کراچی (نیو زڈیسک) ترک صدر طیب اردوان نے ترکی کے نیوز رومز کو کیسے قابو کیا؟ جب ترک صدر طیب اردوان کے داماد نے 2020ء کے آخر میں اچانک وزیر خزانہ کے عہدے سے استعفیٰ دیا ، ترکی کے معروف نیوز رومز کے چار عملے نے کہا کہ انہیں اپنے منیجرز کی طرف سے واضح ہدایت موصول ہوئی کہ اس کی اطلاع اس وقت تک نہ دیں جب تک حکومت ایسا کرنے کا نہ کہے ۔ برات البیرک نے خود استعفیٰ دیا لیکن 24؍ گھنٹے سے زائد عرصے تک حکومت کے حامی ٹی وی اسٹیشنوں اور اخبارات جو ملک کے میڈیا کے منظر نامے پر حاوی ہیں، تقریباً دو دہائیوں سے برسراقتدار اردگان کے اندرونی حلقوں میں سب سے زیادہ ڈرامائی دراڑ کے بارے میں عملی طور پر خاموش رہے۔یہ واقعہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ کس طرح ترکی کا مرکزی دھارے کا میڈیا، ایک بار پھر حکومت کی طرف سے منظور شدہ شہ سرخیوں، صفحہ اول کی خبروں اور ٹی وی بحث کے عنوانات کی ایک مضبوط سلسلہ بن گیا ہے۔ میڈیا، سرکاری حکام اور ریگولیٹرز کے درجنوں ذرائع کے انٹرویوز ایک ایسی صنعت کی تصویر کشی کرتے ہیں جو دیگر سابقہ آزاد اداروں کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے جسے اردوان نے اپنی مرضی سے جھکا رکھا ہے۔