چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال کیریئر کا آخری فیصلہ سنا کر سپریم کورٹ سے روانہ ہو گئے۔
ترامیم کیس کا فیصلہ چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال کے کیریئر کا آخری فیصلہ تھا جس کے 3 رکنی بینچ میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بھی شامل تھے۔
چیف جسٹس عمر عطاء بندیال ترامیم کیس کا فیصلہ سنانے کے فوری بعد روانہ ہوئے۔
اس موقع پر چیف جسٹس پاکستان عمر عطاءبندیال نے عملے سے الوداعی ملاقات بھی کی۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال آج صبح ریٹائرمنٹ سے قبل آخری دن سماعت کے لیے کمرۂ عدالت میں آئے تو انہوں نے اس موقع پر وکلاء اور صحافیوں کا شکریہ ادا کیا۔
چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے آخری کیس میں وکلاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گڈ ٹوسی یوآل مائی فرینڈز۔
وکیل میاں بلال نے چیف جسٹس سے کہا کہ جب ہائی کورٹ میں آپ کا پہلا کیس تھا تو بھی میں ہی آپ کے سامنے پیش ہوا، آج سپریم کورٹ میں آپ کا آخری کیس ہے تب بھی پیش ہو رہا ہوں۔
چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے وکیل سے کہا کہ آپ کا کیس تو غیر مؤثر ہو گیا ہے، لیکن اگر دلائل دیں گے تو دل کو خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔
وکیل میاں بلال نے کہا کہ آپ نے ہمیشہ تحمل سے ہمیں سنا۔
چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے جواب دیا کہ ہمارا فریضہ ہے کہ سب کو تحمل سے سنیں، بار کی طرف سے ہمیشہ تعاون اور سیکھنے کو ملا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کالا کوٹ پہن کر ہم خود کو بار کا حصہ سمجھتے ہیں، جسٹس ساحر علی کہا کرتے تھے کہ بار تو ہماری ماں ہے، ان شاء اللّٰہ بار روم میں ملیں گے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا کے ساتھیوں کا بھی شکریہ جنہوں نے مجھے مستعد رکھا، میڈیا کی تنقید کو ویلکم کرتے ہیں، میڈیا فیصلوں پر تنقید ضرور کرے لیکن ججز پر نہ کرے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ تنقید کے جواب میں ججز اپنا دفاع نہیں کر سکتے، جج پر تنقید سے پہلے یہ ضرور دیکھیں کہ سچ پر مبنی ہے یا قیاس آرائیوں پر، ججز پر تنقید جھوٹ کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔
چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کا یہ بھی کہنا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں جس نے مجھ سے ملک اور انصاف کی خدمت لی، اللّٰہ کے لیے اپنا فریضہ ادا کیا۔