جاپان نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف اپنی سخت پالیسی مزید تیز کرتے ہوئے گزشتہ سال ریکارڈ 318 افراد کو زبردستی ملک بدر کر دیا، جو دو سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔
جاپانی امیگریشن حکام کے مطابق یہ کارروائیاں ابھی شروعات ہیں اور حکومت کا واضح ہدف ملک میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی تعداد کو صفر تک لانا ہے۔ امیگریشن ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ 2027 تک جبری بے دخلیوں کی تعداد بڑھا کر سالانہ 500 تک پہنچانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال سب سے زیادہ 71 ترک شہریوں کو ملک بدر کیا گیا، جبکہ فلپائن کے 46 شہری بھی اس فہرست میں شامل رہے۔ ایک نمایاں کیس میں ایک شخص نے چار مرتبہ بے دخلی کے احکامات کو نظر انداز کیا۔
اس کا مؤقف تھا کہ وہ اپنی جاپانی اہلیہ کے ساتھ رہنا چاہتا ہے، تاہم حکام نے اسے ہتھکڑی لگا کر ہنیدا ایئر پورٹ سے طیارے کے ذریعے واپس اس کے ملک روانہ کر دیا۔ ایک جاپانی امیگریشن افسر نے اس حوالے سے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جو غیر ملکی قوانین کی پاسداری نہیں کرتے، ان کے خلاف سخت کارروائی کرنا ایک فطری عمل ہے۔
جاپان کی اس سخت پالیسی نے مغربی ممالک میں بھی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں امیگریشن قوانین اور غیر قانونی تارکینِ وطن کے معاملے پر اکثر سیاسی اور سماجی اختلافات دیکھنے میں آتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان اپنی داخلی سلامتی، قانونی نظام اور سماجی نظم کو برقرار رکھنے کے لیے امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد کر رہا ہے، جبکہ ناقدین اسے انسانی حقوق کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔