• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بدلتے ہوئے موسمی حالات نے ساری دنیا کو متاثر کر رکھا ہے،لیکن پاکستان چوں کہ اُن سرِ فہرست مماک میں سے ایک ہے جو اِن تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، لہذا یہاں موسمیاتی تبدیلیاں لوگوں کو بری طرح متاثر کررہی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس برس پاکستان میں مون سون کے موسم میں تباہ کن بارشیں ہوئیں اور دنیا کا سب سے بڑا سیلاب آیا۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی، شیری رحمان کا کہنا ہے کہ عالمی بینک نے سیلاب سے پاکستان کی معیشت کوچالیس ارب ڈالرزکے نقصانات ہونےکا تخمینہ لگایا ہے، گھروں، بنیادی ڈھانچے، سڑکوں اور فصلوں کو جو نقصان پہنچاہے، اُس کا تخمینہ کہیں زیادہ ہے۔ 

شیری رحمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ، ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ عالمی بینک نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے مزید نوّے لاکھ لوگ غربت کا شکار ہوجائیں گے، ہم دنیا سے اپیل کر چکے ہیں کہ نقصانات کا تخمینہ کہیں زیادہ ہے۔ ہم اٹھارہ ہفتوں سے قیمتی زندگیاں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اب صحت کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔ ڈینگی اور ملیریا کے ساتھ دیگر وبائی امراض بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ابھی ہم نے سیلاب زدگان کو اپنے علاقوں میں واپس بھیجنے کے ساتھ ان کی بحالی پر کام کرناہے۔ 7.9 ملین بے گھر لوگوں کی بحالی کے لیے ہمیں وسائل درکار ہیں۔ دنیا کو اس انسانی بحران کے وقت سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی کے لیے آگے آنا چاہیے۔

اس سے قبل سترہ ستمبر کو عالمی بینک نے کہا تھاکہ پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات اوراس کے اثرات غیر معمولی ہوں گے۔پاکستان میں سیلاب سے تباہی کی شدت عالمی اداروں نے بھی محسوس کی ہے اورانہوں نے دنیا بھر سے اپیل کی ہے کہ اگر پاکستان کی اس مشکل وقت میں مدد نہ کی گئی تو پاکستان میں بہت بڑا انسانی ، غذائی اور مالیاتی بحران آسکتا ہے جو دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

اس ضمن میں عالمی بینک کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات غیرمعمولی اور بحالی و تعمیر نوکے لیے بہت زیادہ وسائل درکار ہوں گے۔ عالمی بینک کے حکام کا کہنا تھاکہ پوسٹ ڈیزاسٹر اینڈ اسسیسمنٹ کا کام جلد مکمل کر لیا جائے گا، عالمی بینک، یو این ڈی پی، اے ڈی بی اوریورپی یونین مشترکہ طور پر صورت حال کا جائزہ لے رہی ہے۔ حکومت پاکستان سے مل کر سیلاب کے اثرات کا ابتدائی جائزہ تیار کیاجارہا ہے اور وفاقی و صوبائی ڈیٹا کی بنیاد پر عالمی طریقہ کار کے مطابق کام جاری ہے۔

ایک کے بعد دوسرا امتحان

پاکستان کواس وقت کئی بحرانوں کاسامناہے۔ اقتصادی اور سیاسی بحران کے ساتھ طوفانی بارشوں اور سیلاب سے پیدا ہونے والی صورت حال نے پوری قوم کو ہلادیا ہے۔ پندرہ سو سے زاید اموات اور تقریبا ساڑھے تین کروڑ افراد کے متاثر ہونے کی وجہ سے ومارے ملک کی چولیں ہل گئی ہیں۔ 12758افراد زخمی ، 18لاکھ سے زاید مکانات تباہ 12، ہزار 718کلومیٹر طویل سڑکیں تباہ اور 9 لاکھ 27 ہزار سے زاید جانور اور مویشی بھی جان کی باری ہارگئے ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، ریسکیو اور بحالی کے مشن سست ہیں، اور نصف ملین سے زیادہ لوگ اب بھی عارضی کیمپوں میں ہیں۔

پاکستان کی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی، شیری رحمٰن نے شدید موسم کو’’عشرے کا مونسٹر مون سون‘‘ قرار دیاہے۔وفاقی وزیر،احسن اقبال کے مطابق وفاقی حکومت نے کل مالی نقصان کا تخمینہ 30 بلین ڈالر لگایا تھا، جس میں کم از کم چار ملین ہیکٹر (9.8 ملین ایکڑ) زرعی اراضی تباہ ہو گئی ہے۔پاکستان اور اقوام متحدہ، دونوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کو شدید موسم اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے بارش کی سطح کو ’’ایپوچل‘‘ قرار دیا۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، ملک کے 160 میں سے کم از کم 81 اضلاع کو سیلاب سے ’’آفت زدہ‘‘ کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے۔

آئندہ کے حالات اور خوف کے سائے

ماہرینِ موسمیات کے مطابق یہ توحالات کی پہلی خطرناک تصویر ہے ،ابھی مزید امتحان بھی آنے کا خدشہ ہے۔ آگے کے لیے دعا ہے کہ اللہ خیر کرے۔کیوں کہ ہم جس طرح خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہیں اسے مد نظر رکھا جائے تو آئندہ کے ممکنہ حالات کے بارے میں سوچ کر ہی خوف آتا ہے۔ ذرایع ابلاغ نے سیلاب کے دوران ایسی اطلاعات بھی دیں کہ کے پی کے میں چند نوجوان سیلابی ریلے میں گھنٹوں پھنسے رہے، مقامی لوگ مدد کے لیے پکارتے رہے، لیکن انتظامیہ غائب رہی۔ اور بالآخر وہ نوجوان پانی کی منہ زور لہروں کا شکار بن گئے۔

حالیہ سیلاب اس بات کا عندیہ ہے کہ عالمی موسمیاتی اورماحولیاتی خطرات میں اضافہ ہورہا ہے۔لیکن ہماری تیاریاں نہ ہونے کے مساوی ہیں۔ ان حالات میں ضروری ہوگیا ہے کہ وفاقی حکومت اور صوبائی انتظامیہ ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے ٹھوس اور موثر لائحہ عمل تیار کرے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا عمل جدید سائنسی بنیادوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے تاکہ جانی اور مالی نقصانات کم سے کم ہوں اور پیشگی انتباہی نظام فعال ہو۔ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہمیں ترقی یافتہ ممالک کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہیے۔

خطرات کی نوعیت

اس وقت متاثرین کی مدد ،بحالی اور آبادکاری کے بعد ہمارے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ملک کو لاحق خطرات کی نوعیت کو سمجھیں اور انہیں اور ان کے اثرات کم سے کم کرنے کے لیے موثر اور ٹھوس اقدامت اٹھائیں۔جس طرح سے موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں وہ پاکستان میں صحت عامہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ چناں چہ ہمیں ان تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق اس صدی کے آخر تک عالمی حِدّت میں اضافے کے نتیجے میں پاکستان میں اوسط درجہ حرارت میں چھ ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ہوسکتا جس کے اثرات زندگی کے ہر شعبے پر پڑیں گے۔ ان سے سے بچنے کے لیے ہمیں ضروری اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

یہ درست ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مون سون سسٹم نے اپنا روایتی راستہ بدل لیا ہے اور اس کے پاکستان میں انسانی تحفظ پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوں۔ لیکن ہم صرف موسمیاتی تبدیلیوں کو سیلاب سے ہونے والی تباہی میں اضافے کی بنیادی وجہ قرار نہیں دےسکتے۔ اگرچہ سیلابوں میں اضافہ موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ بہت مضبوطی سے جڑا ہواہے، اور موسمیاتی تبدیلی ایک خطرہ ہے جو ہمارے لیے مسلسل بڑھ رہا ہے۔ لیکن سیلاب کے دوران ہونے والے زیادہ تر نقصانات دراصل ناقص حکومتی اقدامات اورکم زور معیشت کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

ہم موسمیاتی تبدیلی کو اپنی منصوبہ بندی میں شامل نہیں کر رہے ہیں۔ جب تک ہم ایسا نہیں کریں گے ہمارا ملک اس تبدیلی کے تباہ کن اثرات کی زد میں رہےگا۔ موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل کی جانب سے موسمیاتی اثرات، موافقت اور ضرر پذیری سے متعلق ایک حالیہ رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ عالمی سطح پر موسمیاتی اثرات پہلے کی رپورٹس کے تجزیے سے کہیں زیادہ تیزی سے رونما ہو رہے ہیں۔ پاکستان کو ان تنبیہات پر دھیان دینا چاہیے تھا۔ اگر 1995، 2003، 2007، 2010 اور 2022 کی طرح پاکستان میں آنے والے شدید سیلابوں سے ہونے والے نقصانات کا گراف بنایا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ دریائی سیلابوں سے ہونے والے نقصانات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

اگر لوگ دریا کے کناروں پر مکانات بنا کر رہنا شروع کر دیتے ہیں اور اگر سرکاری ادارے اتنےکم زور ہوں کہ وہ انہیں روکنے کے بجائے نہ صرف انہیں وہاں بسنے کی ترغیب دیں بلکہ ان کے لیے اسکول اوراسپتال بنائیں اور بجلی کے کنکشن بھی فراہم کرنا شروع کر دیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ریاست خود موسمیاتی تبدیلی کے اس خطرے کو اپنے نظام کی جڑوں میں داخل کر رہی ہے اور اپنی کم زور طرز حکمرانی سے اس غلط طرز عمل کو خود ہی ہوا دے رہی ہے۔ ہمیں اس ضمن میں بہت سنجیدگی سے فوری طورپر غور وخوض کرنا ہوگا۔

حکومت کے کرنے کا کام یہ بھی ہے کہ سیلاب کی وجہ سے نقصان کا باعث بننے والے اسباب کا تدارک کیا جائے۔ موسمیاتی تبدیلی کا ادراک کرتے ہوے دیرپا منصوبے بنائے جائیں۔ آبی گزرگاہیں اصل حالت میں بحال کی جائیں۔ دریاؤں کے کنارے آبادیوں کی تعمیر کے ضمن میں مؤثر قانون سازی کی جائے اور اس پر عمل بھی کیا جائے تاکہ مستقبل میں نقصانات سے محفوظ رہا جا سکے۔

صحت کو لاحق خطرات

پاکستان میں موسمی تغیرات کی وجہ سے انسانی صحت پر جو اثرات مرتب ہوں گے ان پر بھی فوری غور وخوض کرنے کی اشد ضرورت ہے،کیوں کہ ابھی توصرف شدید بارش، شدید برف باری،سیلاب،فوگ، اور معمول سے زیادہ سردی اور گرمی نے رنگ دکھانا شروع کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں ہمیں بہت سی جہتوں میں شدید بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آج دنیا بھر میں ماہرین ایسی طرز فکر اپنانےپر زور دے رہے ہیں کہ متاثرہ خِطّوں کے لوگ بدلتے موسم کے ساتھ اپنا طرز زندگی بدلنے کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں سے نقصان اٹھانے کے بجائے فائدہ حاصل کریں۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے انسانی صحت پر ممکنہ اثرات کے صرف ایک پہلو کو سمجھنے کے لیے یہاں ایک رپورٹ کا حوالہ دینا ضروری ہے۔ امریکا میں دماغ اور نفسیات کے ماہرین کا کہناہے کہ دنیا بھر میں آب وہوا میں آنے والی تبدیلیوں سے دماغی اور نفسیاتی مریضوں کی تکالیف اور ان امراض میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔ امریکن فزیالو جیکل ایسوسی ایشن نے کچھ عرصہ قبل موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر ایک رپورٹ جاری کی تھی جس کی خاتون مصنفہ کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات صرف بہ راہِ راست متاثر ہونے والے افراد تک محدود نہیں رہیں گے۔

رپورٹ کے مطابق موسمی شدّت سے دمے، دل اور پھیپھڑوں کے امراض میں اضافے کے ساتھ کیڑوں سے پھیلنے والے امراض بھی بڑھ سکتے ہیں ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیلاب ہو یا جنگلات کی آگ، ان واقعات کے بعد پہلے سے متاثرہ افراد ڈپریشن، خوف اور دیگر عارضوں میں مزید گھرسکتے ہیں۔ رپورٹ میں اس کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 2005 میں امریکا میں آنے والے ہول ناک سمندری طوفان کترینہ کے بعد خودکشی کے واقعات اور اس سے وابستہ سوچ میں دْگنا اضافہ ہوگیا تھا۔

اس واقعے کے بعد نصف سے زاید آبادی شدید بے چینی اور موڈ میں تبدیلی کا شکار ہوئی تھی۔ اس کے بعد 2015میں آنے والے ایک اور سمندری طوفان سینڈی کے بعد پندرہ فی صد آبادی بعد از حادثہ تناو (پی ٹی ایس ڈی) کا شکار ہوگئی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قدرتی آفات میں اپنوں کی موت، معذوری، جائیداد سے محرومی، تحفظ، خود مختاری اور عزم میں کمی آجاتی ہے جس سے نفسیاتی عوارض پیدا ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے گرمی بڑھنے، فضائی آلودگی، ہوا کے خراب معیار اور دیگر قدرتی کیفیات سے دماغی امراض میں ہول ناک حد تک اضافہ ہوسکتا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں سے جہاں بچوں کی جسمانی صحت متاثر ہوگی وہاں اس سے ان کی تعلیمی کارکردگی اور نفسیاتی صحت بھی بہت متاثر ہوسکتی ہے۔

پالیسی اور ذہنیت تبدیل کرنے کی اشد ضرورت

حالیہ سیلاب نے آبادی، ملکی انفراسٹرکچر اور معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔ سیلاب، شدید بارشیں اور گرمی کی لہر کا بڑھتا دورانیہ موسمیاتی تبدیلی کو نظریاتی مباحثے کی فہرست میں شامل ایک نکتے سے نکال کر ملک و قوم پر پڑنے والے ایک واضح بوجھ میں بدل چکا ہے۔ انسانی نقطہ نگاہ سے دیکھیں تو نقصانات اس قدر گمبھیر ہیں کہ ان کا احاطہ کرناممکن نہیں۔ لیکن سیاسی اعتبار سے یہ ریاست کے قومی سلامتی کےڈھانچے میں موسمیاتی سلامتی کے شعبے کے ناپید ہونے کی بھرپور عکاسی کرتا ہے جو پاکستان کی بقا کے لیے ایک آزمائش ثابت ہو سکتا ہے۔ آنے والی دہائی میں اس سے ملتی جلتی آفات کا خطرہ دوگنا سے زیادہ ہو سکتا ہےاوراس کے نتیجے میں معاشرتی و معاشی نقصانات ناقابل تصور حد تک بڑھ سکتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات چہار سو پھیلتے اور کئی شعبوں کو متاثر کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ معاشرتی و معاشی نقصانات ریاستی وسائل و سلامتی پر اضافی بوجھ ڈالنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اب محض جغرافیائی، سیاسی دشمنیاں ہی ریاست کو درپیش خطرہ نہیں رہی ہیں بلکہ یہ ریاست کو درپیش خطرات کے سلسلے کی محض ایک کڑی رہ گئی ہے۔ قومی سلامتی کو اب ایک جامع روایتی سلامتی و موسمیاتی سلامتی پر مبنی لائحہ عمل کی نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ان خطرات کی نشان دہی ہو سکے جو پاکستان پر سب سے زیادہ دباؤ بڑھا رہے ہیں اور اس کی بقا کے لیے خطرہ ہیں۔

موسمیاتی سلامتی، موسمیاتی تبدیلیوں اور سلامتی کے متعدد شعبوں کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔ موسمیاتی سلامتی بنیادی طور پر ان خطرات، خدشات اور اثرات کا جائزہ لیتی ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے سبب مختلف شعبوں پر اور مختلف سطح پر ہو سکتے ہیں۔ اس بارے میں عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ موسمیاتی سلامتی پہلے سے موجود ایسے مسائل کے بگاڑ سے نمٹتی ہے جو بعد ازاں سلامتی اور تنازعوں جیسی صورت حال کا سبب بنتے ہیں۔ اسے موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب خطرات دوچند ہونے کی کیفیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تاہم خطرات دوچند کرنے والا یہ اثر شدید موسمیاتی تبدیلیوں سے رونما ہونے والا واحد اثر نہیں ہے کیوں کہ یہ سلامتی کے مختلف شعبوں کے لیے بہ راہ راست خطرہ بھی ہوتا ہے۔

حالیہ سیلاب معمول کا واقعہ نہیں ہے۔ بلوچستان،جو سب سے زیادہ متاثرہ صوبوں میں سے ایک ہے، خشک سالی، بارشوں کی کمی اور اکثر قحط سالی کا شکار ہونے کے سبب جانا جاتا ہے۔ تاہم اس برس کے مون سون میں بلوچستان کو371 فی صد زیادہ بارشوں کا سامناکرنا پڑا ہوا جس سے اچانک سیلابی ریلے آئے اور انسانی جانوں کا بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ موجودہ اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ تین کروڑ تیس لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔ اس سیلاب سے ہونے والےاقتصادی نقصان کا تخمینہ وقت کے ساتھ لگایا جائے گا تاہم 2010 کا سیلاب جسے 2022کے سیلاب کے مقابلے میں بہت کم شدّت کا تصور کیا جاتا ہے اس سے تقریباً تینتالیس ارب ڈالرز کا اقتصادی نقصان ہوا تھا۔ انتہائی نوعیت کی موسمیاتی آفات کی تعداد اورشدّت بڑھنے کے ساتھ اس کی اقتصادی قیمت میں فقط اضافہ ہی ہوگا۔

کسی بھی شدید نوعیت کی موسمیاتی آفت کے بعد انفرادی سطح پر لوگوں کا احساسِ خودی مسلسل تغیّر پذیر رہتا ہے۔ نسل در نسل چلے آتے گھرانوں کی تباہی، اپنے ملک کے اندر ہی ہجرت اور خیموں کی شکل میں عارضی و ناقص ٹھکانے شناخت کی بنیاد پر بڑے چیلنجز کا موجب ہوں گے اور متاثرہ آبادیوں کے درمیان معاشرتی ،معاشی عدم تحفظ کا احساس پیدا کریں گے۔ ایسے اثرات سلامتی کے معاشرتی و سیاسی شعبوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں اور قومی یک جہتی کے احساس کو بے وقعت کرتے ہیں۔ 

بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے سبب غربت اور بے روزگاری کی شرح بھی بلند ہوتی ہے کیوں کہ زیادہ بڑے پیمانے پر لوگ اپنی کفالت کرنے والے افراد سے محروم ہو جاتے ہیں یا موسمی حالات کی وجہ سے پناہ گزین بن جاتے ہیں۔ خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ اور انسانی اسمگلنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بچے، خاص کر بچیاں انفرا اسٹرکچر کی تباہی کی وجہ سے اسکول جانا چھوڑ دیتی ہیں۔ صاف پانی اور غذا تک لوگوں کی رسائی کم ہو جاتی ہے، بیماریوں کی شرح بڑھ جاتی ہے اور معیار زندگی گر جاتا ہے۔

ملک میں شدید نوعیت کی موسمی آفات سے مختلف شعبہ جات پر پڑنے والے منفی اثرات کے باعث پاکستان کی جامع قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ اب یہ محض معاشی سلامتی بہ مقابلہ روایتی سلامتی کا معاملہ نہیں رہا ہے۔ قومی سلامتی ان میں سے کسی ایک کی بنیاد پر نہیں ہوسکتی ہے ،کیوں کہ قومی طاقت تمام عناصر اور وسائل پر مبنی ہوتی ہے جو ریاست کو اپنے مفادات کے حصول کے قابل بناتے ہیں۔ لہذا یہ تمام عناصر، وسائل اور شعبہ جات اس کی سلامتی میں حصے دارہیں۔ گویا کثیرالشعبہ جاتی خطروں کی اس مشکل سے نمٹنے کے لیے قومی سلامتی کو اس جامع نگاہ سے دیکھا جانا ضروری ہے جس میں تمام شعبوں پر یک ساں توجہ ہواور موسمیاتی سلامتی کو اس کی شدّت اور فوری نوعیت کی وجہ سے ترجیح دی جائے۔

متاثرین کی بحالی اور آبادکاری کے لیے چند تجاویز 

سیلاب کے متاثرین پہلے ہی بہت کچھ جھیل چکے ہیں ، سرد ہوتا موسم اُن کے لیے نیا امتحان ہےلیکن اس سے گزرنے کے لیےدوردیوار اور چھت کا ہونا بہت ضروری ہے۔ لہذا اب ہمیں اپنی پوری توجہ متاثرہ افراد کی بحالی اور آبادکاری کے کام پر مرکوز کردینی چاہیے۔ تاہم مدد کا کام بھی جاری رہنا چاہیے۔اس ضمن میں کچھ تجاویز درج ذیل ہیں:

1۔ ضلعی انتظامیہ مربوط پالیسی تشکیل دے تاکہ سماجی تنظیمیں، رضاکار اورسرکاری ادارے کم سے کم وسائل میں متاثرین کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کر سکیں۔

2۔ ہر ریلیف کیمپ میں متاثرین کی تعداد اور ان کی ضروریات کا تعین کیا جاناچاہیے تاکہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔

3۔ متاثرین میں شامل مریضوں کے علاج معالجے اور مطلوبہ ادویات کا خیال بھی رکھا جائے۔

4۔ زچہ و بچہ، حاملہ خواتین، شیر خوار بچوں، بوڑھوں اور بیماروں کی خصوصی خوراک کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔

5۔ معذور افراد کی ضروریات کا بھی خاص خیال رکھا جانا چاہیے۔

6۔ تیار ناشتے، دوپہراورو رات کے لیے تیار کھانے، پینے کے صاف پانی کے علاوہ معیاری دودھ، جوس، بسکٹس کے پیکٹس اور کھجور بھی فراہم کریں تا کہ کسی وقت بھی کسی کو بالخصوص بچوں، بوڑھوں ، زچہ، حاملہ خواتین یا بیمار شخص کوبھوک محسوس ہو تو اسے غذا میسر آ سکے۔

7۔ ہاتھ کے پنکھے،موم بتیاں، مچھر بھگانے کی جلیبیاں اور ماچس بھی مہیا کی جانی چاہییں۔

8۔ سرکاری کیمپس کے علاوہ بہت سے متاثرین اپنے رشتہ داروں یا پھر کرائے کے مکانات میں مقیم ہیں۔ ان کی رجسٹریشن ہونی چاہیے اور انہیں بھی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

9۔ جن لوگوں کے پالتو جانور سیلاب والے علاقوں میں رہ گئے ہیں۔ ان کی حفاظت،دانے پانی اور چارے کا بندوبست بھی کیا جانا چاہیے۔

10۔ متاثرہ علاقوں میں پانی اور کیچڑ سوکھتے ہی انسانی جانوں، مویشیوں، مکانات اور فصلوں کے نقصانات کا فوری جائزہ لے کر بحالی کے اقدامات کا آغاز کر دیا جائے۔

11۔حکومت سماجی کام کرنے والے اداروں کے درمیان باہمی ربط پیدا کرے۔وہ ضلعی سطح پر کام تقسیم کرنے کے لیے میکانزم تشکیل دے اور قومی سطح پر بڑے اداروں کو اکٹھا کرکے علاقے تقسیم کر دیے جائیں تاکہ بحالی اور آبادکاری کی ساری کوششیں ایک ہی جگہ پر نہ ہوں بلکہ تمام متاثرین اس سے مستفید ہو سکیں۔

12۔ حکومت کوچاہیےکہ بڑی این جی اوز کو بلوچستان میں کام کرنے کا موقع فراہم کیا جائے اور ان کی حفاظت کا بھی بندوبست کیا جائے۔

13۔حکومت بحالی اور آبادکاری کے کام میں بڑی این جی اوز اور غیر ملکی اداروں کا تعاون حاصل کرے۔ منہدم مکانات تعمیر کرنا اکیلے حکومت کے بس کی بات نہیں ہوگی۔ لہٰذا مکانات کی تعمیر کے عمل میں نجی شعبے کا تعاون حاصل کرنا ہوگا۔

سیلاب جیسی آفت سے نمٹنا اکیلے حکومت کے بس کی بات نہیں۔ سماجی تنظیموں کو بھی چاہیے کہ وہ باہمی ربط پیدا کرکے منظم انداز میں الگ الگ کام کریں تاکہ ساری توانائیاں اور رقم ایک ہی منصوبے پر صرف نہ ہوں۔ علاوہ ازیں، تعلیم کے فروغ کے لیے بچوں کو کتب کی فراہمی اورا سکولز کی بحالی ممکن بنائی جائے۔ اسکولز کے اساتذہ کو ترجیح دیں تاکہ تعلیمی سلسلہ بحال ہو سکے۔ سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ خواتین کے استعمال کی اشیا کی فراہمی پر توجہ دیں تاکہ وہ مخصوص ایّام کے مسائل سے باوقار انداز سے نمٹ سکیں۔ بہت سی خواتین زچگی کے مراحل میں ہیں، ان کی دیکھ بھال اور ادویات کی فراہمی ممکن بنائیں۔ سیلاب سے متاثرہ دیہات میں مرداورخواتین کے لیے الگ الگ عارضی بیت الخلا قائم کریں۔