• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’حجاب امتیاز علی‘‘ اردو ادب کی ملکہ اور فضاؤں کی فاتح

عائشہ مہر

کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ ایک عورت ایک ہی وقت میں ادیبہ، خواب دیکھنے والی شاعرہ، پائلٹ، ترجمہ نگار اور انسانی روح کی نفسیات پر عبور رکھنے والی لکھاری ہو سکتی ہے، آپ کا جواب شاید نفی میں ہو۔ لیکن ایسا نہیں ہے، یہ سب کچھ ہے حجاب امتیاز علی میں۔

1908ء میں حیدرآباد دکن میں پیدا ہونے والی حجاب امتیاز علی کا تعلق ایک تعلیم یافتہ اور مہذب گھرانے سے تھا۔ ان کے والد ان کی تعلیم کے بڑے حامی تھے، اسی نے ان کےحوصلے بلند کیئے۔ بچپن سے ہی انھیں اردو ادب اور انگریزی ناول پڑھنے کا شوق تھا، یہی شوق آگے چل کر ان کے قلم میں وہ نرمی، نزاکت اور جذباتی گہرائی لے آیا جس نے انھیں اردو ادب میں ایک منفرد مقام دیا۔

ایک ایسی عورت جنہوں نے قلم سے بھی پرواز کی، اور جہاز سے بھی۔

انہوں نے اردو ادب کو احساس کی نئی زمین اور عورت کے وجود کو طاقت کی نئی تعبیر عطا دی۔ وہ ثابت کر گئیں کہ:

* “عورت جب لکھتی ہے، تو تاریخ بدل دیتی ہے۔اور جب اڑتی ہے، تو نسلوں کو پرواز کا ہنر سکھا دیتی ہے۔ وہ صرف لکھنے والی نہیں، محسوس کرنے والی ادیبہ تھیں۔

ان کے مشہور افسانے اور ناول، جیسے "ظالم محبت"، "مہک","احتیاط عشق"، اور "صنوبر کے سائے" اس دور کی اردو فکشن میں عورت کے جذبات، قربانی، اور سماجی قید و بند کی جھلک دکھاتے ہیں۔

ان کی تحریروں میں عورت کسی کمزور کردار کے طور پر نہیں بلکہ وہ خود فیصلہ کرنے ، محبت کرنے اور قربانی دینے والی شخصیت کے طور پر اُبھرتی ہے۔ان کے اندازِ بیان میں نفسیاتی گہرائی، رومانوی حُسن اور جذباتی سچائی کی ایک حسین آمیزش ملتی ہے۔

وہ اردو ادب کی ان چند خواتین میں شامل ہیں جنھوں نے عورت کے باطن کو زبان دی۔ ان کے کردار بولتے نہیں، محسوس ہوتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں عورت کی ذات، اس کی خواہشات، قربانیاں سب کچھ ایک شفاف آئینے کی طرح نظر آتا ہے۔

آسمانوں کی بلندیوں تک سفر

ان کی شخصیت کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ وہ صرف قلم تک محدود نہیں رہیں۔

1936ء میں برصغیر کی پہلی مسلم خاتون پائلٹ بنیں۔اُس زمانے میں جب عورتوں کے لیے گھر سے نکلنا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا، وہ جہاز اُڑا کر آسمان کو چُھو رہی تھیں۔بقول حجاب امتیاز کے، ’’عورت اگر چاہے تو کوئی آسمان اس کی حد نہیں‘‘۔

انھوں نے اڑان کے ساتھ یہ پیغام بھی دیا کہ:

’’پرواز صرف جہاز کی نہیں،خوابوں کی بھی ہوتی ہے۔‘‘

ذہانت اور علم کا امتزاج

ادب کے ساتھ ساتھ حجاب امتیاز علی کونفسیات سے بھی دلچسپی تھی۔ ان کی تحریروں میں انسانی دماغ اور روح کی گہرائیوں کو جس باریکی سے بیان کیا گیا ہے، وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایک مشاہدہ کار ذہن اور محسوس کرنے والا دل رکھتی تھیں۔ انھوں نے اردو ادب کو صرف زبان کی مٹھاس نہیں، بلکہ انسانی احساسات کا تجزیہ بھی دیا۔

حجاب امتیاز علی کی شادی اردو کے معروف ادیب امتیاز علی تاج سے ہوئی،یہ جوڑا اردو ادب کی تاریخ میں ایک خوبصورت مثال بنا۔ امتیاز علی تاج کا ڈرامہ "انارکلی" اردو ادب میں کلاسک شمار ہوتا ہے، انہوں نے ڈرامے کو جہاں نئی بلندی دی، وہیں حجاب امتیاز علی نے افسانے اور نثر کو نیا ذائقہ عطا کیا۔ دونوں نے مل کر ادب کی ایسی فضا پیدا کی جو آج بھی دلوں کو معطر کرتی ہے۔

1947ء میں تقسیم کے بعد وہ اپنے شوہر کے ساتھ لاہور (پاکستان) منتقل ہو گئیں، باقی زندگی پاکستان میں گزاری۔ ادب، صحافت، خواتین کے حقوق، اور بچوں کے ادب کے لیے کام کرتی رہیں۔19مارچ 1999ء کو لاہور، میں وفات پائی، وہیں سپردِ خاک کیا گیا۔

ان کی تحریروں کی خوشبو آج بھی اردو ادب کے دالانوں میں رچی ہے، جن میں میں خود اعتمادی، محبت، عورت کی خودی اور خوابوں کا یقین جھلکتا ہے۔

انھوں نے آنے والی نسلوں کے لیے یہ پیغام چھوڑا کہ:

عورت کی پہچان اس کے خوابوں میں ہے اور خواب دیکھنا جرم نہیں، حوصلہ ہے۔