• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کب تک پیٹرولیم مصنوعات مہنگا خرید کر سستا بیچتے چلے جائیں؟مصدق ملک کا سوال

وفاقی وزیر سینیٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ چار ہفتے ہوچکے ہیں پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں ہے، مہنگا خرید کر سستا بیچتے چلے جائیں گے تو یہ کب تک چلے گا۔

وفاقی وزیر عطا تارڑ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں مصدق ملک نے کہا کہ 3 ساڑھے 3 ہفتے حکومت مہنگائی کے خلاف دیوار بن کر کھڑی رہی، 129 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں سے کاٹ کر عوام کو دیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ کفایت شعاری اقدامات سے بچائے گئے پیسے ذمے داری کے ساتھ خرچ کیے گئے، غیر ملکی ذخائر کم ہونا شروع ہوں تو سوچنا پڑے گا کہ کس مقام پر ہمیں رکنا ہے۔

وفاقی وزیر نےمزید کہا کہ تیل لانے کے لیے ڈالر ہی نہ رہے تو بڑے بھاری دل سے پیٹرولم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ کیا گیا، وزیراعظم کی ہدایت تھی کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا بوجھ غریب عوام پر نہ ڈالا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ مفت کی گئی، کسانوں کو 15 سو روپے فی ایکڑ سبسڈی دی جائے گی، موجودہ صورتحال میں بلاضرورت گاڑی کا استعمال نہ کیا جائے۔

سینیٹر مصدق ملک نے یہ بھی کہا کہ موٹرسائیکل کے لیے پیٹرول پر ہر لیٹر کے لیے 100 روپے سبسڈی دی جائے گی، انہیں مارکیٹ ریٹ سے پیٹرول کی 100 روپے کم قیمت دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ غریب وہ ہے جو لاری اڈے سے بس میں بیٹھ کر سفر کرتا ہے، بسوں کو 1 لاکھ روپے کی ماہانہ سبسڈی دی جارہی ہے اور ساتھ ہی ہدایت کی ہے کہ کرایہ نہیں بڑھایا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کل وزیراعظم نے مڈل کلاس کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرول کی قیمت 80 روپے کم کی، اب سبسڈی والوں کو 378 روپے والا پیٹرول 278 روپے لیٹر ملے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ عوام کو بھی پیٹرول کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا، موجودہ صورتحال میں بلاضرورت گاڑی کا استعمال نہ کیا جائے۔

قومی خبریں سے مزید