• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماضی کے ’’کاریگر‘‘ گلی گلی صدائیں لگاتے اپنے فن کے شہنشاہ

ماضی کے’’کاریگر‘‘

وقت کے سمندر میں بہتے لمحے کب ماضی کی دھند میں گم ہو جاتے ہیں، اس کا احساس تب ہوتا ہے جب یادوں کا کوئی جھونکا اچانک دل کے دریچوں کو کھول دیتا ہے۔ ناظم آباد کی گلیاں بھی کبھی ایسے ہی حسین مناظر، سادہ خوشیوں اور محنت کش ہنرمندوں کی صداوں سے آباد ہوا کرتی تھیں۔ 

وہ دن اب قصۂ پارینہ بنتے جا رہے ہیں، مگر ان کی خوشبو آج بھی ذہن کے کسی کونے میں بسی ہوئی ہے۔ ہمارے بچپن کے دنوں میں جب سورج کی روشنی گلیوں میں پھیلتی تو زندگی کا ایک الگ ہی منظر سج جاتا۔ انہی لمحوں میں اچانک ایک مانوس صدا فضا میں گونجتی ’’قلعی کرالو، پرانے برتن نئے کروالو‘‘ اور یوں محسوس ہوتا جیسے محلے کی فضا میں زندگی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہو۔

یہ صدا سنتے ہی محلوں کی خواتین گھروں سے نکل آتیں اور اپنے تانبے کے برتن ان کے حوالے کر دیتیں۔ یہ منظر بچوں کے لیے کسی دلچسپ تماشے سے کم نہ ہوتا تھا۔ بچے قلعی گرکے گرد جمع ہو کر اس پورے عمل کو نہایت اشتیاق سے دیکھا کرتے تھے۔ قلعی کرنے والے کاریگر صرف مزدور نہیں تھے بلکہ اپنے فن کے شہنشاہ تھے۔وہ گلی کے کچے حصے میں چھوٹا سا گڑھا کھود کر اپنی عارضی ورکشاپ قائم کرتے۔ اس کے ساتھ ایک بل نما چولھا تیار کرتے اور اس کے دہانے پر مشکیزے نما دھونکنی نصب کر دیتے۔

دھونکنی کے ذریعے آگ کو ہوا دے کر تانبے کے برتنوں کو تیز حرارت پر گرم کیا جاتا۔ پھر اس گرم سطح پر قلعی لگا کر اسے کپڑے یا کترن کی مدد سے پورے برتن پر مہارت سے پھیلا دیا جاتا۔ بعد ازاں مخصوص کیمیائی اجزاء سے برتن کو مانجھ کر اس قدر چمکایا جاتا کہ وہ چاندی کی مانند جگمگانے لگتا۔ آخر میں گرم برتن کو ٹھنڈے پانی سے بھری بالٹی میں ڈالا جاتا تو “چھن” کی آواز کے ساتھ ایک دلکش منظر سامنے آتا،“چھن” کی آواز صرف دھات کی نہیں بلکہ ایک مکمل عمل کی تکمیل کی صدا معلوم ہوتی تھی۔

برتن جب چاندی کی طرح چمک اٹھتا تو دیکھنے والوں کے چہروں پر بھی خوشی کی روشنی جھلملانے لگتی۔ آج بھی کچھ گھروں میں تانبے کے وہ برتن خاموشی سے رکھے ہیں، مگر ان میں صرف دھات نہیں بلکہ گزرے وقت کی مہک، بزرگوں کی یادیں اور محنت کش ہاتھوں کی کہانیاں محفوظ ہیں۔ اسی طرح ناظم آباد کی گلیوں میں ایک اور منظر بھی زندگی کی علامت تھا۔ 1980 کی دہائی تک ناظم آباد کے محلوں میں ایک دلکش روایت موجود تھی۔ 

پٹھان بھائی اپنے کندھے پر سائیکل کے پہیے نما چرخی اٹھائے گلیوں میں “چاقو، چھری تیز کرالو” کی صدا لگاتے دکھائی دیتے تھےان کی آواز سن کر لوگ اپنے چاقو ۭچھری ۭ قینچی اور دیگر اوزار گھروں سے لیکر نکل آتے تھے۔ لکڑی کے فریم میں نصب اس چرخی کے اوپر ایک گرائنڈر مشین لگی ہوتی تھی جسے ایک چمڑے کی پٹی کے ذریعے سائیکل کی مانند اس کے پہیے کو پاوں سے چلایا جاتاتھا گھومتے ہوئے پہیے کے ساتھ جب چاقو یا چھری کو رگڑا جاتا تو چنگاریاں نکلتی تھیں، جو بچوں کے لیے کسی جادوئی منظر سے کم نہ ہوتیں۔ ان لمحوں میں صرف اوزار تیز نہیں ہوتے تھے بلکہ محلے داری، تعلق اور اپنائیت کے رشتے بھی مزید مضبوط ہوتے تھے۔

وقت کی رفتار نے مگر ان مناظر کو دھیرے دھیرے ہم سے چھین لیا۔ جدید سہولیات اور دکانوں نے ان ہنرمندوں کی جگہ لے لی۔ آج ناظم آباد کے مختلف علاقوں خلافت چوک، گول مارکیٹ اور عظیم مارکیٹ میں عیدالاضحیٰ کے دنوں میں چاقو تیز کروانے والوں کا رش تو نظر آتا ہے، مگر اس میں وہ اپنائیت، وہ سادگی اور وہ انسانی لمس دکھائی نہیں دیتا جو کبھی ان گلیوں کی پہچان ہوا کرتا تھا۔اسی طرح سل بٹہ کبھی ہر کچن کی ناگزیر ضرورت ہوا کرتا تھا۔

بھاری بھرکم پتھر سے بنا یہ خاموش ساتھی عموماً کچن کے ایک کونے میں اپنی جگہ جمائے رہتا، اور جیسے ہی اس کی ضرورت پیش آتی، اسے دھو کر استعمال میں لایا جاتا اسی سل بٹے پر گھرکی خواتین وہ تمام کام انجام دیتی تھیں جو آج کل گرائنڈر مشین کے ذمے ہیں ٹماٹر اور ہری مرچ کی چٹنی بنانا، مصالحے پیسنا، ادرک لہسن کو کوٹنا، بلکہ ہمارے گھر میں تو کوفتوں اور شامی کباب کے لیے قیمہ، خشخاش اور بھنی ہوئی چنے کی دال بھی اسی پر پیسی جاتی تھی۔

سل بٹے پر کام کرنا آسان نہ تھا یہ ایک محنت طلب عمل تھا اور خود سل بٹہ بھی خاصا وزنی ہوتا تھا، مگر اس کے باوجود اس سے بننے والے ذائقے کی مثال دی جاتی تھی۔ وقت کے ساتھ ایک ہلکی، تیز رفتار گرائنڈر مشین آئی اور اس نے اس بھاری پتھر کو کچن سے تقریباً بے دخل کر دیاسل بٹہ عموماً دو پتھروں پر مشتمل ہوتا تھا ایک بڑا اور ایک چھوٹا اس کی دیکھ بھال کے لیے مخصوص کاریگر گلیوں میں آوازیں لگاتے پھرتے تھے گھروں سے عورتیں، مرد اور بچے سل بٹے ان کے پاس بھجوا دیتے تاکہ وہ ان پر لوہے کے اوزار، چھینی اور ہتھوڑی کی مدد سے چھوٹے چھوٹے نشانات بنا دیں۔ ان نشانات کی بدولت چیزیں بہتر طور پر پیسی جاتیں اس خدمت کے عوض کاریگر کو اجرت دی جاتی تھی ہمارے بزرگوں کا کہنا ہے کہ سل بٹے پر بننے والی چٹنی کا ذائقہ لاجواب اور بے مثال ہوتا تھاآج سل بٹہ رفتہ رفتہ قصۂ پارینہ بنتا جا رہا ہے۔

اگر کہیں موجود بھی ہے تو کسی گھر کے کونے کھدرے میں خاموش پڑا ہوگا مگر ہمارے گھر میں یہ آج بھی اپنی اصل جگہ، یعنی کچن میں موجود ہے، اور کبھی کبھار اب بھی استعمال میں آ جاتا ہےگویا ماضی اور حال کے درمیان ایک مضبوط رشتہ بنائے ہوئے اسی طرح ہمارے گھروں میں اناج پیسنے کے لئے پتھر کی چھوٹی چکی ہوتی تھی، جسے عام طور پر ہتھ چکی یا دستی چکی کہا جاتا تھا، یہ دو مضبوط اور گول پتھریلے پاٹوں پر مشتمل ہوتی تھی یہ چکی عموماً گھر کے کسی پرسکون کونے میں نصب ہوتی، جہاں گھریلو خواتین بڑے اہتمام سے روزمرہ کے اناج کو پیسنے کا فریضہ انجام دیتیں۔ ہتھ چکی پر پسے ہوئے اناج سے حاصل ہونے والا آٹا غذائیت سے بھرپور اور صحت کے لیے بے حد مفید سمجھا جاتا تھا، کیونکہ اس میں اناج کے قدرتی اجزا اور ریشے مکمل طور پر محفوظ رہتے تھے۔ 

یہی وجہ تھی کہ اس آٹے سے تیار کی گئی روٹیاں ذائقے میں لاجواب اور جسمانی طاقت کا بہترین ذریعہ ہوتی تھیں۔ پتھر کی یہ دستی چکی ہمارے بزرگوں کے طرزِ زندگی، محنت، اور فطرت سے قربت کی ایک زندہ مثال تھی۔ یہ روایتی دستکاریاں محض پیشے نہیں تھیں بلکہ ہماری تہذیب، ثقافت اور سماجی زندگی کا جیتا جاگتا عکس تھیں۔ 

ان کے ساتھ جڑی یادیں ہمیں اس دور کی طرف لے جاتی ہیں جہاں سہولتیں کم مگر دلوں میں خلوص زیادہ تھا۔ آج جب ہم ترقی کے سفر میں آگے بڑھ رہے ہیں تو ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے ماضی کے ان روشن نقوش کو بھی محفوظ رکھیں، کیونکہ قومیں صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ اپنی روایتوں، ہنروں اور یادوں سے پہچانی جاتی ہیں۔