• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جب ہنستے کھیلتے بچوں کو مین ہول اپنے اندر گُم کردے۔ جب ماں اور بچے کو کھلا گٹرموت کے کنویں کی طرح اپنے اندر اتار لے۔ جب کھلے نالے اژدھے کی طرح منہ کھولے انسانوں کو نگلنے کیلئے تیار بیٹھے ہوں۔ جب گنجان آباد علاقے میں غیر قانونی گیس سلینڈرز کا کاروبار ہورہا ہو اور گیس سلینڈر کے پھٹنے سے عمارتوں کی تباہی کے ساتھ ساتھ انسان بھی آگ اور دھویں میں سوختہ ہوجائیں۔

جب کثیر المنزلہ عمارتوں میں آگ لگنے کی صورت میں باہر نکلنے کا راستہ ناملنے پر لوگ جل کر خاکستر ہوجائیں۔ جب گھر میں سوئی گیس کھینچنے والی مشین کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھے اور گھر والی تیسرے درجے کے جھلسنے کے زخموں کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار جائے۔ 

جہاں تنگ گلیوں والے علاقوں میں آتشبازی کا سامان تیار ہورہا ہو۔ جہاں پیٹرول اور تیزاب آسانی سے پانی کی خالی بوتلوں میں کھلے عام مل جاتا ہو۔ جہاں رکشہ اور وین بغیر سیفٹی کے غیر معیاری گیس سلینڈروں سے چلائے جارہے ہوں اور حادثے کی صورت میں اسکول جانے والے بچے جھلس جائیں تو کیا کیا جائے…؟ 

منہ اٹھاکر حکومتی اداروں کی طرف دیکھا جائے جو خود کو سنبھال نا سکتے ہوں، جو پیسوں سے بھرے بریف کیس کے عوض غیر قانونی عمارات کی تعمیر کی اجازت دے دیں، جو پیسوں کے عوض بغیر ایمرجنسی راستوں کے عمارات اور ان پر مزید منزلیں تعمیر کرنے کی اجازت دے دیں، جہاں تعمیرات کے نام پر سڑکیں کھود کر چھوڑدی جائیں۔ 

کھلے نالے کچرے سے اٹے ہوں اور گٹر کے ڈھکن روز غائب ہوجاتے ہوں اور ذمہ داروں کے کان پر جوں نارینگتی ہو۔ جہاں ہر حادثے سانجے اور ہنگامی صورتحال میں ریاست اور اداروں کی طرف سے بیانات، سیاسی بیانات، الزام تراشی، تحقیقاتی کمیشن اور اس کے بعد انتظار اور صرف انتظار مزید کسی سانحے حادثے اور المیے کا … ویسے بھی جب ریاست اور ادارے خود کو سنبھالنے اور سنوارنے میں لگے ہوئے ہوں تو ساری ذمہ داری عوام کی ہوتی ہے، خصوصاً عورتوں کی کہ وہ ’’ نصف سے زیادہ ہیں۔

یہ درست ہے کہ ریاستی اداروں کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے، مگر کیا ہم خود ذمہ دار شہری ہیں…؟ سوچئے کیا ہم اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں؟

ہم کھلے مین ہول اور نالے کے پاس سے بچ کر گزر جاتے ہیں۔ کیا ہم نے اجتماعی طور پر انتظامیہ کو اطلاع دی۔؟ وہاں سے مسئلہ حل نا ہونے کی صورت میں کیا ہم نے محلے والوں کے ساتھ مل کر اس کھلے مین ہول یا گٹر پر ڈھکن لگانے کی کوشش کی۔ نہیں نا۔ 

یاد رکھیں یہاں پرہم اور ہمارے بچے چلتے پھرتے اور کھیلتے ہیں۔ ارباب اختیار یہاں صرف حادثے کے بعد آتے ہیں تصویر اور بیان کیلئے، کیوں کہ وہ خود تو اعلیٰ طبقے کے علاقے میں رہتے ہیں اور ان کے بچے گلیوں اور سڑکوں کی بجائے کسی پارک یا کلب میں کھیل رہے ہوتے ہیں اورکیا ہم بچوں کو اسکول میں داخل کرواتے وقت وہاں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی سہولتوں کے متعلق سوال کرتے ہیں۔

کیا ہم کثیر المنزلہ عمارتوں میں فلیٹ خریدتے وقت وہاں ہنگامی حالات یا حادثے سے نمٹنے کی سہولیات کا جائزہ لیتے ہیں۔ اگر کسی گلی یا محلے میں آتش بازی کا سامان تیار ہورہا ہو تو کیا ہم انتظامیہ کو خبر کرتے ہیں۔( گر چہ وہ پہلے ہی باخبر ہوتی ہے)

کیا جب ہم بازاروں اور گلیوں کے بیچ غیر قانونی گیس سلینڈز کا کاروبار ہوتے دیکھتے ہیں تو کیا کسی ادارے میں شکایت درج کرواتے ہیں کیا بچوں کی اسکول وین اور ڈرائیور کو چیک کرتے ہیں کہ، بچے غیر محفوظ تو نہیں ۔ یقیناً ہمارا جواب نفی میں ہے۔

دنیا حادثوں سے سبق حاصل کرتی ہے اور اپنی زندگیوں کو محفوظ بنانے کیلئے اقدامات کرتی ہے۔ لیکن ہم حادثے کے بعد چند روز دکھ اور غم کی حالت میں محتاط رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اللہ کی مرضی سمجھ کر دل کو تسلی دیتے ہیں اور اپنے معمول پر آجاتے ہیں۔ موت کے بعد اجزا کا پریشان ہونا تو ممکن ہی ہے، مگر سچ تو یہ ہے کہ ہم نے اپنے اجتماعی شعور کے اجزا کو پریشان کررکھا ہے۔ کیا کیا جائے سوچیں، سمجھیں اور دوسروں کو بتائیں۔ ہمارا خیال ہے کہ،

٭ انتظامی سطح پر گورننس بہتر ہونی چاہیے۔ اس کے لئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

٭ تعلیمی اداروں کی سطح پر اسکاؤٹنگ ،گرل فائر فائٹنگ کی ابتدائی تربیت کا طریقہ اپنانے کی ضرورت ہے۔

٭ اسی طرح کے چھوٹے چھوٹے کورس محلوں گلیوں اور یونین کونسلوں تک پھیلانے کی ضرورت ہے،تاکہ ہنگامی صورت میں فوری اقدامات کرکے خطرات کو سنگینی کی طرف جانے سے روکا جاسکے۔

٭ کھلے مین ہولز اور گٹروں کیلئے متعلقہ اداروں کو اطلاع دینا بھی ضروری ہے۔ گٹر کے ڈھکن زیادہ تر نشے کے عادی افراد چراتے ہیں، جو اکثر پلوں کے نیچے یا کچرے کے پاس بیٹھے ہوتے ہیں، ان لوگوں کو ایدھی جیسے اداروں میں جمع کرواکر ان کے علاج میں معاونت کی ضرورت ہے۔

٭ خواتین اپنے گھروں میں کسی بھی حادثے اور سانحے سے بچنے کی تدابیر اختیار کریں۔ خواتین موبائل استعمال کریں ٹک ٹاک دیکھیں، چیٹ بھی کریں مگر ساتھ ہی ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تراکیب اور معلومات گوگل سے حاصل کریں اور دوسری بہنوں کو واٹس ایپ کریں۔

٭ گھر کے افراد اور بچوں کو سکھائیں کہ کوئی حادثہ ہوجائے تو ویڈیو بنانے کی بجائے لوگوں کی مدد کریں۔

٭ گھر میں فائر بلینکٹ رکھیں، ممکن ہو تو فائر الارم لگوائیں۔ گھر میں اور کام کی جگہ پر آگ بجھانے والا آلہ کا انتظام کریں اور اس کا استعمال سیکھیں۔

٭ فرسٹ ایڈ کی ٹریننگ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ ہم حادثات ، سانحات اور المیوں سے بچ سکتے ہیں صرف شعور آگہی ، تعلیم ،تربیت اور احساس ذمہ داری کے ساتھ۔

جس طرح تعلیم سب کے لئے اسی طرح ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی بنیادی تربیت سب کے لئے کا پیغام اپناکر۔