• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محبوب انصاری

کراچی کا نقشہ دیکھیں تو ہنسی بھی آتی ہے اور افسوس بھی۔ لگتا ہے جیسے کسی نے مذاق میں پورا شہر ناموں سے بھر دیا ہو، کہیں کنواری کالونی، کہیں گیدڑ کالونی، ادھر مچھر کالونی، جوتا کالونی، ڈسکو موڑ، انڈا موڑ، اچانک ہوٹل، ناگن چورنگی، سپرا ہائٹس، پرفیوم چوک، کورنگی کراسنگ، نیلا پیلا اسکول۔ یہ سب سن کر لگتا ہے کہ شہر کسی فنکار نے نہیں بلکہ کسی بے تکے مزاح نگار نے بسایا ہو۔یہ وہی لوگ ہیں جو ہجرت کے بعد ہندوستان سے آ کر کراچی کے مالک بن بیٹھے۔

خود کو پڑھے لکھے اور مہذب کہتے رہے اور فخر سے بولتے تھے کہ ہم نے یہاں کے شہریوں کو تہذیب سکھائی۔ لیکن جن کے ذوق کی پہچان پاپوش نگر یعنی جوتا کالونی اور کریلا موڑ جیسے نام ہوں، ان کے دعوے خود ہی منہ چڑاتے ہیں۔ پاپوش فارسی میں جوتے کو کہتے ہیں۔ ذرا سوچیے، ایک بستی کا نام جوتا رکھ دینا اور پھر خود کو مہذب کہنا، یہی وہ تضاد ہے جس نے کراچی کو بدصورت بنایا۔ نہ زبان میں وقار رہا، نہ شناخت میں معیار۔

کورنگی کراسنگ
کورنگی کراسنگ 

دنیا کے بڑے شہروں میں علاقوں کے نام تاریخ، ثقافت اور عظیم شخصیات سے جڑے ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں نام رکھنا مزاح یا دکان کی پہچان کا معاملہ بن گیا۔ ڈسکو موڑ شاید کسی پرانے ڈسکو کلب سے جڑا ہوگا، انڈا موڑ کسی ٹھیلے سے، اچانک ہوٹل کسی ایسے چائے خانے سے جہاں باتیں اچانک لمبی ہو جاتیں۔ یعنی شناخت بھی مزاح، اور یادیں بھی تلخ۔یہ نام صرف اتفاق نہیں بلکہ ایک ذہنیت کا نتیجہ ہیں۔ وہ ذہنیت جو ہندوستان سے آئے بھارتی مسلمانوں کی تھی، جو سمجھتے تھے کہ کراچی خالی میدان ہے اور یہاں وہ جو چاہیں کریں۔ 

مچھر کالونی
مچھر کالونی

ان بھارتی مسلمانوں نے اپنی محدود سوچ کے مطابق شہر بسایا، زبان بگاڑی، ثقافت بگاڑی اور ہر چیز کو اپنی عادت کے مطابق ڈھالا۔ یہی وہ جاہلانہ ورثہ ہے جو آج تک کراچی کے محلوں پر لکھا ہے۔ ہر نام چیخ کر کہتا ہے، یہ شہر سوچنے والوں نے نہیں، بسنے والوں نے بسایا۔ اب وقت ہے کہ کراچی کے یہ نام بدلے جائیں۔

کالا اسکول کو پبلک اسکول بنایا جائے، پاپوش نگر کو گلزار نگر، گیدڑ کالونی کو امن کالونی، کریلا موڑ کو قائد موڑ کا نام دیا جائے۔ یہ تبدیلی صرف تختیوں پر نہیں، سوچ میں آنی چاہیے، کیونکہ جب تک ہم زبان اور ناموں کی عزت نہیں کریں گے، یہ شہر تہذیب نہیں، صرف بدنظمی کی علامت بنا رہے گا۔ کراچی کا اصل چہرہ تب نکھرے گا، جب اس کے محلوں کے ناموں سے جہالت کی بدبو نہیں، شناخت کی خوشبو آئے گی۔