پاکستان شوبر انڈسٹری کی معروف اداکارہ امر خان کا دل بھی ’دی لیجنڈ آف مولاجٹ‘ نے جیت لیا، لیکن صرف دو سینما گھروں میں فلم کی نمائش پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے درخواست کی کہ ناظرین کو اس شاندار شاہکار کو بڑے پردے پر دیکھنے کا موقع فراہم کریں۔
جیو فلمز کی پیش کش، انسائیکلومیڈیا اور لاشاری فلمز کا شاہکار، ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ ‘ کی دنیا بھر میں نمائش جاری ہے۔
فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر طویل پوسٹ شیئر کرتے ہوئے اس حوالے سے امر خان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کے ساتھ پنجابی سینما اپنے سنہرے دور میں لوٹ آیا ہے، یہ دل سے نکل رہا ہے کہ ’بڑا ہی سواد آیا ائے‘۔ بلال لاشاری کی یہ ایکشن گنڈاسا فلم پاکستانی سینما کی تاریخ کی اب تک کی بہترین فلم ہے۔
انہوں نے لکھا کہ بلال کی ایک دہائی تک صرف اس ایک فلم پر انتھک محنت اور لگن اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک پرجوش فلمساز کیسے کام کرتا ہے۔
انہوں نے فلم کی سینماٹوگرافی کے حوالے سے لکھا کہ اس سے قبل ایسی حیران کُن سینماٹوگرافی اور اسکرین پر کرداروں کی مسدود کرنے جیسی تکنیک کسی پاکستانی فلم میں استعمال نہیں کی گئی ہے۔
انہوں نے فلم کے تمام کرداروں اور اسکرپٹ رائٹر ناصر ادیب کو شاندار پرفارمنس دینے اور ڈائیلاگز لکھنے پر خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے پروڈیوسرز کو بھی سلام پیش کیا جنہوں نے اتنے بڑے بجٹ کی فلم پر پیسہ لگانے کی جارحانہ ہمت کی۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے فلم کی چند غلطیوں پر بھی روشنی ڈالی اور چند فنکاروں کی جانب سے پنجابی لب و لہجے کو مکمل طور پر نہ اپنانے پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے صرف دو سینما گھروں میں فلم کی نمائش پر بھی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا ہو اگر کھلاڑی ہوم گراؤنڈ پر اننگز کھیلے بغیر ہی ورلڈ کپ جیت جائے‘۔
انہوں نے درخواست کی کہ ’ایسے مولے نو ماران لائے سینے – ما نائی سینے – پیو بلانا پاوئے گا‘ برائے مہربانی ناظرین کو اس شاندار شاہکار کو بڑے پردے پر دیکھنے کا موقع فراہم کریں۔
واضح رہے کہ دی لیجنڈ آف مولا جٹ بین الاقوامی ویب سائٹ آئی ایم ڈی بی پر 9.5 ریٹنگ کے ساتھ پاکستان کی سب سے مقبول ترین فلم بن گئی ہے۔ فلم نے ابتدائی تین دنوں میں پانچ ممالک کے اندر 19 کروڑ روپے کما لیے ہیں۔