• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمارا عہد تاریخ کے ماقبل ادوار سے بے حد مختلف ہے۔ اس قدر مختلف ہے کہ اگر ہم اس کا موازنہ ماسبق ادوار میں کسی عہد سے کرنا چاہیں تو اوّل یہ محال ہوگا۔ اس لیے کہ کسی بھی موازنے کے لیے اختلافات کے ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ مشترک پہلو بھی درکار ہوتے ہیں۔ ادھر دیکھیے تو عصرِ حاضر انسان کی انفرادی و سماجی زندگی سے لے کر اُس کی مادی سہولتوں اور روحانی ضرورتوں تک ہمارے سامنے ایک ایسا نقشہ پیش کرتا ہے جس کی کوئی مماثلت گزرے ہوئے ادوار سے دکھائی نہیں دیتی۔ اس کے باوجود اگر ہم موازنے کی کوئی صورت کھینچ کھانچ کر بنا ہی لیں تو فوراً ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ موازنہ کسی کام کا نہیں ہوگا۔

ممکن ہے کچھ لوگوں کے لیے یہ خیال قرینِ قیاس نہ ہو کہ اس سے قبل تاریخ کے کسی زمانے میں کسی بھی تہذیب اور سماج پر ایسا کوئی دور نہیں گزرا جیسا اس وقت گزر رہا ہے، لیکن ذرا تحمل سے عصرِ حاضر کے انسان اور اُس کو درپیش صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو بات سمجھ آنے لگتی ہے۔ اس کے باوجود اگر ہم ان سب چیزوں کو ماننے پر آمادہ نہیں ہیں تو بھی یہ طے ہے کہ کچھ عرصے بعد آنے والا وقت اس حقیقت کی تصدیق کر دے گا۔ 

اصل میں کسی دور اور اُس کے واقعات و تجربات کے دوران میں حالات اور حقائق بڑی حد تک سیال حالت میں ہوتے ہیں۔ اس لیے اُن کی کیفیت اور نوعیت کو پوری طرح گرفت کرتے ہوئے کوئی حکم لگانا خاصا مشکل، بلکہ محال ہوتا ہے۔ ہمارے عہد میں تو صورتِ حال یہ ہے کہ وہ امور جو پہلے واضح طور پر طے اور اقدار کی حد تک ٹھوس سمجھے جاتے تھے، وہ بھی معرضِ اشتباہ میں ہیں۔ افکار، تصورات، نظریات کا تو ذکر ہی کیا، اس وقت تو عقائد اور محکمات تک تزویر، تخویف، ترمیم اور تنسیخ کی زد پر ہیں۔

اس پورے مسئلے کو سمجھنے کے لیے اگرچہ بعض تفصیلات اور حوالہ جات کی ضرورت ہے تاکہ معاملہ پوری طرح واضح ہو لیکن اگر ہم اس عہد کی کیفیت کو سمجھنے کے لیے محض ایک تجربے کو بھی پیشِ نظر رکھیں تو بات کسی حد تک قابلِ فہم ضرور ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر آپ دیکھیے کہ آج ورچوئل ریئلٹی انسانی زندگی کے پورے منظرنامے کو محیط ہوئی جاتی ہے۔ تہذیبوں میں پولارائزیشن اور ثقافتی مظاہر میں اوور لیپنگ کا عمل اس درجہ تیزی سے بڑھتا جاتا ہے کہ کسی تہذیب کی انفرادی حیثیت کا تادیر باقی رہنا تقریباً ناممکن ہوتا جارہا ہے۔

اس لیے کہ آج تہذیبوں اور ثقافتوں کی اپنی اپنی شناخت کے حوالے اور امتیاز کے نشانات مٹتے جاتے ہیں، اور یہ سب کچھ جس رفتار سے ہورہا ہے، وہ اپنی جگہ ایک الگ اور تباہ کن احساس کا حامل ہے۔ اس سارے منظرنامے کا ایک اور بے حد ہول ناک پہلو یہ ہے کہ اس بہائو کے آگے کوئی بند باندھنا کسی طرح ممکن نظر نہیں آتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ معاشرے اور تہذیبیں جن کی بابت اب تک یہ تأثر قائم تھا کہ وہ کلوزڈ سوسائٹی والی داخلی قوت رکھتے ہیں، وہ بھی اس سیلاب کے آگے جمے رہنے کی اہلیت سے عاری ہوتے نظر آرہے ہیں۔ جاپان، روس اور جرمنی جیسے ملکوں میں انسانی سماج اور تہذیبی رویوں کی بدلتی ہوئی صورتوں کو دیکھ کر یہ اندازہ تو کرہی سکتے ہیں کہ مستقبل قریب کی دنیا کس یک رنگی کی حامل ہوگی۔

اب ذرا سوچیے، ایسا اس سے پہلے تہذیب و تمدن کی تاریخ کے کس دور میں اس رنگ و رفتار سے ہوا ہے۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ اب سے پہلے دو ملک، دو سماج یا دو تہذیبیں آپس میں ٹکراتی تھیں۔ اس ٹکراؤ کی بنیاد یوں تو مذہب اور افکار پر بھی رہی ہے، لیکن ایسا زیادہ تر معاشی اور سیاسی مقاصد کے تحت ہی ہوتا آیا ہے۔ ظاہر ہے، اس دنیا میں زورآور کا بول ہمیشہ بالا رہا ہے، لیکن ابنِ خلدون کے بقول ایسے حالات میں کسی تہذیب اور قوم کی عصبیت اس کے استحکام یا بقا ہی کے لیے سب سے مؤثر قوت کی حیثیت میں سامنے نہیں آتی تھی بلکہ اس گرداب سے نکلنے اور بحالی کا راستہ اختیار کرنے میں بھی سب سے اہم کردار ادا کرتی تھی۔ 

اس لیے کہ فرینک اور کانر کے بقول کم زور تہذیب سیاسی، معاشی، ثقافتی اور سماجی سطح پر پسپا تو ضرور ہوتی تھی، لیکن وہ آسانی سے مٹتی نہیں تھی۔ اس لیے کہ وہ اپنے لوگوں کے دلوں میں پناہ ڈھونڈ لیتی تھی۔ اب صورت یہ ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے تہذیبوں کے خدوخال دھندلائے چلے جاتے ہیں، یوں اُن کا مٹنا اور معدوم ہونا حیران کن حد تک آسان ہوگیا ہے۔ اب دلوں کو اُن کی طرف سے پھیرنے والی کتنی ہی چیزیں فراہم کر دی جاتی ہیں، یوں اُن کے لیے پناہ کا امکان ہی ختم ہوا جاتا ہے، لیکن ابھی اس مسئلے پر ہماری دنیا میں کچھ زیادہ توجہ نہیں دی جارہی۔ ظاہر ہے کہ توجہ تو اس وقت دی جائے گی جب اس مسئلے کا صحیح طور سے اندازہ اور اس معاملے میں تہذیبی سطح پر دفاع کے رویے کا تعین ہوسکے گا۔ تبدیلی کا بہاؤ ابھی اس سوچ بچار کا شاید موقع ہی فراہم نہیں ہونے دے رہا۔

عہدِ حاضر میں ہم ایک ایسی مابعد جدید دنیا میں جی رہے ہیں جہاں تاریخ کے خاتمے، وقت کی نوعیت میں تبدیلی، پوسٹ کلچر، پوسٹ آئیڈیولوجی اور پوسٹ نیشنلزم کے رجحانات نمایاں ہی نہیں ہورہے، بلکہ تیزی سے فروغِ پارہے ہیں۔ یہ سارا کام ایک عالمی ایجنڈے کے تحت ہو رہا ہے اور اس کے لیے کچھ قوتیں اپنے واضح اہداف کے ساتھ مصروفِ کار ہیں۔ لہٰذا ایک کے بعد دوسری چیز اس طرح ہو رہی ہے کہ پوسٹ کلچر اور پوسٹ نیشن صورتِ حال کی راہ ہموار ہوتی چلی جائے۔ ایک اور بات بھی قابلِ غور ہے، وہ یہ کہ اپنے ظاہر میں یہ عمل بالکل سادہ، بہت معمولی اور نہایت دل چسپ ہے۔

لہٰذا خارجی منظرنامے میں یہ کسی تخریب کا مظہر معلوم نہیں ہوتا بلکہ تأثر یہ ملتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ سب فطری اور محض وقت کے زیرِ اثر ہے۔ آدمی ہو یا سماج، آسانی سے اپنی شناخت سے دست برداری پر آمادہ نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ ہزاروں برس کے عمل نے اُس کی ذہن سازی کی ہے اور وہ ایک بڑا سفر کرکے یہاں تک پہنچا ہے۔ ایسے میں اس عہد کے انسان کے اندر اپنی تہذیبی، ثقافتی اور اخلاقی قدروں سے وابستگی اور اُن کے حوالے سے اپنی شناخت پر اصرار کا ردِعمل پیدا ہونا فطری بات ہے۔ 

اس ردِعمل کو روکنے بلکہ مکمل طور سے ختم کرنے کے لیے پوری ایک صورتِ حال بنائی جارہی ہے، جس کا سرنامہ ہے گلوبل ولیج۔ اب تک کے تہذیبی سفر میں تشکیل پانے والے نظریات، تصورات اور افکار کو بدلنے کے لیے فکر و خیال کا ایک متبادل نظام پیش کیا گیا ہے۔ اس کے اہداف تو یقینا کچھ اور ہیں اور بہت بڑے بھی، لیکن اس کے اثر انداز ہونے کا تخمینہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اقوامِ عالم میں تہذیبوں کی جڑوں پر ضرب لگ رہی ہے اور ردِعمل کا کوئی موقع پیدا نہیں ہورہا۔ سماجی و ثقافتی ادارے انھی آلات اور پیمانوں سے اپنی تہذیب و تاریخ کو ٹٹولنے اور ماپنے کے کام کا آغاز کررہے ہیں جو متبادل نظام انھیں فراہم کررہا ہے۔ 

تشویش کی بات یہ ہے کہ اکثر و بیشتر جگہوں پر لوگ یہ تک نہیں سوچ رہے کہ اس ساری جستجو کے نتیجے میں انھیں اپنے تہذیبی ضمیر کی آواز سننے کو ملے گی اور اپنی اجتماعی روح کا احوال ان پر کھلے گا یا پھر کسی الٹ پھیر کے نتیجے میں وہ خرابی رونما ہوگی، جو یہ متبادل نظام دراصل اُن کے اندر پیدا کرنا چاہتا ہے، یہ بے حد اہم اور غور طلب مسئلہ ہے۔ یوں عہدِحاضر میں ثقافتی مظاہر، خصوصاً فنونِ لطیفہ اور سب سے بڑھ کر ادب کو فنا و بقا کا سوال درپیش ہے۔ یہ سوال دراصل تہذیب کے نظامِ مدافعت کو گزند پہنچانے کے لیے کیا گیا ہے۔ شناخت کے انفرادی حوالوں کو دھندلانے کے لیے کیا گیا ہے۔

یہ بات واضح اور حتمی طور پر سمجھ لینی چاہیے کہ تہذیب کو پیش آنے والے چھوٹے بڑے ہر سوال کا سامنا یوں تو اُس کے فنونِ لطیفہ سے وابستہ کم و بیش سارے ہی اذہان کرتے ہیں خواہ اُن کا شعبہ اور دائرئہ کار کچھ بھی ہو، لیکن اس نوع کی صورتِ حال میں سب سے بڑا اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں اُس کے ادیب شاعر۔ چناں چہ ہمیں کسی تکلف اور تأمل کے بغیر اپنے ادیبوں اور شاعروں سے یہ سوال پوچھ لینا چاہیے، کیا وہ اپنے عہد کی صورتِ حال اور اُس کے پیش کردہ اس سوال سے آگاہ اور اس کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔