• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آئین میں سپریم کورٹ ایک جج کا نام نہیں ، تمام جج برابر، چیف جسٹس کی اضافی ذمہ داریاں انتظامی امور کا نگراں ہے۔ آج انتظامی امور سپریم کورٹ میں وجہ نزاع بن گئے۔ ایک چیز آئین و قانون دوسری چیز اس پر مبنی انصاف۔ آئین و قانون کیمطابق فیصلے، انصاف کے تقاضے تو شاید پورے ہو جائیں، فیصلے برحق ہو پاتے ہیں؟ ’’کتاب الحکمت‘‘کی سورۃ کا ایک حصہ سپریم کورٹ کا رہنما اُصول ہے۔

’’اے دائود! ہم نے تمہیں زمین پر خلیفہ بنایا ہے، لہٰذا تم لوگوں کے درمیان برحق فیصلے کرو، اور نفسانی خواہش کے پیچھے نہ چلو ورنہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی ، یقین کرو کہ جو لوگ اللہ کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں اُن کے لئے سخت عذاب ہے‘‘۔ (38:26)دورائے نہیںآرٹیکل 184(3) کی پریکٹس قرآن کی اس آیت سے متصادم ہے ۔ سپریم کورٹ کے جج صاحبان کی ذاتی رائے، غم و غصہ، بعض اوقات قانون اور آئین سے باہرایسے اقدامات جو توجیہ و تشریح کے محتاج، ’’برحق فیصلوں‘‘ کے بنیادی تقاضے پورے نہیں ہو پائے۔

کم و بیش ڈھائی ہزار سال پہلے عظیم یونانی فلسفی ارسطو نے قانون سازی کے رہنما اُصول دئیے۔ انصاف (JUSTICE) اور قانون (LAW) کیساتھ’’قانون برحق‘‘ (EQUITY)کو لَف رکھا ۔ LAW OF EQUITABLE JUSTICE انصاف کی بنیاد بنایا۔جبکہ برحق فیصلے دوراندیشی، حکمت اور زمینی حقائق کے مرہون مِنت ہیں۔ پانامہ لیکس پر جب نوازشریف کو ہتھیانے اور ہٹانے کی سبیل پیدا ہوئی تو عمران خان کی آف شور کمپنی ’’نیازی سروسز لمیٹڈ‘‘ بھی منظر عام پر آگئی۔ ایک ہی وقت میں ایک ہی طرح کے دو مقدمات ،دو مختلف معیار اپنائے گئے۔ LAW OF EQUITABLE JUSTICE کے پرخچے اُڑے۔ایک ہی مقدمہ میں عمران خان اور جہانگیرترین کیلئے انصاف کا دہرا معیار استعمال میں رہا۔نوازشریف کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے ایسے جتن ہوئے کہ رہتی دُنیا یہ سیاہ دھبہ ہماری عدلیہ کے ماتھے پر چسپاں رہنا ہے۔ دوسری طرف عمران خان کو مسندِ اقتدار پر لانےکیلئے قانون کے اندر کشادہ راہیں تلاش ہوئیں۔ خاکم بدہن اگر وطن عزیز آج کسی حادثہ کے قریب تو ان دو مقدمات کا رول کلیدی رہناہے۔ دونوں مقدمات میں فیصلے ، برحق فیصلوں سے کوسوں دور نظر آئے۔ تب سے اب تک مملکت اور اداروں میں ایک افراتفری ، ٹکراؤ شکست وریخت اُبھر کر سامنے ہے۔ تب سے کئی ساتھی جج کھڈے لائن جبکہ اُن کو عدالتی نظام سے باہر کرنے کے جتن شاملِ حال رہے ۔ قاضی فائز عیسیٰ برخاستگی سے بال بال بچے کہ جسے اللہ رکھے اُسے کون چکھے ۔ سپریم کورٹ کاایسا فیصلہ بھی کہ قاضی فائز عیسیٰ عمران خان سے متعلق مقدمات میں شامل نہیں ہونگے ۔ عدالتی تباہی کی آگ آج ایسے مقام پرجو پورے ملک کو بھسم کرنے کوہے ۔

مریم نواز کا کہنا سچ ،’’عدالتی نظام ’’جوائے لینڈ’’بن چکا ہے‘‘۔ پچھلے ہفتوں کے واقعات توثیق کر رہے ہیں ۔ عمران خان کا جتھوں کے جلو میں انصاف لینا، ایک جدت متعارف کروا دی، عدالتی نظام کی ایسی تضحیک کبھی سوچا نہ تھا۔

عمران خان اپنے خلاف ’’برحق انصاف‘‘میں رکاوٹ کہ اُن کے نزدیک،’’اُنہوں نے کوئی جُرم کیا ہی نہیں تو عدالت کی کیا ہمت کہ کیسے اور کیوں اُنکے مقدمات سنے‘‘؟ چشم تصور میں جو الزامات آج عمران خان پرہیں اُنہی الزامات کی زد میں اگر یہی نوازشریف یا دیگر دوسرے سیاستدان ہوتے تو عمران خان اور ماننے والے ہانپ ہانپ کر کیا کیا دلیلیں دے رہے ہوتے؟ قصوروار عمران خان نہیںاصل قومی مُجرم وہ ہیں جنہوں نے سیاسی انجینئرنگ سے ایسا ہیرا تراشا ۔ خاطر جمع رکھیں، عمران خان کا اپنا حشر بھی مختلف نہیں رہناکہ اپنے حشر نشر سے پہلے سہولت کار ادارے جس تضحیک کے دور سے گزر رہے ہیں ، اس میں’’دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو‘‘۔ تمام شریک جُرم ڈھونڈ کر الزامات ایک دوسرے کے سر پر ڈال رہے ہیں۔ جنرل باجوہ اپنے تئیں تمام کرداروں کو اور باقی کردار ایک دوسرے کو بیچ چوراہے عریاں کر رہے ہیں۔

چند ہفتے پہلے انہی صفحات میں درج کیا کہ ’’ادارے اندرونی خلفشار اور انتشار کا شکار، کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہیں‘‘،آج وہ طوفانی بگولہ اُٹھ چکا ہے۔ کیا بڑے ادارے اندرونی دھینگا مُشتی سے نبردآزما ہو پائیں گے؟ چند ہفتوں کے اندر سپریم کورٹ کے اندر ایسی انہونیاں کبھی وہم و گمان میں نہ تھا۔ قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس یا نئے ججوں کی تعیناتی پر گندے کپڑے بیچ چوراہے دھونا قصہ پارینہ بننے کو تھے کہ نئی وارداتیں گُل کِھلانے کو ہیں۔پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کیلئے آئین کی غیر آئینی تشریح سے جنم لینے والا بحران، 90دن کے اندر الیکشن کروانے پر سوموٹو اور اُس پر من پسند بینچ اور بینچ پر متنازع ججوں کی موجودگی نے سپریم کورٹ کے اندر چپقلش کو خبروں کی زینت بنایا۔ بینچ کا فیصلہ 5\4ہے یا 3\2 عدالتی تاریخ کا ایک مزاحیہ پروگرام قومی تفریح کا سبب بنا۔ جب دوبارہ توہین عدالت کی پٹیشن پر کارروائی ہوئی تو اعجازالاحسن کا بینچ پر دوبارہ براجمان ہونا ساکھ کو دھچکا لگا گیا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے شو اُچک لیا اور یہ اعلان فرمایا کہ پٹیشن پہلے ہی 4\3 سے رد ہو چکی ہے ۔

سونے پر سہاگہ، قوم باجماعت اس تُو تکار کا مزہ لے رہی تھی کہ قاضی فائز عیسیٰ کے ایک بینچ نے سوموٹو کیس کو مزید آگے بڑھانے سے روک دیا ۔ فیصلہ دیا کہ سپریم کورٹ زیر بحث درخواست پر کارروائی کو آگے نہ بڑھائے ،جب تک سوموٹو کی حدودقیود کا تعین اسمبلی میں زیر بحث ہے ۔اُس کے نتیجے میں ٹوٹا پھوٹا بینچ بھی ٹوٹ چکا ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کی روشنی میں جسٹس امین الدین نے اپنے آپ کو علیحدہ کر لیا ۔ اگلی کوئی بھی پیش رفت کشیدگی کو مزید بڑھائے گی۔

ہر آنے والا دن صورتحال کو بد سے بد تر بنانے کو ہے۔بلاشبہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کی سیاست کا مکو ٹھپنے میں یکسو ہے۔ عمران خان کیخلاف ابھی تک جو حکمت عملی بھی بنائی ، مقبولیت کو چار چاند لگا گئی ۔ میرا تجسس ، اب جبکہ تنگ آمد بجنگ آمد ، عمران خان پر آخری وار ہونے کو، تو اسٹیبلشمنٹ کا اپنا ادارہ سپریم کورٹ سے کس قدر مختلف رہے گا۔ عمران خان کی سیاست کے خاتمہ بالخیر کے بعد مملکت کس حال میں ہوگی، آنے والا وقت بہت کچھ بتانے کو۔

تازہ ترین