جوش ہماری نظمیہ شاعری کا ایک بڑا سنگِ میل ہیں۔ جس زمانے میں جوش نے اپنا فنی سفر طے کیا، وہ کوئی آسان دور نہیں تھا۔ اقبال کے عہد میں اس کے اثر سے نکل کر پنپنا اُن کی تخلیقی نمو پذیری اور فکری قوت کا ّبین ثبوت ہے۔ یہاں صرف اتنی بات سمجھ لینی چاہیے کہ جوش کے یہاں نظموں کے سانچے میں غزل کی ہیئت یا فارم بہرحال پائی جاتی ہے۔ اس کا سیدھا سادا مطلب یہ ہے کہ جوش کا ردِّ عمل غزل کی ہیئت کے خلاف نہیں بلکہ اس کے موضوع و مواد کے سلسلے میں تھا۔ ہاں اقبال اور جوش کا معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔
یہاں اختلاف کی شکل مختلف ہے اور بنیاد گہری۔ اِکّا دُکّا مثالوں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تقاضائے بشریت کو فراموش نہ کیا جائے تو یہ ماننے میں تامل نہ ہوگا کہ جوش نے اقبال کا نہ صرف سنجیدگی سے مطالعہ کیا، بلکہ اُس کا اثر بھی لیا۔ جوش کے فکر و نظر کی تگ و تاز کو اقبال نے مہمیز دی ہے۔ صرف خدا ہی کے موضوع کو دیکھ لیجیے، اقبال اس سمت گئے تو خدا کے اثبات اور خودی کی منزل تک پہنچے اور جوش نے زمانوں، جہانوں اور انسانوں کے اثبات کے دشت و دامن کو کھنگالا۔
تشکیک اقبال کی کشتِ ذہن میں بھی بیج ڈالتی ہے لیکن یہاں نمو پذیری نہیں ہوتی۔ یہ مسئلہ اقبال کے یہاں کسی بڑی دوادوش کے بغیر حل ہوجاتا ہے۔ تشکیک کے بیج کو نمو ملتی ہے جوش کے یہاں، جہاں وہ الحاد کے برگ و بار لاتا ہے۔ اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جوش کو اپنی آواز میسر آتی ہے، خالص انسانی آواز، ازل گیر و ابد تاب۔ اقبال نے جن مباحث کو اس باب میں اضطراب کی سطح پر محسوس کیا، جوش نے انھیں اذیت و الم کے تجربے سے جاننے کی کوشش کی۔
اقبال نے جن گرہوں کو اپنی روح کے اندر کھول کر اطمینان کی منزل پا لی تھی، جوش نے ان سب عقدوں کو وجودی سطح پر سمجھنے کی جستجو کی اور اپنے لیے اطمینان کی جگہ کرب کا انتخاب کیا۔ اقبال سوالوں سے نکلے تو آرام سے سیدھے خدا تک جا پہنچے۔
جوش سوالوں میں پڑے تو یوں کہ خدا تک پہنچنا آسان نہ رہا۔ راہ دشوار ہوئی، پُرخار ہوئی لیکن (اور یہ لیکن غور طلب ہے) منزل جوش کی بھی کھوٹی نہیں ہوئی۔ خدا کے موضوع پر اقبال اور جوش کے ان حوالوں کو یوں بین الطرفین بیان کرنے کا صرف یہ مقصد ہے کہ یار لوگ چاہے کچھ کہتے رہیں، جوش،اقبال کا رد یا نفی نہیں ہیں۔
یہاں اگر تطبیق کا رشتہ نہیں ہے تو تنسیخ کا بھی نہیں ہے۔ یہ تو جستجو کا سفر ہے۔ پیاسے کے چشمۂ آبِ بقا تک پہنچنے کے بھی اپنے معانی و معارف ہیں لیکن ہر پیاسے کی تقدیر یہی کیوں ہو کہ وہ چشمۂ آبِ بقا تک پہنچے۔ کوئی چاہِ بابل یا چاہِ نخشب کی خبر کیوں نہ لائے، یعنی کوئی جوش کیوں نہ بنے۔ آخر اس کھونٹ کی سیر بھی تو کسی نہ کسی کو کرنی ہی چاہیے۔
جوش کا خدا سے جو رشتہ ہے وہ اگر ایک طرف انسانی زندگی کے آزار کی بابت سوال اٹھاتا ہے، اس کے مصائب و آلام پر صبر و شکر کے بجائے آہ و بکا کو انسان کا فطری مقتضا جانتا ہے، خیر و شر کے مسئلے پر الجھتا ہے کہ آخر ان میں سے کیا فطرتِ انسانی کا اصل داعیہ ہے؟ جبر و قدر کے بارے میں سوچتا ہے اور جاننا چاہتا ہے کہ تقدیر اٹل کیوں ہے اور اگر اٹل ہے تو پھر انسانی اختیار کیا اور اس کی جواب دہی چہ معنی؟ تو دوسری طرف خدا سے انسان کے اسی رشتے کی روشنی میں جوش کے یہاں انسان کے کائنات سے رشتے اور انسان کے انسان سے رشتے کی صورتیں وضع ہوتی ہیں۔
اِس کائناتِ رنگ و بو کی ماہیت، اس کا آغاز و انجام، اس میں بسنے والوں کے مسائل، آلام اور حالات و حقائق، مختار و مجبور کی الگ الگ دنیائیں، متغیر حقیقتیں، سچائی کی منقلب شکلیں، اُن کے دلوں کا میل، خیال کی لطافت اور عمل کی کثافت کے بارے میں سوالوں کا سلسلہ اور سوچ بچار کی دھونکنی سی جو ہمیں جوش کے یہاں مسلسل چلتی ہوئی محسوس ہو تی ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ جوش کی شاعری اصل میں سوالوں کا ایک مسلسل جاری و ساری عمل ہے۔
جستجو، تڑپ، حزن و ملال اور رنج و اشتعال سے آمیز، پیہم ایک سلسلہ۔ لیکن سوالوں کا یہ سلسلہ کسی سالک یا سائل کے کسی داخلی چشمۂ تجسس سے جاری نہیں ہوا ہے ، سوال در سوال اور شاخ در شاخ پھیلتی اس تڑپ کو جاننے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی آبیاری تو تخلیقی وجدان کی آگہی و بصیرت کے سوتوں سے ہو رہی ہے۔
یوں تو ساری آوازوں کا مخرج بے شک گلا ہی ہوتا ہے لیکن کچھ آوازوں کا منبع اندر کہیں دل و جگر میں ہوا کرتا ہے،وہ کہیں گہرائی سے آیا کرتی ہیں۔ انھیں محض آواز کہہ دینا یا سمجھ لینا کافی نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ یہ کہیں علامت ہوتی ہیں، کہیں اشارہ اور کہیں کنایہ کہیں اظہار ہوتی ہیں، کہیں استفسار اور کہیں احتجاج۔
فکر کو مہمیز دینے اور احساس کی کیفیت کو متغیر کرنے والے دوسرے شاعروں کی طرح جوش کی شاعرانہ آواز میں بھی وہ کھنک، کھرج اور کھردرا پن ہے جو صرف اُن کے شعری لحن کو دوسروں سے ممتاز ہی نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ اُن کے کلام کی ترسیلِ معنیٰ میں بھی ایک کردار ادا کرتا ہے۔
جوش کو ان کے طنطنے کی داد تو ہماری تنقید نے بہت دی ہے لیکن سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی کہ یہ طنطنہ صرف شاعر کی دھاک اور شعر کی گونج بڑھانے کے لیے نہیں، بلکہ یہ اُس شاعری کی نحوی ضرورت اور معنوی ترکیب کے سراسر داخلی مطالبے سے مرکب ہے۔
یہ آواز جوش کی شاعری کے ابلاغ میں ایک کردار ادا کرتی ہے۔ اگر آواز کا روپ بدل جائے تو اس شاعری کی تاثیر میں فرق پڑے گا۔ مثال کے طور پر جوش کے کلام کو مجازؔ، جاںنثارؔ اختر، اور اخترؔ شیرانی کو تو چھوڑیے کہ انھیں تو صرف ’’رومانیے‘‘ کہہ کر الگ کیا جاسکتا ہے، اگر فراقؔ و فیضؔ کی آواز میں پڑھا کر دیکھا جائے تو بھی کچھ یوں معلوم ہوگا کہ پڑھنے والے کی آواز دھوکا دے رہی ہےاور پہچاننے والوں کو ذرا دقّت نہ ہوگی پہچاننے میں کہ کلام زبانِ غیر سے ادا ہو رہا ہے، اس لیے معنی میں کمی واقع ہوگئی ہے۔ یہ ہے جوش کے طنطنے اور لہجے کی گرج کا مقصد جو اسے معنی عطا کرتا ہے۔
جوش کی شاعری میں جو آواز ہم سنتے ہیں اُس میں اظہار، استفسار اور احتجاج کے تینوں روپ ابھرتے ہیں، کبھی ایک لَے اونچی ہوتی ہے اور کبھی دوسری،کبھی جذبے کی شدت کے زیرِ اثر اظہار کی لَے اونچی ہوتی ہے تو کبھی عقل کے تحت استفسار کی تان بلند ہوتی چلی جاتی ہے اور کبھی انسانی انا اور وجودی اضطراب مل کر احتجاج کے سُر میں ڈھل جاتے ہیں۔ لیکن جوش کی شاعری کا بلند ترین مقام وہ ہے جہاں اُن کا فن کارانہ وجدان، انجذاب کی کیفیت سے آشنا ہوتا ہے۔
اس مقام پر آکر تفکر و تعقل کی گتھیاں جیسے خود ہی سلجھتی چلی جاتی ہیں۔ عقل یا دماغ کا زور ٹوٹتا ہے اور شاعر پر وجود سے ماورا اسرار و حقائق منکشف ہوتے ہیں۔ حیات و کائنات کی عمیق تر حقیقتیں اُس پر انجذاب کی اُن ساعتوں میں عقدہ کشا ہوتی ہیں جب اُس کی روح میں عارف کے دل کی دھڑکن گونجتی ہے۔ جوش کے مطالعے میں ہم دیکھتے ہیں کہ ان وجدانی لمحوں میں اُن کا سارا تعقل، سارے سوالات اور تمام تر کفر و الحاد سب کچھ تحلیل ہوجاتا ہے اور تب ہم ایک شاعر کو کہتے ہوئے سنتے ہیں:
کر روح میں بابِ کفر و ایماں مسدود
وہ فہم کی وحشت ہے یہ دانش کا جمود
انکار بہ ایں دماغِ کم زور و علیل
اقرار بہ ایں عقلِ ضعیف و محدود!!
…٭…٭…٭…٭…
علّت کا نہ معلول و فضا کا منکر
حاشا نہ خبر نہ مبتدا کا منکر
یاروں نے تشخص کا تراشا ہے جو بُت
الحاد ہے صرف اُس خدا کا منکر
شعورِ حق کی اِس منزل پر پہنچنے کے بعد شاعر کے دل میں اعترافِ حقیقت کی جرأت خود بہ خود پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کی نگاہوں پر اپنے کفر و الحاد کا پردہ خود چاک ہوجاتا ہے۔ تب وہ اپنے وجدان کے سائے میں آ کر خود سے مخاطب ہوتا ہے اور اپنی عقل سے پوچھتا ہے:
وابستۂ آسماں نہ پابندِ زمیں
انکار نہ اقرار نہ دنیا ہے نہ دیں
اے عقلِ غریب، یہ سیاحت کب تک
تیرا بھی کوئی وطن بنے گا کہ نہیں؟
یہ احساس و اضطراب شاعر کے دل میں کس خواہش کو بیدار کرتا ہے اور کس طلب کو جگاتا ہے، یہ بھی ملاحظہ کیجیے:
ہے کوئی، جو اس دُھویں کو گلشن کردے؟
ٹکڑے اس تیرگی کا دامن کردے
دل پر ہے، گھٹا ٹوپ اَندھیرے کا دَباؤ
للہ، کوئی چراغ رَوشن کردے!
سو یہ خواہش، یہ طلب اور یہ آرزو رائگاں نہیں جاتی اور اُس پر انکشافِ حقیقت کا در کھل جاتا ہے۔ اُس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ اُن کے سامنے ایک دوسری ہی دنیا ابھرتی ہے۔