غالب کی اردو شاعری میں جو شوخی اور طنز ہے وہ ان کے مزاج اور افتادِ طبع کا نتیجہ ہے۔ مزاج کی یہی شگفتگی غالب کے اردو خطوط میں بھی جابجا جھلکتی ہے۔ غالب کے خطوط جہاں اردو نثر میں ایک نئے دور کے نقیب ہیں وہاں ان خطوط میں غالب کے شگفتہ اسلوب نے اردو مزاح میں بھی ایک نئے رنگ کو متعارف کرایا۔
غالب کے مزاح کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ زندگی کی ناکامیوں اور تلخیوں کا جہاں بھی ذکر آیا ہے غالب نے مسکرانے کا کوئی نہ کوئی پہلو نکال لیا ہے۔ غالب شگفتگی اور بذلہ سنجی سے زندگی کی تلخیوں کو گوارا بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
مثلاً شدید بارشوں میں غالب کے کرائے کے مکان کی چھت بہت ٹپکی تو ہرگوپال تَفتہ (جنھیں غالب پیار سے مرزا تفتہ کہتے تھے حالانکہ وہ مرزا نہیں تھے) کو لکھا’’ چھت چھلنی ہوگئی۔ کہیں لگن، کہیں چلمچی، کہیں اُگال دان رکھ دیا۔ قلم دان، کتابیں اٹھا کر توشے خانے کی کوٹھڑی میں رکھ دیے۔ مالک مرمت کی طرف متوجہ نہیں۔ کشتیِ نوح میں تین مہینے رہنے کا اتفاق ہوا۔ ‘‘ پانی کی کثرت سے سیلابی کیفیت کو واضح کرنے کے لیے کشتیِ نوح کا استعارہ خوب ہے۔
زندگی کے دیگر پہلوئوں کے ساتھ ازدواجی زندگی پر بھی غالب نے دل چسپ تبصرے کیے ہیں۔ غالب نے اپنی پیدائش کا سال(۱۲۱۲ہجری) ، شادی (تیرہ برس کی عمر میں) اور حالاتِ زندگی بیان کرتے ہوئے بیوی کو بیڑی (وہ زنجیر جو مجرموں کو ڈالتے ہیں) اور دہلی شہر کو جیل قراردیا۔
علاء الدین علائی کو ایک خط میں یوں لکھا ’’ہر چند قاعدہ ٔ عام یہ ہے کہ عالم ِ آب و گِل کے مجرم عالمِ ارواح میں سزا پاتے ہیں ، لیکن یوں بھی ہوا ہے کہ عالمِ ارواح کے گنہگار کو دنیا میں بھیج کر سزا دیتے ہیں۔ چنانچہ میں آٹھویں رجب۱۲۱۲ھ کو روبکاری کے واسطے یہاں بھیجا گیا ۔تیرہ برس حوالات میں رہا۔ ۷؍ رجب ۱۲۲۵ ھ کو میرے واسطے حکم ِ دوام حبس صادر ہو ا ، ایک بیڑی میرے پاؤں میں ڈال دی اور دِلّی شہر کو زنداں مقرر کیا اور مجھے اس زنداں میں ڈال دیا۔ فکرِ نظم و نثر کو شقت ٹھہرایا‘‘۔
اسی طرح کا دل چسپ تبصرہ ایک اور خط میں ہے۔ امراؤ سنگھ کی دوسری بیوی چل بسیں اور انھوں نے بچوں کی وجہ سے تیسری شادی کا سوچا۔ تفتہ نے غالب کو اس کی اطلاع دی تو غالب نے جوابی خط میں انھیں لکھا’’امراؤ سنگھ کے حال پر اس کے واسطے مجھ کو رحم اور اپنے واسطے رشک آتا ہے۔
اللہ اللہ! ایک وہ ہیں کہ دو بار ان کی بیڑیاں کٹ چکی ہیں ۔ ایک ہم ہیں کہ ایک اوپر پچاس برس سے جو پھانسی کا پھندا گلے میں پڑا ہے، نہ تو پھندا ہی ٹوٹتا ہے نہ دم ہی نکلتا ہے۔ اس کو سمجھاؤ کہ میں تیرے بچوں کا پال لوں گا۔ تو کیوں بلا میں پھنستا ہے‘‘۔
غالب کا مزاح اپنے پیش رو ئوں سے بہت مختلف ہے۔ غالب سے پہلے جعفر زٹلی، انشاء اللہ خاں انشا اورسعادت یار خاں رنگین وغیرہ نے اردو میں مزاح تخلیق کیا ہے۔ لیکن ان لکھنے والوں اور اردو کی بعض داستانوں میں بھی مضحکہ خیز حرکات، مزاحیہ صورت حال یا مبالغے سے مزاح پیدا کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس غالب کا مزاح گفتگو اور تبصرے کا مزاح ہے۔ غالب کے اردو خطوط میں بذلہ سنجی (wit) کی عمدہ مثالیں ملتی ہیں۔
غالب کے مزاح کی ایک اور خوبی ان کا خود پر ہنسنا ہے۔ دوسروں پر ہنسنا تو بہت آسان ہوتا ہے لیکن خود پر ہنسنے کے لیے بڑا حوصلہ چاہیے اور یہ مزاح کی ایک اعلیٰ صورت ہوتی ہے۔ مثلاً علاء الدین علائی کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی توانھوں نے غالب سے فرمائش کی کہ اس کی تاریخ کہیے اور بیٹے کا تاریخی نام رکھیے۔
غالب نے انھیں خط لکھا کہ’’میرا ممدوح جیتا نہیں ہے۔ نصیر الدین حیدر اور امجد علی شاہ ایک ایک قصیدے میں چل دیے۔ واجد علی شاہ تین قصیدوں کے متحمل ہوئے، پھر نہ سنبھل سکے۔ جس کی مدح میں دس بیس قصیدے کہے گئے وہ عدم سے بھی پرے پہنچا۔ نہ صاحب، دُہائی خدا کی ! میں نہ تاریخِ ولادت کہوں گا اور نہ نام ِتاریخی ڈھونڈوں گا‘‘۔
اس کی ایک اور مثال دیکھیے۔ چوہدری عبدالغفور سرور نے غالب کو تجویز پیش کی کہ وہ دکن کے حاکم سے رجوع کریں ۔ اس کے جواب میں غالب نے خود کو اس طرح طنز کا نشانہ بنایا:’’کوبرک صاحب بہادر ریزیڈنٹ دہلی اور استرلنگ صاحب بہادر سکرتر [یعنی سیکریٹری ]گورنمنٹ کلکتہ متفق ہوئے میرا حق دلانے پر۔ ریزیڈنٹ معزول ہوگئے، سکرتر بمرگِ ناگاہ مرگئے۔ بعد ایک زمانے کے بادشاہِ دہلی نے پچاس روپے مہینا مقرر کیا۔
ان کے ولی عہد نے چار سو روپے سال۔ ولی عہد اس تقرر کے دو برس بعد مر گئے ۔ واجد علی شاہ بادشاہِ اودھ کی سرکار سے بہ صلۂ مدح گستری پانسو [یعنی پانچ سو]روپے سال مقرر ہوئے۔ وہ بھی دو برس سے زیادہ نہ جیے۔ یعنی اگرچہ اب تک جیتے ہیں مگر سلطنت جاتی رہی‘‘۔
اسی خط میں مزید لکھتے ہیں’’دلی کی سلطنت کچھ سخت جان تھی۔ سات برس مجھ کو روٹی دے کر بگڑی۔ ایسے طالع مربی کُش اور محسن سوز کہاں پیدا ہوتے ہیں۔ اب جو والیِ دکن کی طرف رجوع کروں یاد رہے کہ متوسط یا مرجائے گا یا معزول ہوجائے گااور اگر یہ دونوں امر واقع نہ ہوئے تو۔۔۔ ریاست خاک میں مل جائے گی اور ملک میں گدھے کے ہل پھر جائیں گے‘‘۔
اپنی تہی دستی پر میر مہدی مجروح کو ایک خط میں لکھا ’’ یہ میرا حال سنو کہ بے رزق جینے کا ڈھب مجھ کو آگیا ہے۔اس طرف سے خاطر جمع رکھنا۔ رمضان کا مہینا روزے کھا کھا کر کاٹا، آئندہ خدا رازق ہے۔ کچھ اور کھانے کو نہ ملا تو غم تو ہے‘‘۔ غالب کے ہاں سات بچے ہوئے لیکن کوئی بھی زندہ نہ رہا۔ اسی لیے امین الدین احمد خان کو ایک خط میں لکھا ’’میں لم یلد ولم ولد ہوں ‘‘۔
مزاح پیدا کرنے کے لیے غالب الفاظ کے الٹ پھیر سے بھی کام لیتے ہیں۔ مثلاً ایک تقریب کی رونق کا حال بیان کرتے ہوئے ملوک (یعنی حکام) اور طوائفوں کی مناسبت سے لکھا’’روشنی اور آتش بازی کی وہ افراط کہ رات دن کا سامنا کرے گی۔طوائف کا وہ ہجوم، حکام کاوہ مجمع، اس مجلس کو طوائف الملوک کہا چاہیے‘‘۔
مرزا حاتم علی بیگ مہر کو ایک خط میں اپنا حال اس طرح لکھا ’’جب داڑھی مونچھ میں بال سفید آگئے، تیسرے دن چیونٹی کے انڈے گالوں پر نظر آنے لگے۔ اس سے بڑھ کر یہ ہوا کہ آگے کے دو دانت ٹوٹ گئے۔ ناچار مسّی چھوڑ دی اور داڑھی بھی‘‘۔’’داڑھی چھوڑ دینا ‘‘کا ایک مفہوم ہے داڑھی بڑھا لینا۔ چیونٹی کے انڈوں سے یہاں مراد سفید بالوں کے سِرے ہیں ۔
غالب کے خطوط کی ایک بڑی خاصیت ان کی خوب صورت، رواں اور سادہ مگر دل کش نثر ہے۔ کہیں کہیں قافیے بھی استعمال کرتے ہیں اور اس پر شگفتگی سے چار چاند لگا دیتے ہیں۔ حاتم علی بیگ مہر کی محبوبہ چنا جان ان سے بچھڑ گئیں۔انھوں نے غمگین ہوکر غالب کے نام خط لکھا ۔ غالب نے جوابی خط میں انھیں سمجھایا کہ کہیں اور دل لگاؤ ۔ لکھتے ہیں ’’مصری کی مکھی بنو ، شہد کی مکھی نہ بنو‘‘۔
دراصل شہد کی مکھی شہد ہی تک محدود رہتی ہے اور مصری کی مکھی کچھ دیر میں اڑ جاتی ہے۔ مزید لکھتے ہیں ’’آزادی کا شکر بجا لائو ، غم نہ کھائواور اگر ایسے ہی اپنی گرفتاری سے خوش ہو توچنا جان نہ سہی منا جان سہی۔ میں جب بہشت کا تصور کرتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ اگر مغفرت ہوگئی اور ایک قصر ملا اور ایک حور ملی، اقامت جاودانی ہے اور اسی ایک نیک بخت کے ساتھ زندگانی ہے۔
اس تصور سے جی گھبراتا ہے اور کلیجا منھ کو آتا ہے۔ ہے ہے !وہ حور اجیرن ہوجائے گی، طبیعت کیوں نہ گھبرائے گی۔ وہی زمرّدیں کاخ، وہی طوبیٰ کی ایک شاخ ! چشم ِ بد دور،وہی ایک حور ۔ بھائی ہوش میں آؤ کہیں اور دل لگائو۔‘‘ (کاخ یعنی محل اور طوبیٰ جنت کے ایک درخت کا نام ہے)۔
غالب کی زندگی میں ان کا اردو دیوان پانچ بار شائع ہوا لیکن وہ کسی کی طباعت سے مطمئن نہ ہوئے اور چاہتے تھے کہ ان کا دیوان بہت خوب صورت انداز میں شائع ہو۔ اسی سلسلے میں میر مہدی مجروح کو ایک خط میں لکھا’’ ہائے لکھنؤ کے چھاپے خانے نے جس کا دیوان چھاپا اس کو آسمان پر چڑھادیا۔ حسنِ خط سے الفاظ کو چمکا دیا۔د ِلّی پر، اس کے پانی پر اور اس کے چھاپے پر لعنت‘‘۔
غالب کے ہاں ان کے پیش روؤں کے برعکس شگفتگی اور بذلہ سنجی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جہاں ان کے ادبی مخالفوں کا ذکر آتا ہے وہاں غالب شگفتگی بھول کر پھبتی، تضحیک اور طعن و تشنیع پر اتر آتے ہیں۔ یہ بالعموم ان لوگوں کے ذکر کے ساتھ ہوتا ہے جنھوں نے برہانِ قاطع پر غالب کی تنقید پر انھیں طنز و تعریض کا نشا نہ بنایا تھا۔
دراصل غالب نے فارسی کی مشہور لغت برہانِ قاطع پر سخت تنقید کی تھی اور اس کے مولف محمد حسین تبریزی دکنی کے بارے میں کہیں کہیں ناشائستہ باتیں بھی لکھ دی تھیں۔ مثلاً ایک ’’بے ضرر‘‘ مثال اس کی یہ ہے: ان سب فرہنگ لکھنے والوں میں یہ دکن کا آدمی یعنی جامعِ برہانِ قاطع احمق اور معو ّج الذہن ہے۔ مگر قسمت کا اچھا ہے۔ مسلمان اس کے قول کو آیت اور حدیث جانتے ہیں اور ہندو اس کے بیان کو مطالب مندرجۂ بید کے برابر مانتے ہیں‘‘۔
برہانِ قاطع فارسی کی بہت مشہور اور عام رائج لغت تھی ۔اس پر غالب کی سخت تنقید کے جواب میں برہانِ قاطع کے شیدائیوں نے غالب پر بھی سخت نکتہ چینی کی اور انھیں برا بھلا بھی کہا۔ ان لوگوں کا ذکر آتے ہیں غالب بھڑک اٹھتے ہیں۔ لیکن غالب صرف برہانِ قاطع اور اس کے مولف ہی کے مخالف نہیں ہیں بلکہ وہ، سوائے امیر خسرو اور عبدالقادر بیدل کے، ہندوستان کے تمام فارسی شاعروں ، فارسی لغت نویسوں اور فارسی دانوں سے بھی بہت بیزار ہیں اور اُن کا خیال ہے کہ اِن میں سے کسی کو فارسی نہیں آتی۔
خاص طور پر عبدالواسع ہانسوی (مولفِ غرائب اللغات)مرزا قتیل ، غیاث الدین رام پوری(مولف ِ غیاث اللغات) اور محمد حسین تبریزی دکنی (مؤلفِ ہانِ قاطع)کے بارے میں غالب نے اپنے خطوط میں تلخ و ترش باتیں لکھی ہیں اور ان کو نامناسب القابات سے نوازا ہے۔ مثلاً صاحب عالم مارہروی کو لکھا ’’جناب عبدالوسع فرماتے ہیں کہ بے مراد صحیح اور نامراد غلط۔
ارے ستیاناس جائے، بے مراد اور نامراد میں وہ فرق ہے جو زمین و آسمان میں ہے۔ نامراد وہ ہے کہ جس کی کوئی مراد ،کوئی خواہش، کوئی آرزوبر نہ آوے ۔ بے مرادوہ جس کا صفحۂ ضمیر نقوشِ مدعا سے سادہ ہو، از قسم ِ بے مدعا و بے غرض و بے مطلب۔‘‘
ہر گوپال تفتہ کے نام ایک خط میں لکھا ’’سنو میاں! میرے ہم وطن یعنی ہندی لوگ جو وادیِ فارسی دانی میں دَم مارتے ہیں وہ اپنے قیاس کو دخل دے کر ضوابط ایجاد کرتے ہیں، جیسا وہ گھاگس عبدالواسع ہانسوی لفظ نامراد کو غلط کہتا ہے اور یہ قتیل الو کا پٹھا صفوت کدہ، شفقت کدہ، نشتر کدہ کو اور ہمہ عالم و ہمہ جا کو غلط کہتا ہے ‘‘۔
حالانکہ یہ لوگ ایسے گئے گزرے بھی نہ تھے۔ عبدالواسع ہانسوی نے اردو کی پہلی باقاعدہ لغت لکھی تھی اور مرزا قتیل فارسی شاعر تو تھا ہی فارسی قواعد پر بھی عبور رکھتا تھا۔ ان اہلِ علم کو گھاگس (ایک قسم کا مرغا) اور الو کا پٹھا کہنا غالب کی زیادتی تھی اور بالفرض اگر یہ اہلِ علم نہیں تھے تب بھی کسی کتاب پر رائے دیتے ہوئے مصنف کو برا بھلا کہنا بھلاکہاں تک روا ہے۔
قاضی عبدالجلیل جنون کو غالب نے لکھا ’’غیاث الدین رام پور میں ایک ملائے مکتبی تھا، ناقلِ ناعاقل ‘‘ ۔ حالانکہ غیاث الدین عالم آدمی تھے اور نوابینِ رام پور کے استاد تھے۔ انھوں نے طویل عرصے کی محنت ِ شاقہ سے غیاث اللغات لکھی تھی جس میں چالیس مختلف لغات اور کتابوں سے مدد لی تھی۔ اس لغت کو ایران کے معروف عالم قزوینی نے ’’فرہنگِ نفیس ‘‘ کہا ہے۔ لیکن غالب ان کے شدید مخالف ہیں۔
غالب نے صاحب عالم مارہروی کو ایک خط میں لکھا ’’ اصل فارسی کو اس کھتری بچے قتیل علیہ ماعلیہ نے تباہ کیا۔ رہا سہا غیاث الدین رام پوری نے کھودیا۔ ان کی سی قسمت کہاں سے لاؤں ؟ جو صاحب عالم کی نظر میں اعتبار پائوں ؟ خالصا ً للہ غور کرو کہ وہ خرانِ نامشخص کیا کہتے ہیں اور میں خستہ ودردمند کیا بکتا ہوں۔ واللہ نہ قتیل فارسی شعر کہتا ہے اور نہ غیاث الدین فارسی جانتا ہے‘‘۔
ڈاکٹر ایوب قادری نے غالب کے اس رویے کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ غالب غیاث اللغات پر تنقید تو کرتے ہیں لیکن وہ کہیں یہ نہیں بتاتے کہ اس میں کیا غلطیاں ہیں۔ پروفیسر نذیر احمد پاک و ہند میں فارسی کے بڑے عالموں میں شمار ہوتے ہیں، انھوں نے بھی غالب کے اس رویے پر ان کی گرفت کی ہے۔ قاضی عبدالودود جیسا جید محقق بھی غالب کی اس تنقید سے اتفاق نہیں کرتا ۔ اگرچہ غالب کی شاعرانہ عظمت اور ان کی خوب صورت نثر کے سبھی قائل ہیں۔
مخالفوں اور فارسی کے ماہرین کا ذکر آتے ہی غالب کے ہاتھ سے صبر کا دامن چھوٹ جاتا ہے اور وہ بذلہ سنجی (wit) اور رمز (irony)کو بھول کر براہِ راست طنز اور طعن پر اتر آتے ہیں۔ لیکن ان مواقع سے قطع نظر، غالب کا مزاح بالعموم شستہ اور شائستہ ہے۔ اسی لیے غالب کے اردو خطوط صرف اردو نثر ہی نہیں بلکہ اردو مزاح کے میدان میں بھی یادگار ہیں۔