• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صحتِ زباں: الفاظ اور محاورات کا درست استعمال

٭…لفظ ’قواعد‘ واحد ہے یا جمع؟

اردو میں تذکیر و تانیث کے جو جھگڑے ہیں وہ صرف چند الفاظ تک محدود نہیں ہیں بلکہ ایسے الفاظ کی خاصی بڑی تعداد ہے جن کی جنس میں اختلاف ہے۔ پھر اس میں واحد جمع کے مسائل بھی تذکیر و تانیث کے ساتھ آجاتے ہیں۔ مثلاً بعض حضرات اس بات پر اُلجھتے ہیں کہ لفظ قواعد تو جمع ہے’ قاعدہ‘ کی اور قاعدہ مذکر ہے تو پھر قواعد کو بھی مذکر بولنا چاہیے۔ لوگ مونث کیوں بولتے ہیں۔ بات درست ہے، لیکن جزوی طور پر۔

دراصل اردو میں عربی لفظ ’قواعد ‘دو طرح مستعمل ہے۔ جب یہ قاعدہ (یعنی ضابطہ ، قانون)کی جمع کے طور پر آئے تو جمع اورمذکر استعمال ہوتا ہے، مثلاً: ’’دفتر کے قواعد کہتے ہیں کہ آپ یہ نہیں کرسکتے ۔‘‘

لیکن جب قواعد کا لفظ اردو میں گرامر یا صرف و نحو کے مفہوم میں آتا ہے تو جمع ہونے کے باوجود واحد اور مؤنث کے طور برتا جاتا ہے، مثلاً :’’انھوں نے اسکول میں فارسی قواعد پڑھی تھی‘‘یا ’’باباے اردو نے اردو کی قواعد لکھی ہے‘‘۔ اس بات کی تصدیق نور اللغات اور اردو لغت بورڈکی لغت سے بھی کی جاسکتی ہے۔

٭…لفظ ’آب ‘مذکر ہے یا مؤنث؟

اردو میں عربی کے الفاظ بہت بڑی تعداد میں مستعمل ہیں اور ان میں سے کئی کے ضمن میں واحد جمع اور تذکیر و تانیث کے مسائل ہیں، مثلاً اسی لفظ ’قواعد ‘کو لیجیے، اوپر لفظ قواعد کی بحث میں ہم’’ قاعدہ (یعنی ضابطہ) کی جمع ‘‘ لکھتے ہوئے ’ضابطہ ‘کے بجاے لفظ ’اصول‘ لکھنے والے تھے لیکن خیال آیا کہ اصول تو خود جمع ہے’ اصل ‘کی، اگرچہ اردو والے اسے واحد کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور انھوں نے اس کی مزید جمع بھی بناڈالی ہے یعنی اصولوں۔ جیسے :’’یہ ہمارے اصولوں کے خلاف ہے‘‘(اور اردو کی حد تک یہ بالکل درست ہے)۔لیکن بات الجھنے کا ڈر تھا اس لیے ہم نے لفظ ’اصول‘ کے بجاے ’ضابطہ‘ لکھا ۔

اس طرح کے مسائل فارسی الفاظ کے ضمن میں بھی ہیں۔ مثلاً فارسی لفظ’ آب‘ کو دیکھیے جو پانی کے مفہوم میں ہے اور اسے مذکر لاتے ہیں ، جیسے مولوی عبدالحق کی لغت ِ کبیر میں لفظ ’آب ‘کی سند کے طور پر شعر درج ہے (خداجانے کس کا ہے):

ساقی بغیر شب جو پیا آبِ آتشیں

شعلہ وہ بن کے میرے دہن سے نکل گیا

یہاں ’آب‘ مذکر ہے ۔لیکن’آب‘ کا لفظ اردو میں’ چمک‘ کے معنوں میں بھی آتا ہے اور جب آب اردو میں چمک کے مفہوم میں آئے تو اردو والے اسے مونث بولتے ہیں، مثلاً شیشے کی آب، تلوار کی آب۔ بہادر شاہ ظفر کا شعر اسی مفہوم میں فرہنگِ آصفیہ نے دیا ہے:

خط سے نہ کم ہو کیونکہ رخِ یار کی چمک

جاتی رہے ہے آئینے کی زیر ِزنگ آب

یہاں ’آب‘ مؤنث ہے۔ اس طرح کے کئی الفاظ ہیں جن میں تذکیر و تانیث اور واحد و جمع کے مسائل ہیں لیکن وہ ایک الگ مضمون کے متقاضی ہیں۔

٭…حلوا اور سقّا

حلوا مٹھائی کی ایک قسم ہے۔ یہ لغوی معنی ہیں۔ لیکن حلوا کے مجازی معنی ہیں: بہت آسان، گویا انگریزی محاورے میں جسے a piece of cake کہتے ہیں وہ اردو میں حلوا ہے۔ حلوا کے ایک اور مجازی معنی بھی ہیں اور وہ ہیں: کوئی چیز جو بہت نرم یا میٹھی ہو۔ حلواکے ایک مجازی معنی بوسہ بھی ہیں اورجو چیز سہل الحصول ہو اسے بھی مجازاًحلواکہتے ہیں۔

لیکن حلوا کو بعض لوگ حلوہ (یعنی آخر میں ہاے مختفی) لکھتے ہیں لیکن یہ درست نہیں ۔ اس کا درست املا حلوا (یعنی آخر میں الف ) ہے۔ عربی میں حلوا کا املا’ حلواء‘ (آخر میں ہمزہ) اور حلویٰ (آخر میں الف مقصورہ، یعنی الف بشکلِ ’ی‘) بھی ہے، گویا اس کے آخر میں ہاے مختفی (یعنی حلوہ)لکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ 

عبدالستار صدیقی نے ایسے الفاظ کا ذکر کیا ہے جن کے آخر میں ’ہ‘(ہاے مختفی) لکھنا درست نہیں بلکہ ان کے آخر میں الف لکھنا چاہیے اوران میں حلوا اور سقّا (پانی لانے یا پلانے والا) بھی شامل ہیں، یعنی بعض لوگ’ سقّہ ‘ اور ’حلوہ‘ لکھتے ہیں لیکن حلوا اور سقّا لکھنا چاہیے کہ اردو میں یہی درست املا ہے۔ 

اسی حلوا سے حلوائی ہے یعنی مٹھائی بنانے اور بیچنے والا۔ لفظ حلوا کے ساتھ جو ترکیبیں اردو میں مستعمل ہیں ان میں حلوائے بے دُود بھی ہے۔ دُود(واوِ معروف) فارسی ہے، معنی ہیں دھواں۔ حلوائے بے دود کے مرادی معنی ہیں نہایت عمدہ مٹھائی، نرم و ملائم شے اورجس چیز کو حاصل کرنا یا ہضم کرنا آسان ہو اسے بھی حلوائے بے دود کہتے ہیں اور مجازاً بوسے کو بھی کہتے ہیں۔

یہاں ہم نے حلوائے بے دود میں ’ے ‘ پر ہمزہ لکھا ہے لیکن بعض ماہرین، مثلاً عبدالستار صدیقی اور رشید حسن خاں، کے خیال میں ایسے مواقع پر ہمزہ لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔مثلاً آرزوے خواب، تمناے وصل ، سوے چمن ، دواے دل ، دعاے خیر ، سزاے موت اور باباے اردو جیسی تراکیب بغیر ہمزہ ہی کے درست ہیں۔

وجہ یہ ہے کہ یہاں ’ے‘ حرفِ اضافت ہے اور ہمزہ بھی حرفِ اضافت کے طور پر آتا ہے لیکن ایک ترکیب میں ہمزہ اور ’ے ‘ دونوں لکھنے کا مطلب دو حروفِ اضافت۔ اور ایک ترکیب میں دو حروفِ اضافت کیسے آسکتے ہیں؟ بلکہ غالب نے تو لکھا ہے کہ ایسے موقعے پر ہمزہ لکھنا ’’عقل کو گالی دینا ہے‘‘۔ لیکن ایسے مرکبات میں ہمزہ اتنا رائج ہے کہ نہ لکھا جائے تو لوگ اسے غلط قرار دیتے ہیں۔ لہٰذ ا ہم بھی ایسے مواقع پر ہمزہ لکھتے ہیں اور غالب کے الفاظ میں عقل کو گالی دیے جاتے ہیں۔