• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صوبہ ہزارہ کا مطالبہ نسلی لسانی نہیں انتظامی بنیادوں پر ہے‘ قائدین

اسلام آباد (جنگ نیوز) چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف، وفاقی وزیر مذہبی امور سینیٹر محمد طلحہ محمود، سابق وفاقی وزیر سید قاسم شاہ، سردار شاہ جہان یوسف، مرکزی کوآرڈنیٹر پروفیسر سجاد قمر، سید جنید قاسم شاہ، پارلیمانی سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر سجاد اعوان نے کہا ہے کہ جہاں ایک ہفتے میں 54بل پارلیمنٹ سے منظور کئے گئے ہیں وہاں صوبہ ہزارہ کا بل بھی فوری طور پر منظور کیا جائے۔ ایک بیان میں صوبہ ہزارہ تحریک کے رہنماؤں نے کہا کہ پارلیمنٹ سے54بل راتوں رات منظور کرنا اور 70لاکھ عوام کے مطالبے کو التواء میں ڈالنا شدید قابل تشویش ہے۔ صوبہ ہزارہ کا مطالبہ نسلی اور لسانی نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر ہے۔ہزارہ میں سترہ سے زیادہ قبائل بستے ہیں اور چھ سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔ کوہستان سے پشاور ایک دن کا سفر ہے۔ آئین اور قانون عوام کی سہولت کیلئے ہوتے ہیں نہ کہ ان کو مشکل میں ڈالنے کیلئے 3کروڑ کی آبادی میں بھی چار صوبے تھے اور اب 24 کروڑ میں بھی چار ہی صوبے ہیں۔ جہاں نئے ضلعے، تحصلیں اور ڈویژن بنتے ہیں وہاں پر نئے صوبے بھی بننے چاہئیں۔ صوبہ ہزارہ تحریک کے رہنماؤں نے اراکین پارلیمنٹ اور پارلیمانی لیڈروں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر صوبہ ہزارہ کا بل منظور کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر نئی مردم شماری سے انتخابات التواء کا شکار ہو سکتے ہیں تو ساتھ نئے صوبوں کو بھی شامل کیا جائے۔
اسلام آباد سے مزید