• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمیشہ جوان رہنا فرضی داستان ہوسکتی ہے، تاہم متوقع عمر میں اضافہ ایک حقیقت ہے۔ امریکا میں گزشتہ ایک صدی کے دوران پیدائش کے وقت متوقع عمر میں 30سال سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق 2022ء میں امریکیوں کی متوقع اوسط عمر 79.05سال ہے، جو 2021ء میں 78.99سال کی متوقع اوسط عمر کے مقابلے میں0.08فی صد زیادہ ہے۔

متوقع عمر میں اضافے کے ساتھ ایک سوال اُبھرتا ہے:کیا انسان متوقع عمر میں اضافے کے ساتھ صحت مند بھی رہ سکتا ہے؟ کیوں کہ عمومی طور پر انسان کی جیسے جیسے عمر ڈھلتی ہے، اس کی صحت بھی خراب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ امریکا کا ایک ادارہ ان عوامل پر تحقیق کررہا ہےجو امریکیوں کی لمبی عمر پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ کون سے طریقے ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر لوگ ہر ممکن حد تک صحت مند رہ سکتے ہیں اور حاصل ہونے والی اضافی عمر کو کس طرح معیاری اور پیداواری بناسکتے ہیں۔ 

ان تمام عوامل کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے صحت مند لمبی عمر (Healthy Aging)کا تصور پیش کیا گیا ہے اور اس کی تعریف کچھ اس طرح بیان کی گئی ہے: ’زائدالعمر افراد کی فلاح اور انھیں سرگرم رکھنے کے لیے ان کی جسمانی، دماغی (ذہانتی اور جذباتی)، روحانی اور سماجی طور پر ہر ممکن حد تک بہترین ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنانا‘۔ تاہم ’ہیلتھی ایجنگ‘ کی تعریف بیان کرنا اور اسے ممکن بنانا دو بالکل علیحدہ باتیں ہیں۔

اب تک سائنس کی مدد سے ہم ایسے کئی عناصر کے بارے میں جان چکے ہیں جو صحت مندلمبی عمر پر اثرانداز ہوتے ہیں، جیسے جینیاتی بناوٹ، خلیاتی حیاتیات، زندگی گزارنے کے روّیے، بڑھتی عمر سے متعلق ذاتی نقطہ نظر، سماجی سرگرمی اور ماحول۔ اور پھر لمبی عمر کے لیے ان تمام عوامل کی اہمیت کو تسلیم کرنا۔ 

ڈیمینشیا، دل کے امراض، ذیابطیس اور کینسر جیسے موذی امراض کے برعکس، عمر کا بڑھنا کوئی ’بیماری‘ نہیں ہے، یہ ایک عمل کا نام ہے جو پیدائش سے لے کر موت تک جاری رہتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ کسی کی قبل از وقت موت میں اس کی صحت کی دیکھ بھال سے زیادہ اس کے سماجی اور حیاتی روّیے کا عمل دخل زیادہ ہوتا ہے۔

صحت مند طویل عمر کے بارے میں امریکا اور اس سے باہر کئی بنیادی سوالات پائے جاتے ہیں۔ ان سوالات پر غور کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ لمبی عمر سے متعلق روایتی سوچ بذات خود صحت کی دشمن ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ لمبی عمر سے متعلق منفی خیالا ت متوقع زندگی میں7.5سال کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔ 19ویں صدی کی ابتدا میں امریکا میں پیدائش کے وقت متوقع عمر 50سال کے اندر تھی اور بہت کم امریکی 65سال کی عمر تک زندہ رہتے تھے۔ نتیجتاً، لوگ لمبی عمر تک زندہ رہنے کی توقع ہی نہیں رکھتے تھے اور صحت مند لمبی عمر کا تصور نہیں تھا۔

اب صحت مند رہتےہوئے لمبی عمر پانا عالمی رجحان کی حیثیت اختیار کرچکا ہےاور دنیا میں 60سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعدادایک ارب سے تجاوز کرگئی ہے۔ اس وقت انسان کی اوسط متوقع عمر 80سال کے آس پاس ہے اور توقع ہے کہ مستقبل میں اوسط متوقع عمر 125سال کے لگ بھگ تک جاپہنچے گی۔ ایسے میں ان عوامل پر زیادہ سے زیادہ توجہ دی جارہی ہے، جن کی وجہ سے انسان 80سال، 90سال اور 100سال کی عمر پاسکتا ہے۔

دنیا بھر میں، مجموعی آبادی میں ضعیف العمر افراد کی بڑھتی ہوئی شرح کو اب ’نیو نارمل‘کہا جارہا ہے، جس سے اس بات کی نفی ہوتی ہے کہ ضعیف العمری صرف ترقی یافتہ ملکوں کا مسئلہ ہے۔ ہرچندکہ جاپان اور یورپی ممالک میں ضعیف العمر افراد کی شرح سب سے زیادہ ہے، تاہم ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکا میں بھی یہ شرح بڑھ رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی عالمگیریت اور شہری آبادی کے نتیجے میں خاندان اب پہلے کی نسبت سفر میں زیادہ رہتے ہیں، سوشل سپورٹ نیٹ ورک کمزور پڑ رہے ہیں، ہیلتھ کیئر سسٹم ناکافی ثابت ہورہا ہے اور ضعیف العمر افراد کو اکثر دور دراز علاقوں میں اپنی مدد آپ کے تحت چھوڑ دیا جاتا ہے یا پھر انھیں کہا جاتا ہے کہ وہ چھوٹے بچوں کا خیال رکھیں۔

خوش قسمتی سے، کچھ ممالک ایسے ہیں جو ضعیف العمرافراد کے لیے خصوصی انتظامات کررہے ہیں، ان خصوصی اقدامات میں ڈیمینشیا دوست کمیونٹیز کی تعمیر شامل ہے۔ دنیا بھر میں ضعیف العمری کو کمزوری، تنہائی اور غربت سے تشبیہہ دی جاتی ہے اور 90سال کی عمر میں کسی شخص کے دوڑ میں شرکت کرنے کو شاذونادر اور غیرمعمولی تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم، صحت مند لمبی عمر کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس عمر میں بھی ہر شخص ہر معاملے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عمر رسیدہ افراد زندگی کو بھرپور طریقے سے گزارسکیں۔

بڑے پیمانے پر تبدیلی لانے کے لیے کثیرالجہتی عوامل جیسے عمر رسیدہ افراد کے لیے خدمات کی فراہمی جیسے کہ سرکاری شعبہ میں صحت کی سہولتوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے، جس کے لیے پالیسی سازوں، صحت کے شعبہ میں خدمات دینے والے پروفیشنلز، خاندانوں اور خود عمر رسیدہ افراد کو کام کرنا ہوگا۔ ہم سب کو مل کر دنیا میں ایک ایسا ماحول تخلیق کرنا ہوگا، جہاں عمر رسیدہ افراد چاہے گھر پر رہیں یا کمیونٹی میں یا پھر روزانہ دفتر جاتے ہوں، وہ ہر جگہ متحرک اور بار آور ثابت ہوں۔ بحیثیت مجموعی، معاشرے کے لیے یہی صورتحال سب سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔