• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وقت کے ساتھ بجلی بھی مہنگی ہورہی ہے، ایسے میں گرمیوں میں بجلی کی گھریلو طلب بڑھ جانے کے ساتھ اس کا بِل بھی بھاری ہونے لگتا ہے۔ بجلی کے بل کو کم رکھنےکے لیے ضروری ہے کہ گھر کی تعمیر ہی کچھ اس طرح کی جائے کہ اسے قدرتی طور پر ٹھنڈا رکھنے اور بجلی کم استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئے، ان گھروں کو ماحول دوست اور کم توانائی خرچ کرنے والے گھر کہا جاسکتا ہے۔ ایسے گھر صرف ماحول کے لیے ہی نہیں بلکہ آپ کی جیب کے لیے بھی اچھی ہوتے ہیں۔ 

مزید برآں ایسے گھروں کی ’’ری سیل ویلیو‘‘ بھی اچھی ہوتی ہے اور جب آپ اپنا گھر فروخت کے لیے مارکیٹ میں پیش کرتے ہیں تو یہ خصوصیات اسے دوسروں سے ممتاز بھی بناتی ہیں۔ اگر آپ اپنا گھر فروخت کرنے یا اس کی تزئین و آرائش کے بارے میں سوچ رہے ہیں یا گھر میں توانائی استعمال کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یا صرف اپنے ماہانہ بلوں میں پیسہ بچانا چاہتے ہیں، تو ذیل میں دیے گئے مشورے آپ کے لیے مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔

کم توانائی خرچ لائٹنگ

ٹائمر، ڈمر اور اسمارٹ لائٹنگ سسٹم، روشنی کو ضرورت کے مطابق کم زیادہ کرنے اور کسی بھی وقت آپ کو ضرورت کے مطابق مطلوبہ ماحول فراہم کرنا آسان بناتے ہیں۔ ان سسٹمز کو نصب کرنے سے گھر میں زیادہ لگژری کا احساس ملتا ہے اور گھر کے مالک کو طور پر یہ سسٹمز آپ کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ آپ بجلی کی بچت کرسکیں۔ ایک اور مددگار ٹپ؛ ایل ای ڈی لائٹ بلب روایتی بلب کے مقابلے میں 90 فی صد کم توانائی خرچ کرتے ہیں اور وہ 25 گنا زیادہ دیر تک چلتے ہیں۔ جب بھی ممکن ہو اپنی اِن ڈور اور آؤٹ ڈور لائٹس کو ایل ای ڈی بلب سے بدلنے پر غور کریں۔

LEEDسرٹیفیکیشن

امریکا سے تعلق رکھنے والی گرین بلڈنگ کونسل ان عمارتوں اور گھروں کو ’’لیڈرشپ اِن انرجی اینڈ انوائرنمنٹل ڈیزائن (LEED) سرٹیفیکیشن سے نوازتی ہے جو توانائی استعمال کی اعلیٰ کارکردگی اور ماحولیات دوستی کے معیار پر پورا اُترتے ہیں۔ کسی بھی عمارت یا گھر کی یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جو ممکنہ خریدار کو اپنی طرف فوری طور پر متوجہ کرسکتی ہے۔ مزید برآں، LEED سے تصدیق شدہ گھروں کو کم دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، دوسرے گھروں کے مقابلے میں تعمیر کرنے میں زیادہ لاگت نہیں آتی، اور گھر مالکان کو یوٹیلیٹی بلوں پر 20 سے30 فی صد بچت ہوتی ہے۔

پائیدار قدرتی مواد

ماحول دوست سوچ کے حامل افراد اور خاندان اپنے مستقبل کے ممکنہ گھر میں جہاں دیگر ماحول دوست خصوصیات کو مدِنظر رکھتے ہیں، وہاں وہ اس بات کو بھی ترجیح دیتے ہیں کہ گھر کی تعمیر میں بھی ماحول دوست اور قدرتی مواد کا استعمال کیا گیا ہو، جیسے لکڑی اور پتھر کا استعمال۔ اس طرح کے خریداروں کی یہ بھی کوشش ہوگی کہ گھر میں ناصرف قدرتی روشنی زیادہ سے زیادہ آئے بلکہ زیادہ سے زیادہ کمروں سے باہر کے نظارے بھی کیے جاسکیں۔ گھر مالک کے طور پر آپ گھر کی لینڈ اسکیپنگ پر بھی خصوصی توجہ دیں اور گھر کے درخت اور پودوں کو ان کی اصل شکل میں بحال رکھنے کا منصوبہ بنائیں۔

گارڈن ایریا

گھر خریداروں کی فہرست میں گھر کے ساتھ گارڈن ایریا کا ہونا ایک انتہائی مقبول فیچر ہے۔ بدلتی ماحولیات اور وَبائی مرض کے بعد بہت سے لوگ زیادہ سے زیادہ مقامی سطح پر دستیاب اور پائیدار کھانا کھانے کے مشن پر ہیں اور وہ گھر میں ایسی خصوصیات دیکھنا پسند کرتے ہیں جو ان کے ’’فارم ٹو ٹیبل‘‘ تصورات کو سچ کر سکیں۔

شمسی پینل

ہرچندکہ سولر پینلز کی اپنی قیمت اور ان کی تنصیب کی لاگت اتنی کم نہیں ہے لیکن چھتوں کے شمسی پینل بڑی مقدار میں توانائی پیدا کر سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر طویل مدت میں گھر کے مالک کو ماہانہ یوٹیلٹی بل میں بڑی بچت فراہم کرتے ہیں۔ شمسی پینل قابلِ تجدید توانائی حاصل کرنے کا ایک بہترین اور آسان ذریعہ ہیں اور یہ ماحول دوست ہیں۔ 

مزید برآں، اگر آپ ان شمسی پینلز کے ذریعے اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرتے ہیں تو اضافی بجلی نیشنل گرڈ کو بھی فراہم کرسکتے ہیں، اس طرح یہ سولر پینل آپ کے لیے آمدنی کا ایک ذریعہ بن جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ، امریکا اور دیگر کئی ملکوں میں جب کوئی سولر پینل لگاتا ہے تو وہ شخص رہائشی وفاقی ٹیکس کریڈٹ، پراپرٹی ٹیکس میں چھوٹ یا دیگر سرکاری ترغیبات کے لیے بھی اہل ہوجاتا ہے۔

انسولیشن

پاکستان میں ابھی تک عام گھروں کی انسولیشن پر خاص کام نہیں کیا گیا لیکن جس طرح سے بجلی مہنگی ہورہی ہے، لوگ مختلف طریقوں سے توانائی کی بچت کررہے ہیں۔ مغربی دنیا میں توانائی بچانے کا ایک اہم طریقہ گھر کی باقاعدہ انسولیشن کرانا ہے۔ انسولیشن سے مراد یہ ہے کہ گھر کے دروازوں اور کھڑکیوں سے کمرے کی ٹھنڈک یا گرمی باہر نہ جائے اور کسی بھی لیکیج، ڈکٹ، وینٹیلیشن وغیرہ کو اس طرح سے بند کردیا جائے کہ اس سے ہوا کا گزر نہ ہونے پائے۔ 

اس طرح کمرے اور گھر کا درجہ حرارت کم وقت میں مطلوبہ سطح پر آجاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ گرمیوں میں اگر آپ کمرے میں ایئرکنڈیشنر استعمال کرتے ہیں اور چونکہ کمرے کی باقاعدہ انسولیشن کی گئی ہے تو اس سے ٹھنڈی ہوا دروازے اور کھڑکیوں سے خارج نہیں ہوگی۔ اس طرح وہ کمرہ کم وقت میں مطلوبہ درجہ حرارت حاصل کرلے گا، بالکل ایسے ہی سردیوں میں آپ انورٹر ایئرکنڈیشنر یا ہیٹر استعمال کرتے ہیں تو بھی آپ کا کمرہ جلدی گرم ہوجائے گا۔

انرجی اسٹار اپلائنسز

امریکا میں انرجی اسٹار درجہ کے حامل اپلائنسز پر نیلے رنگ کا مربع شکل کا نشان لگاہوتا ہے اور ان اپلائنسز کو یہ نشان امریکا کے ماحولیاتی تحفظ کے ادارہ (ای پی اے) کی طرف سے جاری کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی انرجی اسٹار اپلائنسز کا رجحان بتدریج مقبول ہورہا ہے۔ یہ اپلائنسز کم توانائی استعمال کرتے ہیں جس کے نتیجے میں بجلی کے ماہانہ بل میں خاطر خواہ کمی ہوتی ہے۔