• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2 ہزار سے زائد نغمات کے خالق ریاض الرحمان ساغر کی 9 ویں برسی منائی گئی

لاہور (این این آئی) یکم دسمبر1941ء کو بٹھنڈا (بھارت) میں پیدا ہونے والے ریاض الرحمان ساغر شاعر بھی تھے اور فلمی گیت نگار بھی۔ انہوں نے صحافت بھی کی اور کالم نویسی میں بھی نام کمایا۔ اس کے علاوہ ساغر صاحب نے مکالمہ نگار اور سکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے بھی اپنی صلاحیتوں کا سکہ جمایا۔ انہوں نے پاکستانی فلموں، ریڈیو اور ٹی وی کیلئے 2000سے زیادہ نغمات تخلیق کیے۔ اسی طرح انہوں نے75فلموں کے مکالمے اور سکرپٹ لکھے۔ ریاض الرحمان ساغر کے فلمی گیتوں کی کتاب ʼʼمیں نے جو گیت لکھےʼʼ کے نام سے شائع ہوئی۔ اس طرح ان کی نثری تصنیفات میںʼʼوہ بھی کیا دن تھے(خود نوشت)، کیمرہ، قلم اور دنیا(سات ملکوں کے سفر نامے)، لاہور تا ممبئی براستہ دہلی(سفر نامہ)، سرکاری مہمان خانہ(جیل میں بیتے لمحات پرمبنی کتاب)ʼʼ شامل ہیں۔ اسی طرح ان کی شاعری کی بھی کئی کتابیں منظر عام پر آئیں۔ ان میں ʼʼچاند سْر ستارے، آنگن آنگن تارے(اس کتاب میں شائع ہونے والی بچوں کی نظمیں سرکاری ٹی وی پر پیش کی گئیں)، سورج کب نکلے گاʼʼ(نامکمل خود نوشت) شامل ہیں۔ ساغر صاحب نے غزلیں بھی لکھیں اور نظمیں بھی۔ خاص طور پر ان کی سیاسی نظمیں بہت مقبول ہوئیں۔ ساغر نے بہت کام کیا اور وہ کثیر الجہت شخصیت کے مالک تھے۔ ریاض الرحمان ساغر نے 1958ء میں پہلا فلمی گیت لکھا لیکن جس فلم کیلئے لکھا وہ ریلیز نہ ہو سکی۔ ان کی جو پہلی فلم ریلیز ہوئی، اس کا نام تھاʼʼعالیہʼʼ لیکن انہیں اصل شہرت فلم ʼʼشریک حیاتʼʼ کے اس گیت سے ملی ʼʼمرے دل کے صنم خانے میں ایک تصویر ایسی ہےʼʼ۔ انہوں نے ایک پنجابی فلم ʼʼعشق خداʼʼ کیلئے بھی گیت لکھے جو ان کی وفات کے بعد ریلیز ہوئی۔ انہوں نے جن مشہورفلموں کے مکالمے اور سکرپٹ لکھے ان میں ʼʼشمع، نوکر، سسرال، شبانہ، نذرانہ، عورت ایک پہیلی، آواز، بھروسہ، ترانہ اور مورʼʼ شامل ہیں۔ یکم جون 2013 کو ریاض الرحمان ساغر اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔

دل لگی سے مزید