گھمبیر معاشی مسائل میں الجھے عام آدمی کو ہر آنے والی منتخب حکومت امید کی ایک نئی کرن دکھائی دیتی ہے اورجہاں 2018ء سے2023ء کا عرصہ معیشت کو تاریخی تباہی کے دہانے پر لے گیا، تاریخی مہنگائی سےپریشان حال لوگوں کو آنے والی حکومت کا بے چینی سے انتظار ہے۔وہ آس لگائے بیٹھےہیں کہ ملک سے مہنگائی ختم ہو جائے گی۔ نگران حکومتوں کا مختصر دور اس لحاظ سے منفرد سمجھا جاتا ہے کہ وہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر خود کو زمینی حقائق میں رکھ کر سوچتے اور فیصلے کرتے ہیں۔نگران وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں ایک اقتصادی فورم پر تشویش ظاہر کی ہے کہ ملک پر واجب الادا قرضے غیر پائیدار سطح پر پہنچ گئے ہیں حتیٰ کہ صرف سود کی مد میں انکی ادائیگی ناممکن حد تک مشکل دکھائی دیتی ہے۔ وزیر خزانہ بنیادی طور پر ماہر معاشیات ہیں اور اس حیثیت میں کوئی بھی سوچ ان سے مختلف نہیں تاہم نگران وزیر خزانہ ہونے کی حیثیت سے وہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجوں کا ادراک رکھتی ہیں۔انھیں پورا یقین ہے کہ سنجیدہ کوششیں ملک کو معاشی گرداب سے نکال سکتی ہیں۔ ملک پر واجب الادا قرضوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ 1947ء کو شروع ہونیوالے اس سفر سے لیکر 2008ء تک پاکستان مجموعی طور پر 6127ارب روپے کا مقروض تھا۔ 2013ء تک کے پانچ سالہ دور میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس میں 133فیصد یعنی 8165ارب روپے کا اضافہ کیا اور یہ 14292ارب روپے پر پہنچ گیا۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور میں اس حجم کو 74.60فیصد یعنی 10661ارب روپے بڑھاتے ہوئے 24953ارب روپے پر پہنچا دیا جو ملکی جی ڈی پی کا 72.5فیصد تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے قرضوں میں کمی لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن تین سال میں 60فیصد یعنی 14907ارب روپے کااضافہ دیکھنے میں آیا اور جون 2021ء میں پاکستان کا اندرونی اور بیرونی قرضہ 39859ارب روپے پر پہنچ گیا تھا جو مجموعی قومی پیداوار کا 83.5فیصد بنتاہے۔ پی ڈی ایم کے دور حکومت میں 30جون2022ء تا 30جون2023ء ملک پر واجب الادا قرضوں کے حجم میں 13638ارب روپے کا اضافہ ہوا، اس دوران ڈالر کی قدر 204.4روپے سے بڑھ کر 286.4روپے پر پہنچ گئی جس کے باعث غیر ملکی قرضے 27.3فیصد سے بڑھ کر 28.4فیصد پر پہنچ گئے اور ان پرسود کی شرح 3182ارب روپے سے بڑھ کر 5671ارب ڈالر کی سطح پر گئی۔ آج ملک پر واجب الادا قرضے 62000ارب روپے سے متجاوز ہوچکے ہیں۔ اس وقت پاکستان جن ملکوں اور عالمی اداروں کا مقروض ہے ،ان میں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ایشیائی بینک ،پیرس کلب اور دوست ممالک چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سر فہرست ہیں ۔عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان ان 10ملکوں میں شامل ہے جنھوں نے عالمی سطح پر سب سے زیادہ قرض لے رکھا ہے۔آئی ایم ایف کے سب سے بڑے مقروض ملکوں کی بات کی جائےتو ان میں ارجنٹائن،مصر،یوکرین اور ایکواڈور کے بعد پاکستان پانچویں نمبر پر آتا ہے ۔ایشیائی ملکوں میں آئی ایم ایف سے حاصل کردہ قرضوں میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے۔ہوتا یہ آرہا ہے کہ قرضے لینے والا کوئی اور ہوتا ہے اور ادا کرنے والا کوئی اور۔بالآخر یہ سب ملک کے ٹیکس دہندگان کو بھرنا پڑتا ہے ۔جہاں پاکستان کے محب وطن اور اس کا درد رکھنے والے شہری یہ بوجھ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں ،اخلاقی تقاضا ضرور بنتا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈر اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں، جس روز ہر شہری بہ لحاظ حیثیت اس میں شریک ہوگیا ، غیر ملکی قرضے اتارنے اور ترقی و خوشحالی کا نہ رکنے والا سفر شروع ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔