• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ترتیب و تدوین: رفعت مالک

صفحات: 201، قیمت: 500 روپے

اسٹاکسٹ: پنجاب بک ڈپو، الفضل مارکیٹ، اردو بازار،لاہور۔

فون نمبر: 042-37233749

حیات اللہ انصاری 1901ء میں پیدا ہوئے، لکھنؤ سے تعلق تھا، کئی جرائد کے ایڈیٹر رہے، افسانوں، ناولز کے ساتھ تنقید بھی لکھی۔ 1922ء میں کانگریس سے منسلک ہوئے اور وفات(1999ء) تک یہ رشتہ برقرار رہا۔ سیاسی طور پر خاصے فعال رہے۔ اُن کے ناول’’ لہو کے پھول‘‘ پر ایک ٹی وی سیریل بھی بنا، جب کہ 1945ء میں اُن کی کہانی’’ نیچا نگر‘‘ پر بننے والی فلم کو عالمی فلم میلے میں ایوارڈ ملا۔ یہ بھارت کی پہلی فلم تھی، جسے کسی عالمی اعزاز سے نوازا گیا۔ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سمیت کئی اعزازات سے نوازے گئے۔’’ انوکھی مصیبت‘‘،’’ بھرے بازار میں‘‘،’’ شکستہ کنگورے‘‘ اور’’ٹھکانا‘‘ اُن کے افسانوں کے مجموعے ہیں۔

حیات اللہ انصاری کا شمار بھولے بسرے ادیبوں میں ہوتا ہے کہ ناقدین نے اُنھیں کچھ زیادہ توجّہ کے قابل نہیں سمجھا، حالاں کہ بعض نے اُن کے افسانے’’ آخری کوشش‘‘ کو پریم چند کے’’ کفن‘‘ سے بھی آگے کی چیز قرار دیا تھا۔زیرِ نظر کتاب کی اشاعت میں پنجاب بُک ڈپو کے محمّد خالد چوہدری کی خصوصی کاوشیں شامل ہیں، جنھوں نے ایک طالبہ، رفعت مالک سے یہ افسانے حاصل کیے، جو اُنھوں نے اپنے ایم فِل کے مقالے کے لیے تلاش کیے تھے۔اِس کتاب کے لیے حیات اللہ انصاری کے 10 افسانوں’’ انوکھی مصیبت‘‘، ’’ڈھائی سیر آٹا‘‘، ’’بَھرے بازار میں‘‘، ’’ پرواز‘‘، ’’آخری کوشش‘‘،’’ماں بیٹا‘‘، ’’چچا جان‘‘،’’خلاص‘‘،’’بے حد معمولی‘‘ اور’’ سربستہ راز‘‘ کا انتخاب کیا گیا ہے۔

انصاری صاحب بنیادی طور پر ایک ترقّی پسند ادیب تھے، اُن کے افسانوں میں زیادہ تر معاشرتی کش مکش، بالخصوص نچلے طبقات کے مسائل کی منظر کشی کی گئی ہے۔ اُن کے ہاں غربت، درد، کرب اور غم کی کثرت ہے، شاید اِس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ اُن کا بچپن بھی کچھ ایسے ہی حالات میں گزرا۔کتاب کا دیباچہ نام وَر نقّاد، انور سدید نے تحریر کیا ہے۔ اُنھوں نے حیات اللہ انصاری کے مختلف افسانوں کے تناظر میں بہت تفصیل سے اُن کی فنی جہات کا جائزہ لیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ’’ آخری کوشش‘‘کی نسبت سے حیات اللہ انصاری کو ایک بڑا ترقّی پسند افسانہ نگار تو تسلیم کیا گیا ہے، لیکن اُن کے فن کی دوسری جہات کو پوری روشنی میں لانے کی کوشش نہیں گئی۔‘‘