹیکس چھوٹ ختم ہونے سے ساڑھے 9 ارب روپے اضافی بوجھ پڑے گا، 59 امپورٹیڈ فوڈ آئٹمز پر دی گئی جی ایس ٹی چھوٹ بھی ختم کرنے کی تجویز دی گئی، امپورٹڈ فوڈ آئٹمز پر ٹیکس چھوٹ ختم ہونے سے 215 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

بل کے مطابق بیکری آئٹمز، برانڈڈ فوڈ آئٹمز پر بھی جی ایس ٹی چھوٹ واپس لینے کی تجویز دی گئی، پاور سیکٹر کے لیے امپورٹیڈ مشینری پر دی گئی چھوٹ واپس لینے کی تجویز بھی دی گئی۔

مالیاتی ضمنی  بل میں امپورٹیڈ موبائل فون پر17 فیصد اضافی ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی، گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس ایڈوانس ٹیکس میں 100 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی۔

بل میں غیر ملکی ٹی وی سیریلز اور ڈرامہ پر ایڈوانس ٹیکس عائد کرنے کی تجویز شامل ہے، جبکہ 1000 سی سی سے زائد گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز بھی دی گئی۔

ملٹی میڈیا ٹیکس بھی 10 سے بڑھا کر 17 فیصدکرنے کی تجویز ہے۔

بیٹری پر ٹیکس 12 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصدکرنے، ڈیوٹی فری شاپس پر 17 فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز ہے۔

بڑی کاروں پر 17 فیصد سیلز ٹیکس اور درآمدی الیکٹرک کاروں پر سیلز ٹیکس 5 سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

پوسٹ کے ذریعے پیکٹ ارسال کرنے پر 17 فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ادویات کے خام مال پر 17 فیصد جی ایس ٹی لگانے کی تجویز ہے۔

قومی خبریں سے مزید