گزشتہ دنوں علم الاخلاق کے موضوع پر ملک کے نامور سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کالم نظر سے گزرا جو اپنے موضوع پر ایک عمدہ کالم تھا یہ کالم پڑھ کر ہمیں بھی ترغیب ہوئی کہ ہم بھی اس موضوع پر اظہار خیال کریں ۔
ساری مہذب دنیا علم الاخلاق سے بھرپور رہنمائی حاصل کررہی ہے اس علم کی روشنی میں رہنما اصول مرتب کئے جاتے ہیں جس سے انسانی روئیے بہت سی خوبیوں سے آراستہ ہوکر ایک اچھے انسان کے طور پر اپنے اداروں میں بھی ان خوبیوں کا مظاہرہ کرتے ہیں جس سے ان اداروں کے مقاصد کو بحسن و خوبی حاصل کرتے ہیں لوگوں کو اعلیٰ درجے کی خدمات فراہم کرکے اپنے ملک و قوم کو ہر اعتبار سے ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو ساری دنیا کیلئے معلّم الاخلاق تھے انہوں نے اپنی سیرت وکردار سے اپنی ذاتی، معاشرتی، سیاسی غرض کہ ہر شعبہء زندگی میں اپنے عمل سے اس کی بے شمار مثالیں پیش کرکے اخلاقیات پر امت مسلمہ کی مکمل رہنمائی فراہم کی۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس رہنمائی سے کب استفادہ کرتے ہیں۔
امریکہ میں اپنی تعلیم کے دوران ہم نے اخلاقیات (Ethics) کے مضمون کو باقاعدہ ڈسپلن کے طور پر پڑھا اور وہاں کئی مباحث میں حصہ بھی لیا۔ امریکہ میں 80 اور 90 کی دہائیوں میں اخلاقیات پر کافی کام ہورہا تھا اور وہاں کی معروف سوسائٹی’’امریکن سوسائٹی فار پبلک ایڈمنسٹریشن (ASPA)‘‘ نے اپنے ملک و قومی اداروں کےلئے ایک ضابطہ اخلاق بھی مرتب کیا جو وہاںکے اداروں میں نافذ العمل بھی ہے اس ضابطہ اخلاق کا خلاصہ بلکہ اس کا مفہوم قارئین کی دلچسپی کے ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔
٭عوام کی خدمت کے بنائے گئے قومی اداروں میں احترام آدمیت، خوش خلقی، اور انسان دوستی کا مظاہرہ کیا جائے اور جواب دہی کا خوف محسوس کرتے ہوئے اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر رہ کر قومی خدمات انجام دی جائیں۔ عوام کے ساتھ برتاؤ میں خیر سگالی کے جذبات کا مظاہرہ ہونا چاہئے۔
٭اپنی اعلیٰ پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے نہ صرف خود کام کریں بلکہ جو لوگ قومی ترقی کے لئے پیشہ وارانہ انداز سے کام کرنا چاہتے ہوں ان کی پوری حوصلہ افزائی اور معاونت کریں اور اپنے ساتھ ساتھ اپنے ساتھیوں کے بھی پیشہ وارانہ انداز سے کام کرنے کی حکمت عملی تیار کی جائے۔
٭اپنی تنظیمی اور منصبی ذمہ داریوں کو مثبت اور تعمیری انداز سے ادا کیا جائے، اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے اداروں میں خدمات اس انداز سے کی جائیں کہ قومی مفادات فروغ پائیں ہمدردی اور خدا ترسی کا رویہ خود بھی اختیار کریں اور دوسروں کو بھی تلقین کی جائے۔
٭سرکاری عہدوں پر فرائض منصبی اس انداز سے انجام دئیے جائیں کہ تمام اقدامات ذاتی مفادات سے بالاتر نظر آئیں
٭فرائض منصبی کے تقاصے کے طور پر خصوصی معلومات جنہیں خفیہ رکھنا چاہئے، اس کی ممکنہ حفاظت کی جائے اور کسی صورت میں اخفا نہ کیا جائے۔
٭ایسی دلچسپیوں اور سرگرمیوں سے احتراز کیا جائے جن کا تصادم سرکاری فرائض کی انجام دہی سے ہو یعنی یہ سرگرمیاں سرکاری منصب کے شایان شان ہوں
٭صوابدیدی اختیارات کو عوام کے مفاد میں اور قانون کے دائرے میں استعمال کیا جائے۔ انتقامی ہتھیار کے طور پر نہیں۔
٭اداروں میں پیدا ہونے والے مسائل کو اپنی ذمہ داری کے طورپر قبول کریں عوام کے مفاد کو ہر صورت میں مقدم رہنا چاہئے اپنے فرائض کی ادائیگی میں اپنی پیشہ وارانہ مہارت، انصاف، غیر جانبداری ملحوظ خاطر رہے اور فرائض مؤثر طریقے اور مستعدی سے ادا کیے جائیں۔
٭تقرر میں اہلیت اور قابلیت (Merit) کے اصول کو پیش نظر رکھا جائے ملازمتوں کے انتخاب میں معاشرے کے ہر طبقے کو برابر کے مواقع مہیا کرنے کا تاثر ملنا چاہئے۔
٭غیر قانونی طریقوں سے لوگوں کے استحصال کے عمل کو ناکام بنادیں، دھوکہ، بدنظمی، اور قومی خزانے کو نقصان اور خورد برد ہونے سے روکا جائے اور ایسے ساتھی جو اس کا دفاع کررہے ہوں ان کی بھر پور حمایت اور مدد کریں جن کو ان معاملات کامقابلہ کرنے میں مشکلات درپیش ہوں
٭ایسے اقدامات کی حمایت کریں جن کا تعلق ادارے کی ترقی، ملکی آئین کا احترام ریاستی قانون پر عمل درآمد اور دوسرے متعلقہ اداروں میں کام کرنے اور عام شہریوں کے مفاد سے ہو۔
یہ وہ اصول ہیں جو دنیا کے سب سے بڑے اور طاقتوں ملک نے اپنے قومی اداروں اور عوام کے مرتب کیے ان اصولوں کی پاسداری سے اچھا طرز حکومت (Good Governance) جنم لیتا ہے اگر ہم ان اصولوں کی روشنی میں اپنے گورننس اور بیوروکریسی کے طرز عمل کا موازنہ کریں تو کئی مقامات پر یہ محسوس ہوگا کہ ہمارے روئیے ان اصولوں سے قطعی متضاد ہیں اور ظاہر ہے کہ ایک غلط عمل کے نتیجے میں اچھا طرز حکومت کیسے وجود میں آسکتا ہے؟ اچھی بات سے استفادہ کرنا یہ سوچے بغیر کہ یہ کس نے کہی، تدبّر کی علامت ہے۔
اخلاقیات تلاشِ حق و صداقت کا نام ہے ایک ایسی صداقت جو انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں شامل ہوکر ایک مثالی انسان بناسکتی ہے اخلاقیات سے حاصل کردہ صداقت جہاں صحیح وغلط بات کا تعین کرتی ہو وہاں زندگی کی فضیلت کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔ اس میں ایسے واقعات بھی بیان کیے جاتے ہیں جو ان نتائج کی نشاندہی کرتے ہیں جو اچھے لوگوں کے عمل کا نتیجہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت، دیانت و امانت کا خیال رکھتے ہیں اور حق و صداقت کی راہ پر چلتے ہیں سچائی کے برعکس جھوٹ اور دروغ گوئی جس کے بطن سے دھوکہ دہی، فریب، عہد شکنی، امانت میں خیانت، بددیانتی، ناانصافی، میرٹ کی نفی اور بے شمار دیگر عیوب پیدا ہوتے ہیں فرد کو پیشہ وارانہ بے راہ روی اور معاشرے کو دیوا رکی طرف لے جاتے ہیں اور ایسا اخلاق باختہ معاشرہ ملک و قوم کو تباہی کی طرف گامزن کردیتا ہے۔
اگر مندرجہ بالا ضابطہ اخلاق کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوگا کہ کوئی بھی اصول ہمارے فلسفہ حیات سے متصادم نہیںاس میں وہ تمام اقدامات شامل ہیں جو کسی بھی معاشرے کی ترقی کا ضامن بن سکتے ہیں۔ اس امر میں کوئی مشکل حائل نہیں کہ اس کی روشنی میں ہم بھی اپنے اداروں کے ضابطہ اخلاق مرتب کریں اور حکومت پالیسی گائیڈ لائنز اداروں کو مہیا کرے اور اس ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کا نظام بھی وضع کیا جائے اور جزاء و سزا کا نظام بھی۔ ہماری حکومت گڈ گورننس کے ضابطوں کی تدوین میں مصروف عمل ہے اور وژن ٹوانٹی فائیو پر کام ہورہا ہے۔ امید ہے کہ پیشہ ورانہ اخلاقیات (Professional Ethics) ایک مضبوط عامل کے طور پر اس وژن میں شامل ہوگی۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے قومی اداروں میں سربراہان کو پیشہ وارانہ صلاحیت اور ان کی اخلاقی اقدار کو پیش نظر رکھ کر تقرر نہیں کیا جاتا اور اس کے نتیجے میں کرپشن، میرٹ کے اصول کی پامالی، سرکاری خزانے کا خورد برد آسان ہوجاتا ہے اور ملک کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہوجاتی ہے۔