• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

منور رانا ’’میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی‘‘

منور رانا ( سید منور علی )ان کی پیدائش1952ءمیں اتر پردیش کے شہر رائے بریلی میں، ہوئی۔ ان کے رشتہ دار مع دادی اور نانی، تقسیم ہندوستان کے وقت ہجرت کر کے پاکستان آ گئے تھے لیکن والد سید انور علی ، بھارت میں ہی رہے، رائے بریلی سے ان کا خاندان کولکتہ منتقل ہو گیا، جہاں سے منور رانا نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی، والد نے مزید تعلیم کے لیے انھیں لکھنؤ بھیج دیا گیا، جہاں سینٹ جانس ہائی اسکول میں ہوا۔ 

قیام لکھنؤ کے دوران انھوں نے وہاں کے روایتی ماحول سے اپنی زبان و بیان کی بنیادیں پختہ کیں۔ اس کے بعد ان کے والد نے، جو روزگار کے پیش نظر کلکتہ منتقل ہوگئے تھے، انہوں نے منور رانا کو1968میں کلکتہ بلا لیا، جہاں انھوں نے محمد جان ہائر سیکنڈری اسکول سے میٹرک کیا ۔ کلکتہ کے ہی امیش چندرا کالج سے بی کام کیا۔

14جنوری 2024کو منور رانا دنیائے فانی سے کوچ کرگئے۔ ماں کے حوالے سے ان کا کلام بہت مقبول ہے۔

مجھے شاعری کی زیادہ سمجھ نہیں ہے، مجھ جیسے بہت لوگوں کو نہیں ہو گی مگر ماں سے محبت تو انمٹ اور لازوال ہے اور پھر اگر کوئی ماں کے لیے سادہ و سلیس انداز میں اشعار کہے تو اسے کون بھلا سکتا ہے ۔ منور رانا گذشتہ دنوں ہم سے جدا ہو گئے ۔ اردو ادب میں منور رانا کا کیا مقام ہو گا ؟ ان کی شاعرانہ عظمت کیا ہو گی ؟ یہ تو ادب والے جانیں لیکن جو مقام و عظمت پڑھنے والوں کے دلوں میں منور رانا کے لیے یے وہ بہت بلند ہے اور رہے گا ۔

منورانا نے یوں تو اپنی غزلیات میں روایتی موضوعات کے ساتھ بہن ، بیٹی، ہجرت وغیرہ کو بھی اپنا موضوع بنایا مگر جو کچھ ،،ماں،، کے لیے لکھا وہ اس سے قبل اردو ادب میں کسی نے نہیں لکھا ۔ ان کا پڑھنے کا بھی اپنا ہی انداز تھا لیکن جب وہ ماں پر اپنے اشعار پڑھتے تو لہجے میں کسی بچے کے جذبات کا گمان ہوتا۔ آواز میں ایک تڑپ اور لہجے میں کسک محسوس ہوتی۔ ماحول کو یکسر تبدیل کر دیتے۔ 

سامعین کو ایک عجیب ہی کیفیت میں لے جاتے۔ منور رانا نے ماں کو غزل کا حصہ بنایا ۔ کتنے ہی لوگ جنہیں شاعری سے کوئی دلچسپی نہ تھی ، انہیں کوئی شعر یاد نہ ہوتا تھا ۔ انہیں منور رانا کے ماں کے اشعار ازبر ہو گئے ۔ انہوں نے کبھی ماں کو اذان تو کبھی جنت سے تشبیہ دی ۔ جائیداد تقسیم ہوئی تو سب سے چھوٹے بیٹے کے حصے میں آ گئی۔ کبھی اس کے آنسووں سے اپنے گناہ دھوتے تو کبھی اس سے لپٹ کر فرشتہ بننے کی خواہش کرتے۔ وہ ماں سے دیوانہ وار محبت کرتے اور اس کے دکھ سکھ بھی مکمل کیفیات کے ساتھ سمجھتے۔ ملاحظہ کریں منور رانا کے چند اشعار۔

اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے

ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے

یہ ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا

میں جب تک گھر نہ لوٹوں میری ماں سجدے میں رہتی ہے

میری خواہش ہے کہ میں پتھر سے فرشتہ ہوجاؤں

ماں سے اس طرح لپٹ جاؤں کہ بچہ ہو جاؤں

گھیر لینے کو مجھے جب بھی بلائیں آگئیں

ڈھال بن کر سامنے ماں کی دعائیں آگئیں

سکھ دیتی ہوئی ماؤں کو گنتی نہیں آتی

پیپل کی گھنی چھاؤں کو گنتی نہیں آتی

مختصر ہوتے ہوئے بھی زندگی بڑھ جائے گی

ماں کی آنکھیں چوم لیجے روشنی بڑھ جائے گی

بھیجے گئے فرشتے ہمارے بچاؤ میں

جب حادثات ماں کی دعا سے الجھ پڑے

لبوں پہ اس کے کبھی بد دعا نہیں ہوتی

بس ایک ماں ہے جو مجھ سے خفا نہیں ہوتی

میں وہ میلے میں بھٹکتا ہوا اک بچہ ہوں

جس کے ماں باپ کو روتے ہوئے مر جانا ہے

منور ماں کے آگے یوں کبھی کھل کر نہیں رونا

جہاں بنیاد ہو اتنی نمی اچھی نہیں ہوتی

مجھے خبر نہیں جنت بڑی کہ ماں لیکن

بزرگ کہتے ہیں جنت بشر کے نیچے ہے

مجھے کڑھے ہوئے تکیے کی کیا ضرورت ہے

کسی کا ہاتھ ابھی میرے سر کے نیچے ہے

ان کے علاوہ بھی کتنے ہی ایسے اشعار ہوں گے جو ہم میں سے بہت سے لوگوں کو یاد ہوں گے۔ کتنی ہی تقاریر اور مضامیں کو منور رانا کے اشعار کی ضرورت پیش آتی رہے گی۔ ان کو یقین تھا کہ وہ اردو ادب کو کیا کچھ نیا اور توانا دے کر جا رہے ہیں :

تیری عظمت کے لئے تجھ کو کہاں پہنچا دیا

اے غزل میں نے تجھے نزدیک ماں پہنچا دیا