• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فلسطینی عوام سے یکجہتی کے دن پر فلسطین یکجہتی کمیٹی کے تحت مارچ میں جہاں مختلف الخیال جماعتوں اور شخصیات نےبھرپورجذبے سے شرکت کی۔ مارچ طارق روڈ چوک سے شروع ہوا جو نمائش چورنگی پر اختتام پذیر ہوا۔ سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی کیپٹن فہیم الزمان نے مارچ کی قیادت کی، مرنجاں مرنج کیپٹن فہیم الزمان یگانہ روزگار شخصیت ہیں، اگرچہ وہ دن عنقا ہوئے جب نظریاتی سیاست بام عروج پر تھی، کیپٹن صاحب البتہ اب بھی اُن شخصیات میں شامل ہیں جنہیں اپنی روشن خیال شناخت پر ناز ہے، اُن کے دوسری طرف حافظ نعیم الرحمٰن بھی تھے، حافظ صاحب بے مثل اور نظریاتی وصف و کردار کے مالک ہیں، کیپٹن صاحب اور حافظ صاحب کے نظریات میں اگرچہ بعد المشرقین رہا ہے لیکن یہ فلسطینی عوام کی تڑپ تھی جس نے نہ صرف انہیں قدم سے قدم ملاتے ہوئے رواں رکھا بلکہ اُن لاکھوں افراد کو بھی باہم یک جان بنایا جو مختلف نظریات کے علاوہ مختلف شعبہ ہائےحیات سے متعلق تھے۔ ظاہر ہے عوام اسی طرح ہی اظہار یکجہتی کر سکتے ہیں۔ جبکہ اسلامی ممالک جنہیں عرف عام میں اُمہ کہا جاتاہے کا فریضہ ہے کہ وہ اسرائیل کا ہاتھ روکے۔ فی زمانہ مگر ہاتھ آہنی ہوچکے ہیں جنہیں صرف سائنس وٹیکنالوجی کی مدد سے ہی روکا جا سکتا ہے، اس تناظر میں جب ہم دیکھتے ہیں تو اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جو سائنس و ٹیکنالوجی پر اپنے جی ڈی پی کا تیس فیصد سے زیادہ خرچ کرتا ہے۔ آبادی کے تناسب سے اسرائیل میں سائنسدانوں کی تعداد دنیا بھر کے تناسب سے دس گنا زیادہ ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ ٹیکنالوجی کا علم رکھنے والا ملک اسرائیل ہے۔ نیوز ویک کا کہنا ہے تل ابیب کا شمار دنیا کے دس بڑے سائنسی مراکز میں ہوتا ہے۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں بھی اسرائیل سب سے آ گے ہے۔ کینسر جیسے موذی مرض کی انہوں نے ویکسین بنا لی ہے، بلڈ کینسر سمیت 90 فیصد کینسر کا کامیاب علاج اس ویکسین کے ذریعے ممکن ہے۔ بریسٹ کینسر کا علاج اسرائیل نے متعارف کروایا تھا۔ دنیا بھر میں جتنی ادویات تیار ہو رہی ہیں، اسرائیل اس میں سرفہرست ہے۔ امریکہ کی سائنسی ترقی بھی یہودیوں کی مرہونِ منت ہے۔ ایک صحرائی اسرائیل نےجس سرعت سے خود انحصاری کی منزلیں طے کیں، ایک جہاں اُس پر حیران ہے۔

دوسری طرف ہم ہیں، ہماری زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے جس پر ہم طمانیت کا اظہار کر سکیں، المیہ یہ ہے کہ ہم کبھی خود احتسابی پر آمادہ ہی نہیں ہوتے، اس کی وجہ ہماری وہ نفسیات ہے جس کےتحت ہم ناقابل شکست ہیں۔ یہ رویے اور مزاج کچھ کرنے سے زیادہ تصورات کی دنیا آباد رکھنے پر زور دیتے ہیں۔ زمانہ موجود کا طرہ امتیاز مگر سائنس وٹیکنالوجی سے آراستہ وہ دنیا ہے جو حقائق آشنا جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ مانا کہ ہمارے اسلاف فاتحین عالم تھے، یہ سچ ہے کہ ایک دور میں مسلم سائنسدانوں کا طوطی بولتا تھا۔ تاریخ یہ بھی ہے کہ مغربی تہذیب کو قدیم یونانی فلسفے اور جدید اسلامی فلسفے سے تحریک ملی۔ سقوط ہسپانیہ کے نتیجے میں قرطبہ کے کتب خانے سے مسیحیوں کو 4لاکھ کتابیں ملیں جن میں قدیم یونانی فلسفے کے عربی تراجم بھی شامل تھے، مسلمان فلسفیوں، جیسے ابن رشد وغیرہ کا کام بھی مسیحی دنیا میں درآمد کیا گیا جس نے یورپی دانشوروں کو نئے دانشورانہ مواد تک رسائی دی۔ یونانی و عربی علوم صرف ہسپانیہ سے ہی نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ سے براہ راست بھی یورپ میں منتقل ہوئے۔ ریاضی کا علم مشرق وسطیٰ میں زبردست ترقی پا چکا تھا اور صلیبی جنگوں کے بعد مشرق قریب میں مسیحی ریاستوں کے باشندے ان علوم کو یورپ میں منتقل کرنے کا باعث بنے۔ ان تفاخر کی ایک تاریخ اپنی جگہ۔ آج کی دنیا میں مگر ہمارا مقام و عمل کیا ہے؟ پوری مسلم اُمہ کوایک طرف رکھتے ہوئے آج اگرہم صرف پاکستان کا جائزہ لیں، تو ہمارا معاشرہ وسیاست زوال پذیر ہیں۔ ہم 76سال بعد بھی یہ نہیں جان سکے کہ جمہوریت کس طرح چلائی جاتی ہے؟ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم تاریخ پر ناز کے ساتھ معروضی دنیا کے رموز پر بھی توجہ دیں۔ راقم یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اسرائیلی بربریت پر خاموش رہا جائے، پاکستان سمیت مختلف ممالک میں احتجاج ہی سے اقوام عالم کا ضمیر حرکت پذیر ہوا ہے۔ تاہم اسرائیل و دیگر ظالموں کا ہاتھ روکنے کیلئے بیمار مسلم اُمہ کو ایسی”صحت“ کی ضرورت ہے جو اسرائیلی تابڑ توڑ حملوں کا جواب دے سکے، اس حوالے سے ہم روحانی طور پر توصحت مند ہیں البتہ جسمانی طور پرصحت مند ہونے کیلئے ہمیں سائنس وٹیکنالوجی پر دسترس درکار ہے۔ اُستاد غالب نے کیا خوب کہا ہے،

اب منتظرِ شوقِ قیامت نہیں غالبؔ

دنیا کے ہر اک ذرّے میں اک حشر بپا ہے

تازہ ترین