• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

باکمال شہری، لاجواب شہر...دوسرا رخ۔۔۔۔۔۔رضا علی عابدی

بہاول پور کا ذکر جاری ہے، اس شہر کی پہلی خوبی وہاں کا سکون ہے اور دوسری خوبی وہاں کے باکمال افراد ہیں، پڑھے، لکھے، لائق، ہنرمند، باشعور اور سب سے بڑھ کر دردمند۔ شہر میں ایک صاحب نے ایک تحریک چلائی ہے کہ ہر شخص کم سے کم ایک فرد کو تعلیم دلانے کی ذمہ داری سنبھالے، ایک طالبعلم کی کفالت اپنے ذمہ لے، اپنی نگرانی میں اسے تعلیم دلائے اور اس طرح معاشرے کے سیکڑوں، ہزاروں افراد پڑھ لکھ جائیں اور ملک کے کارآمد شہری بنیں۔ ملک پر یاد آیا کہ جن صاحب کا یہ ذکر ہے انہیں پاکستان سے والہانہ لگائو ہے۔ چاہتے ہیں کہ یہ ملک دنیا کے نقشے پر تابناک سرزمین کی طرح چمکے چنانچہ انہوں نے اپنا نام جگنو پاکستانی رکھ لیا ہے۔ دنیا انہیں مسعود صابر کے نام سے جانتی ہے اور ان کے قائم کیے ہوئے ادارے وسیب سے خوب واقف ہے۔ یہ سرائیکی لفظ ہے جس کا مطلب ہے اپنا ٹھکانا اور اپنے لوگ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وسیب کا نام سرائیکی اور اس کی روح اردو ہے۔ مسعود صابر کو پورا یقین ہے کہ بہاول پور کا علاقہ سن ہزار بیس تک اردو کی سرزمین بن جائے گا اس کے لئے انہوں نے اردو کتاب گھر قائم کیا ہے جو ہر بچّے کے ہاتھ میں اردو کتب پہنچانے کا عزم لے کر کھولا گیا ہے۔ وہ اگلے برس عالمی اردو اجتماع کی تیاریاں کر رہے ہیں اور اردو ایف ایم کے نام سے ایسی نشرگاہ قائم کرنے کا سوچ رہے ہیں جو سننے والوں کو سہل، شستہ اور شائستہ اردو سننے، بولنے اور اسے فروغ دینے کا موقع فراہم کرے گی۔ وسیب کو قدرت نے وسائل دیئے ہیں اور جگنو پاکستانی کو جوشیلے نوجوانوں کی ایک جمعیت فراہم کی ہے جو نہایت مستعدی سے ان کی تحریک میں سرگرم ہیں۔ پاکستان اور اردو کے نام پر یہ سب مل کر اپنے ملک، اپنے شہر اور اپنی زبان کا نام روشن کرنے کی تگ و دو میں منہمک نظر آتے ہیں۔
اس تحریک کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں شریک کوئی شخص تنہا نہیں۔ شہر میں ایک قافلہ سا بن گیا ہے جو اپنی علمیت اور قابلیت کا سرمایہ لئے اس مہم میں شریک ہے۔ ایسی مالامال جمعیت میں ڈاکٹر اسلم ادیب جیسے ماہر تعلیم شامل ہیں جنہوں نے ایک کمال کر دکھایا ہے۔ انہوں نے پسماندہ سرکاری اسکولوں سے ہونہار بچیوں کو چن کر اور انہیں اپنے پروں میں لے کر ان کی تعلیم کی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ نو عمر طالبات اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیوں کی ذہنی سطح پر جا پہنچی ہیں۔ ان سے گفتگو کر کے احساس ہوتا ہے کہ تعلیم کو زیور سے تشبیہ دینے کی ترکیب جس نے بھی وضع کی، کمال کیا۔ علم کا حسن عجب تاثیر رکھتا ہے کہ اس کو دیکھنے سے آنکھوں سے زیادہ ذہن کی بینائی تیز ہوتی ہے۔ قدم ملا کر ان چلنے والوں میں سیّد علی عصیت بھی شامل ہیں جنہوں نے ایک عمر میڈیا سے وابستہ رہ کر گزاری ہے۔ ٹیلی وژن کے ڈرامے لکھتے ہیں، گانے رقم کرتے ہیں، بانکے میاں کے کردار کے خالق ہیں۔ بہاول پور والے انہیں شہر کا فرزند قرار دے کر ان کی قدر کرتے ہیں۔ یہ شہر حقیقتاً اہل علم کی بستی ہے۔ اس میں بسنے والوں میں ایک درخشاں نام ڈاکٹر نجیب جمال کا ہے۔ اردو زبان سے ان کے رشتے میں بے پناہ لگائو شامل ہے۔ تحریر اور تقریر کو اپنی شائستہ زبان سے آراستہ کرتے ہیں اور وسیب کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر اپنا حصّہ ڈالتے ہیں۔ ایسے ہی ایک حصّے دار جسٹس (ریٹائرڈ) ملک فرخ محمود ہیں۔ علاقائی تمدّن کے تحفظ اور اردو کے فروغ میں وہ جس طرح ہاتھ بٹاتے ہیں اسے دیکھ کر دوسروں کا حوصلہ بلند ہوتا ہے۔ اس پوری تحریک اور مہم کا ایک سرپرست اعلیٰ بھی ہے اور وہ ہیں اسلامیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد مختار، ہر لمحہ بیدار، ہر پل مستعد، ہر دم علم کے شہر میں نئی نئی عمارات اٹھانے کی دھن میں مگن ہیں۔ وسیب کے منصوبوں میں برابر کے شریک۔ انہی کی تحریک پر بہاول پور میں اگلے برس ایک بڑے اردو اجتماع کا ڈول ڈال دیا گیا ہے۔ میں گیا تو اصرار تھا کہ یونیورسٹی کے طالب علموں سے خطاب کروں۔ نئے کیمپس کی لق و دق سماعت گاہ میں جلسے کا اہتمام کیا گیا۔ ہر شعبے کے طلبا و طالبات اکٹھے تھے۔ ڈاکٹر محمد مختار نے خطاب کیا تو خواتین و حضرات کے بجائے پیارے بچوّں اور بچیوں سے شروع کیا۔ میرے لئے یونیورسٹی کی اعزازی پروفیسر شپ کا تقررنامہ لے کر آئے تھے۔ بچّے اس خیال سے کھل اٹھے کہ میں جب چاہوں ان کی جماعت میں آ کر لیکچر دے سکتا ہوں۔ تقرر کی یہ رسمی کارروائی ہو رہی تھی اور ڈاکٹر صاحب مائیکرو فون پر خطاب کر رہے تھے۔ ان کے سیکرٹری نے قریب آ کر ان کے کان میں کچھ کہا۔ ڈاکٹر صاحب بولے کہ ایک ضروری ٹیلی فون کال سننے کیلئے چند منٹ کی معذرت چاہتے ہیں۔ وہ اسٹیج کے پیچھے چلے گئے اور جلسے کی کارروائی جاری رہی۔ وہ چند منٹ والی بات سچ نکلی۔ وائس چانسلر صاحب ذرا دیر بعد اسٹیج کے پچھواڑے سے برآمد ہوئے۔ مائیکرو فون پر آئے اور کہا کہ لاہور سے گورنر پنجاب لائن پر تھے۔ انہوں نے مجھے ہدایت کی ہے کہ رضا علی عابدی کو اعزازی ڈاکٹریٹ دیئے جانے کا اعلان کر دیا جائے، وہ کر دیا گیا۔ میں نے اتنے بہت سے طالب علموں کو بیک وقت اتنا خوش ہوتے ہوئے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ سارا مجمع اٹھ کھڑا ہوا اور اتنی دیر تک اتنی زور دار تالیاں بجائیں کہ میرے لئے یہ طے کرنا مشکل ہو گیا کہ کس ڈھب کھڑا ہوں۔ کس پہلو سر کو جھکائوں، ہاتھوں کو کیسے تھاموں اور چہرے پر وہ تاثّر کیوں کر طاری کروں جس سے تشکّر کے سوا اور کچھ ظاہر نہ ہو۔
بہاول پور کی یونیورسٹی نے اپنی تاریخ میں پہلی اعزازی پروفیسر اور دوسری اعزازی ڈاکٹریٹ مجھے عطا کی۔ ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ پیٹھ پر چھوٹی سی شاباش کی تھپکی مجھے اچھی لگتی ہے لیکن اس بار تو یوں ہوا کہ میں خالی ہاتھ بہاول پور گیا تھا، عزت اور محبت کی جھولی بھر کر واپس آیا۔ اپنا پہلا جملہ دہراتا ہوں۔ مجھے سکھ اور چین کی تلاش تھی، میں بہاول پور چلا گیا۔
تازہ ترین