• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دراصل عظیم انسان وہ ہوتے ہیں جو اپنی زندگی انسان ذات کی خدمت اور فلاح و بہبود کیلئے وقف کردیتے ہیں۔ ایسے عظیم انسان اپنے سکھ اور چین کو قوم کے آرام پر قربان کرکے تاریخ کے اوراق میں اپنے لئے ایک کشادہ جگہ بنا لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے برسہابرس گزر جانے کے بعد بھی قومیں ان کو یاد رکھتی ہیں۔ وادی مہران نے بھی اپنی کوکھ سے وقتاً فوقتاً ایسے عظیم انسانوں کو جنم دیا ہے جنہوں نے اپنی زندگی علم و دانش کے پھیلائو اور وطن کی خدمت میں گزار دی ہے۔ 

ایسے ہی عظیم انسانوں کی کہکشاں میں ایک ایسی ہستی بھی ہے، جس نے برصغیر پاک و ہند کی تاریخ پر وہ نقوش چھوڑے ہیں جن کے اثرات صدیوں تک باقی رہیں گے۔ جدہ کے علم اور فیض کی شہرت نہ صرف سندھ کے کونے کونے میں بلکہ پورے ہندوستان، افغانستان، عربستان، یورپ اور ایران تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس نابغہ روزگار ہستی کا نام مولانا تاج محمود امروٹی ہے۔ ن کی مذہبی، روحانی، سماجی، ادبی، سیاسی اور قومی خدمات، کارنامے قربانیاں جدید سندھ کی تاریخ میں اہم جگہ لئے ہوئے ہیں۔

حضرت مولانا امروٹی کا اسم مبارک سید تاج محمود شاہ جیلانی اور ان کے والد بزرگوار کا نام سید عبدالقادر شاہ عرف سائیں بھورل شاہ تھا۔ آپ موجودہ ضلع خیرپور میرس کے ایک چھوٹے سے گائوں ’’دیوانی‘‘ نزد گاڑھی موری میں پیدا ہوئے تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد صاحب سے حاصل کی اس کے بعد پیر جو گوٹھ ضلع خیرپور میرس میں فارسی علوم کی تحصیل کی، بعدازاں عربی علوم کے حصول کے سلسلے میں روہڑی ضلع سکھر کے ایک جدید عالم آخوند حاجی عبدالقادر پنہواری کے درس میں داخل ہوئے۔ وہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد اپنے والد محترم سے ملوک و معرفت کی راہیں دریافت کیں۔ والد کے انتقال کے بعد ان کی وصیت کے مطابق موجودہ تحصیل میرپور ماتھیلو کے گائوں بھرچونڈی شریف سے مخلوق خدا کے دلوں کو دنیوی علوم سے منور کرنے والے بزرگ حافظ محمد صدیق سمیجو (1827-1890ء) کو اپنا روحانی رہبر بنایا۔

مولانا صاحب نے اپنے پیر و مرشد اور روحانی رہبر حافظ محمد صدیق بھرچونڈی کے حکم پر ضلع شکارپور کی تحصیل گڑھی یاسین کے ایک قدیمی گائوں امروٹ شریف میں رہائش اختیار کی اور یہاں دینی علوم اور روحانی تربیت کا ایک عالیشان مرکز قائم کیا۔ اس مرکز سے ان بڑی بڑی شخصیات نے تحصیل علم کیا جنہوں نے آگے چل کر پاکستان کی تحریک میں بنیادی کردار ادا کیا۔ آج بھی درگاہ امروٹ شریف وطن عزیز پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہے۔ یوں امروٹ شریف جیسے ایک چھوٹے اور دوردراز گائوں کو وہ تاریخی حیثیت مل گئی جو سندھ کے کسی بھی گائوں کے نصیب میں آج تک نہیں آئی ہے۔

مولانا تاج محمود امروٹی کے قائم کردہ اس دینی مرکز سے جن بڑی بڑی شخصیات نے فیض حاصل کیا، ان میں مولانا عبدالوہاب کولاچی، مولانا عبداللہ کھڈ ہرے وارو، مولانا عبدالقادر دین پوری وغیرہ ابتدائی دور کے وہ طالب علم تھے جنہوں نے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ انسان دوستی اور روداری کا پیغام برصغیر کے گوشے گوشے میں پہنچایا۔

مولانا جب امروٹ شریف تشریف لائے تو سب سے پہلے انہوں نے یہاں ایک مسجد قائم کی اس کی تعمیر کا کام مولانا کے ایک قریبی ساتھی مستری عبدالرحیم سومرو شکارپوری کے ہاتھوں انجام پایا۔ مسجد کا کام پورے ایک سال تک جاری رہا۔ مسجد کے مکمل ہونے کی تاریخ مسجد کے بیرونی دروازے پر 1321؍ہجری بمطابق 1904ءدرج ہے۔ مسجد کا کام بڑی مہارت اور کمال کاریگری سے کیا گیا ہے۔ ساری عمارت پکی اینٹوں سے بنی ہوئی ہے اور اس پر گلکاری اور میناکاری ا بے حد عمدہ کام کیا ہوا ہے۔حال ہی میں اس مسجد کی تعمیر کا کام درگاہ امروٹ شریف کی طرف سے شروع کیا گیا ہے۔ مسجد کا مشرقی اور جنوبی حصہ ابھی تک بہتر حالت میں موجود ہے۔ 

مشرقی حصے میں ایک حجرہ ،جس میں اپنے وقت کے جید عالم اور انقلابی شخص مولانا عبیداللہ سندھی کی رہائش تھی۔ مولانا سندھی نے پورے سات سال اس دینی مرکز میں قرآن، حدیث، فقہ، فلسفہ، علم الکلام، علم منطق اور دوسرے کئی علوم پڑھائے اور یوں سندھ کے طلباء کو پہلی مرتبہ اسلامی علوم کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ آپ ہی کے مشہور اور نایاب کتب جمع کی گئیں جن سے سندھ کے ہزاروں علماء نے استفادہ کیا۔

امروٹ شریف جیسا چھوٹا سا گائوں اس دور میں شہری مراکز سے بالکل کٹا ہوا تھا آج بھی یہ گائوں سکھر، شکارپور اور لاڑکانہ سے بہت فاصلے پر ہے پھر بھی یہ مولانا امروٹی کا ایمانی جذبہ تھا جو اس گائوں سے اسلامی علوم، روحانیت اور دانش کی وہ کرنیں اٹھیں جنہوں نے پورے سندھ کو روشن کردیا۔

امروٹ شریف میں مولانا کے درس و تدریس سے بڑے بڑے علماء نے فارغ التحصیل ہوکر دستار فضیلت باندھی۔ آپ ہمیشہ وعظ کے ذریعے شرعی احکامات کا پرچار کرتے تھے نتیجہ یہ نکلا کہ کتنے ہی غیر مسلم اسلام کے دائرے میں داخل ہوئے۔ ان نومسلموں کی وجہ سے ہندوئوں سے آپ کی چپقلش بھی ہوجاتی تھی جس کو آپ نہایت خندہ پیشانی اور بردباری سے برداشت کرتے تھے۔ گڑھی خیرو جمالی کے شیخ عبداللہ کا مسلمان ہونا اور باگڑجی نزد سکھر کے ہندو سونار جوبعد میں اسلامی نام ’’نورالحق‘‘ سے مشہور ہوئے، کی وجہ سے عدالتوں کے کیس اس بات کا بین ثبوت ہیں۔ مطلب یہ کہ مولانا صاحب کی روحانی تبلیغ، دین اسلام کو سربلند کرنے میں مدبرانہ اور مفکرانہ صلاحیتوں کا واضح اظہار تھا۔

مولانا تاج محمود امروٹی جہاں دین کی تبلیغ میں ہر دم کوشاں رہے، وہاں آزادی کی تحریک میں بھی مردمجاہد کی حیثیت سے سرگرم اور نمایاں رہے۔ 1919ء میں جب خلافت تحریک کا آغاز ہوا تو اس سلسلے میں کلکتہ، بمبئی اور علی گڑھ تک سفر کیا۔ سندھ میں آپ اس تحریک کے روح رواں تھے۔

آپ علم اور اہل علم کے بہت بڑے قدردان تھے۔ آپ کے قائم کردہ دینی مرکز میں اپنے وقت کے جید عالم موجود رہتے تھے۔جن میں مولانا احمد علی لاہوری، مولانا حماد اللہ ہالیجوی، مولانا عبدالعزیز تھریچانوی، مولوی محمد عظیم کا کیپوٹہ اور مولانا محمد اسماعیل عودوی جیسے علماء سرفہرست ہیں۔

مولانا تاج محمود امروٹی کا ایک بہت بڑا کارنامہ قرآن پاک کا بامحاورہ سندھی ترجمہ ہے۔ آج تک اس ترجمے کے لاکھوں ایڈیشن آچکے ہیں۔ یہ سلیس ترجمہ ’’الہام القرآن‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ پورے سندھ کے عالم، سندھی زبان کے ماہرین اور دینی اسکالرز اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن پاک کا ایسا سلیس ترجمہ آج تک کوئی اور عالم نہیں کرسکا ہے۔

سندھ کی ادبی تاریخ میں مولانا تاج محمود امروٹی کا نام ایک معتبر حیثیت رکھتا ہے۔ آپ سندھی زبان کے بہت بڑے ادیب اور شاعر تھے۔ عشق حقیقی کے باریک نکتے بیان کرتے ہوئے ’’یوسف زلیخا‘‘ نامی مثنوی لکھی جو ’’پریت نامہ‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئی۔ اس کے علاوہ دوہوں کی طرز پر قرآن پاک کی سورتوں کی منظوم تفسیر بھی قلمبند کی۔ سورئہ یٰسین اور سورئہ الرحمٰن کی منظوم تفسیر سندھی زبان میں ایک مثالی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کے لکھے ہوئے مولود اور کافیاں سندھی شاعری کے شاہ پارے تصور کئے جاتے ہیں۔

مولانا تاج محمود امروٹیؒ کی وفات کے بعد آپ کے دینی اور علمی مشن کو ملک کے نامور عالم اور سیاستدان مولانا محمود شاہ امروٹی نے آگے بڑھایا۔ آپ درگاہ امروٹ شریف کے تیسرے سجادہ نشین مقرر ہوئے۔ آپ اہل دل عالم تھے اور آپ کی شخصیت اسلامی و عصری علوم کا بھنڈار تھی۔ آپ نے ہزاروں لوگوں کی دینی، روحانی اور علمی تربیت کی یوں درگاہ امروٹ شریف کو دینی اور علمی حوالے سے بڑے اوج پر پہنچایا۔ آپ کی نیک نام اولاد آج بھی امروٹ شریف میں دینی علوم کی تدریس، انسان دوستی، خدمت خلق اور رواداری کی اعلیٰ مثالیں قائم کئے ہوئے ہے۔

مولانا تاج محمود امروٹی 88؍برس کی عمر میں3؍جمادی الثانی 1348؍ہجری بمطابق 6؍نومبر 1929ء کو اس دارفانی سے کوچ کرکے اپنے رب حقیقی سے جا ملے۔ امروٹ شریف میں مدفون ہوئے جہاں آج بھی آپ کا مزار مرجع رشد و ہدایت بنا ہوا ہے۔ آپ کی ساری زندگی علم اور روحانیت کو عام کرنے میں گزر گئی۔ آپ سندھ کیلئے بڑا قیمتی سرمایہ تھے۔ سندھ کے لوگوں میں شعوری بیداری پیدا کرنے اور انگریز سرکار سے آزادی حاصل کرنے میں آپ کی جدوجہد کا بڑا دخل ہے۔