• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ویسے تو ہر شہر میں تانگے ہوتے ہیں جن میں سواری کے لئے آگے کی طرف اور پیچھے کی طرف نشست کا انتظام ہوتا ہے مگر عروس البلاد کراچی کی گھوڑا گاڑی دوسرے شہروں سے اپنی خوبصورتی کے باعث ہمیشہ ممتاز رہی آرام دہ نشستیں، سواریوں کے لئے آمنے سامنے بیٹھنے کا انتظام ،سر پر دھوپ سے بچنے کے لئے سایہ، گاڑی بان کی نسبتا اونچی نشست اور ساتھ ہی تیل سے جلنے والے دو لالٹین روشنیوں کے شہر کی انفرادیت تھے مگر اب یہ گھوڑا گاڑیاں ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔ 

انتہائی تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتا کراچی بسوں گاڑیوں رکشہ اور موٹر سائکلوں کے بے ہنگم اژدہام کے باعث اپنی روایات سے بہت آگے نکل آیا ہے مجھے یاد ہے لکھپتی ہوٹل کے سامنے بہت سی گھوڑا گاڑیاں کھڑی سواریوں کا انتظار کرتی ، ہمارے ابو دادا چچا اور دو ملازم جو قریب ہی رہتے تھے روزانہ صبح ایک مخصوص گھوڑا گاڑی میں دکان جایا کرتے اور شام کو واپسی بھی اسی گھوڑا گاڑی میں ہوتی وہ گاڑی بان دونوں وقت انتظار کرتا یاد نہیں کہ اسے اجرت ماہانہ بنیاد پر دی جاتی تھی یا روزانہ مگر سواری مخصوص تھی بچپن میں جب اسکول کی سالانہ چھٹیوں میں ہمارا بھی دل کرتا تو ہم بھی ابو کے ساتھ اسی سواری میں دکان چلے جاتے اور واپسی میں چیزوں سے لدے پھندے شاہی سواری میں سوار ہوتے۔

ظاہر ہے تیز رفتاری کی خواہش اس سست رفتار سواری سے کبھی مبدل نہیں ہوسکے گی مگر یہ ایک خوبصورت یاد بن کر ہمیشہ ہمارے اذہان میں ترو تازہ رہے گی۔ (محمد مصطفی سانوریا)