میں کراچی کے مضافاتی علاقے کی جانب روان دواں تھا جسے لنک روڈ کہا جاتا ہے۔ یہ علاقہ کراچی کی نیشنل ہائی وے اور سپر ہائی وے کے درمیان کا علاقہ کہلاتا ہے۔ یہاں مجھے کچھ دوستوں کی دعوت پر بیت السلام نامی ایک دینی و فلاحی تنظیم کے تعلیمی مرکز کا دورہ کرنا تھا جہاں طالب علموں کو نہ صرف دینی ودنیاوی تعلیم مفت فراہم کی جاتی ہے بلکہ انھیں معیاری رہائش اور بہترین کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے تاکہ یہاں آنے والاہرطالب علم تمام فکروں سے آزاد ہوکر صرف اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز رکھ سکے۔حقیقت یہ ہے کہ اس سے قبل میں ان بہت سے مدارس کا ناقد رہا ہوں جہاں ہمارے گائوں دیہات اور شہروں میں رہنے والے افراد اپنے بچوں کوصرف غربت کے سبب ایسے مدارس میں داخل کرادیتے ہیں جہاں مفت رہائش، کھانا اور قرآنی تعلیم فراہم کی جاتی ہے لیکن دنیاوی تعلیم نہ ہونے کے باعث یہ بچے آگے چل کر معاشرے کے وہ ثمرات حاصل نہیں کرپاتے جو ان کا حق ہے اورآ ٓگے چل کر یہ بچے معاشرے کے کارآمد شہری نہیں بن پاتے، یہی وجہ تھی کہ جب مجھے بیت السلام نامی اس تنظیم کے بارے میں معلوم ہوا کہ یہاں طالب علموں کو مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ او لیول اور اے لیول کی تعلیم بھی مفت دی جاتی ہے اور گریجویشن اور ماسٹرز ڈگری کے لئے بھی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں تو اس ادارے میں میری دلچسپی بڑھی اور اب سے کچھ دیر بعد میں یہاں پہنچنے والا تھا، اگلے چند لمحوں بعد ہی احمد عبدالستار، جو یہاں تک لانے میں میری رہنمائی کر رہے تھے، نے مجھے آگاہ کیا کہ سامنے نظر آنے والی خوبصورت عمارت ہی بیت السلام کا تعلیمی مرکز ہے، بلاشبہ جو عمارت سامنے نظر آرہی تھی وہ ان سینکڑوں نجی تعلیمی اداروں سے بہت بہتر تھی جہاں لاکھوں روپے لےکر بھی غیر معیاری تعلیم فراہم کی جاتی ہے، چند لمحوں بعد ہم اس مرکز میں داخل ہوچکے تھے، خوش قسمتی سے آج معروف عالم دین اور بیت السلام ویلفیئر ٹرسٹ کے سربراہ مولانا عبدالستار بھی ادارے میں موجود تھے، ان سے بھی ملاقات ہوئی اور سوال جواب کا ایک طویل سیشن بھی ہوا۔ مولانا عبدالستار صاحب اور ان کے ساتھیوں نے دوہزاردس میں خیبر پختوانخوا اور آزاد کشمیر میں آنے والے خطرناک زلزلوں کے دوران تیس سے چالیس افرا د کی ٹیم کے ساتھ زلزلہ زدگان کیلئے ویلفیئر کا باقائدہ آغاز کیا اور پھر اس کام میں ایسا دل لگا کہ صرف بارہ سال میں شاید ہی پاکستان میں کوئی اور تنظیم اتنا منظم اور جامع ویلفیئر کا کام کر رہی ہو، اس وقت بیت السلام کے زیر اہتمام ملک بھر میں چالیس ہزار طالب علم دینی و دنیاوی تعلیم بالکل مفت حاصل کر رہے ہیں، یہاں کے طالب علموں نے حال ہی میں نسٹ اسلام آباد میں روبوٹکس کے مقابلوں میں نہ صرف شرکت کی بلکہ کامیابی بھی حاصل کی، صرف گزشتہ ایک سال کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق بقر عید کے موقع پر اجتماعی قربانیوں کے ذریعے ستر لاکھ غریب افراد میں گوشت تقسیم کیا گیا، سات لاکھ افراد میں راشن تقسیم کیا گیا، ڈیڑھ لاکھ افراد کو رمضان المبارک میں نقد امداد تقسیم کی گئی، ملک کے غریب علاقوں میں پانی کے منصوبوں سے پینسٹھ ہزار افراد کو پینے کے پانی کی سہولتیں فراہم کی گئیں، اسی ہزار افراد کو علاج معالجے اور پانچ سو یتیم بچوں کی ماہانہ کفالت کی جا رہی ہے، چالیس ہزار بچوں کو اسکالر شپس فراہم کی جا رہی ہیں، دس ایمبولینسںگاڑیاں مصروف عمل ہیں، مولانا عبدالستار نے بتایاکہ جدید لیب تیار کی جارہی ہے تاکہ غریب افراد کو مفت لیب ٹیسٹنگ کی سہولت بھی فراہم کی جا سکے، صرف یہی نہیں بلکہ اسلام آباد میں کیڈٹ کالج میں اس سال سے تعلیمی سیشن کا آغاز ہو جائے گا، اسلام آباد میں ہی پاکستان بھر کے غریب بچوں کے لئے ہاسٹل تیار کیا جا رہا ہے جنھیں وہاں رہائش کی سہولتوں کے ساتھ اسلام آباد کی جدید یونیورسٹیوں میں تعلیم کے حصول کےلئے وظیفہ بھی فراہم کیا جائے گا، میرے سوال پر اتنی بڑی تعداد میں ویلفیئر کی خدمات انجام دینے کے لیے فنڈز کیسے جمع کرتے ہیں تو مولانا نے فرمایا کہ پاکستانی قوم بہت بڑے دل کی مالک ہے اگر اسے یقین ہو جائے کہ ان کا پیسہ ٹھیک جگہ استعمال ہو رہا ہے تو وہ کبھی کمی نہیں آنے دیتے، بیت السلام کے تعلیمی مرکز میں اٹھارہ سو بچے دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کررہے ہیں، یہاں کے طالب علموں سے ملنے کے بعد میں یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہاں کا فارغ التحصیل طالب علم ایک حافظ قرآن، ایک او لیول اور اے لیول گریجویٹ، ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین انگریزی، بہترین عربی ا ور بہترین اردو زبان لکھنے اور بولنے کا ماہر بھی ہوگا۔ امید ہے بیت السلام ہر شہر میں ایسی ہی درسگاہیں تعمیر کرے گی اور قوم انہیں سپورٹ کرے گی۔