سال دو ہزار پچیس میں پاکستان میں شائع ہونے والی اردو کی نثری کتابوں کا ذکر پیش ہے۔ بارِ دگر عرض ہے کہ یہ ایک مختصر جائزہ ہے اور اس میں کئی کتب کا ذکر بوجوہ نہیں ہوپائے گا۔ بعض اوقات کسی کتاب کی اشاعت کا علم ہی نہیں ہوپاتا اور اگر کتاب کی اشاعت کا علم ہو بھی جائے تو ہر کتاب نہ خریدی جاسکتی ہے، نہ پڑھی جاسکتی ہے۔ اسے ہماری کم علمی اور کوتاہ دستی کہہ لیجیے۔
پھر اخبار کی تنگ دامنی کی وجہ سے بعض اوقات اختصار کو ملحوظ ِخاطر رکھنا پڑتا ہے اور بعض کتابوں کا ذکر رہ جاتا ہے، بسا اوقات ذکر نہ کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔بلکہ بعض اوقات ذکر کرتے ہوئے بھی جی تو بہت کچھ چاہتا ہے لیکن حکیم آزاد انصاری کے بقول:
افسوس بے شمار سخن ہاے گفتنی
خوفِ فسادِ خلق سے ناگفتہ رہ گئے
……٭٭……٭٭……
تحقیق و تنقید و تدوین
تعجب خیز بات یہ ہے کہ علم و ادب کی کساد بازاری کے اس زمانے میں پاکستان میں تخلیقی ادب تو ماند پڑتا جارہا ہے لیکن بڑی تعداد میں تحقیقی وتنقیدی و تدوینی کام ہورہے ہیں اور یہ سلسلہ کئی برسوں سے زور پکڑے ہوئے ہے۔
اگرچہ اس میں کچھ ہاتھ جامعات کے شعبہ ہاے اردو میں ہونے والے تحقیقی کا موں کا بھی ہے لیکن جامعات سے باہر ہونے والے کام بھی عموماً معیاری ہوتے ہیں۔ بہرحال یہ رجحان خوش آئند بھی ہے اور حیران کن بھی۔ اس موضوع پر کتابوں کی بڑی تعداد کی اشاعت کے پیشِ نظر چند ہی کتب کا ذکر کیا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹر نجم الاسلام ایک بڑے محقق اور سندھ یونیورسٹی میں شعبۂ اردو کے صدر تھے۔ ان کے علمی کاموں پر ایک اچھا مقالہ محمد یوسف چوہان نے لکھا جسے فکشن ہاؤس نے ’نجم الاسلام: مخطوطہ شناس اور فہرست نگار‘ کے عنوان سے شائع کیا۔ مجتبیٰ حسین معروف نقادوں میں سے تھے لیکن ان کی تنقیدی کتب اب دست یاب نہیں ہوتیں۔
ڈاکٹر ہلال نقوی ہمارے ان محققین میں شامل ہیں جو نام و نموداور صلے یا ستائش سے بے پروا ہو کر خاموشی سے علمی کاموں میں لگے رہتے ہیں۔ ان کا تازہ کارنامہ مجتبیٰ حسین کی تمام تنقیدی تحریروں کو’ تنقیدی کلیات‘ کے نام سے مرتَّب کرنا ہے۔ بارہ سو سے زائد صفحات پر مبنی یہ کتاب اٹلانٹس نے راشد اشرف کے اہتمام سے شائع کی ہے۔
جوش ملیح آبادی بڑے شاعر اور نثر نگار تو تھے ہی لیکن بعض اوقات اپنے انٹرویو یا گفتگو میں کچھ ایسی باتیں بھی کہہ دیتے تھے جو مروجہ معیار ِ تمدن و اخلاقیات سے ذرا ہٹ کر محسوس ہوتی تھیں اور جوش کو ان کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑا۔
ہلال نقوی نے جوش کے ایسے ہی نادر و کم یاب و غیر مطبوعہ انٹرویو اور مکالمات کو مدَّون کردیا ہے۔ یہ کتاب ’جوش ملیح آبادی: انٹرویوز اور مکالمات ‘کے عنوان سے ویل کم بک پورٹ نے شائع کی۔
ڈاکٹر یونس حسنی صاحب کا شمار استاذ الاساتذہ میں ہوتا ہے۔ اس سال ان کے تحقیقی و تنقیدی مضامین کا مجموعہ’ توازن‘ کے نام سے رنگِ ادب پبلی کیشنز (کراچی ) نے شائع کیا۔ ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب ہمارے ملک میں عربی کے چند بڑے عالموں میں شمار ہوتے ہیں لیکن عربی کے علاوہ فارسی اور اردو ادب پر بھی ان کی گہری نظر ہے۔
الطاف حسین حالی پر خورشید رضوی کی کتاب القا پبلی کیشنز (لاہور) نے شائع کی۔ اس کا نام ہے ’حالی کی عربی نظم و نثر‘ اور اس میں حالی کی عربی شاعری اور نثر کا متن اور ان کا اردو ترجمہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
شوکت صدیقی اردو کے نامور ناول و افسانہ نگار تھے۔ لیکن وہ صحافی بھی تھے، انھوں نے آزادیِ صحافت کے لیے جدو جہد بھی کی تھی۔ اسی سلسلے میں ہفت روزہ’ الفتح ‘میں کئی تند و تیز اداریے اور مضامین بھی لکھے۔
شوکت صدیقی کی تحریروں کو’ جہدِ قلم ‘کے نام سے مدوَّن کرکے شائع کیا گیا۔ بزرگ نقاد اور استاد پروفیسر فتح محمد ملک کے فکر و فن پر پر تین کتابیں شائع ہوئیں ، ایک انگریزی میں اور دو اردو میں ، جن کے نام ہیں :’ فتح محمد ملک کی تنقید نگاری‘ (از نثار ترابی) اور ’دیدہ ورِ عصر‘( از روح الامین)۔
ناصر عباس نیر اور شائستہ حسن نے ’علمی نثر : اصول و رسمیات ‘ مرتَّب کی۔ یہ کتاب اس لحاظ سے نوجوان محققین اور تحقیق و تنقید کے طالب علموں کے لیے اہم ہے کہ اس میں شامل متعدد محققین کے مقالات میں علمی و تحقیقی نثر لکھنے کے اصول اور طریقِ کار بیان کیے گئے ہیں نیز مقالوں میں حوالہ جات کے اندراج، حواشی، اشاریے اور کتابیات کی تیاری کے جدید طریقے بتائے گئے ہیں۔ لمز (LUMS) اور سنگِ میل کے اشتراک سے شائع ہوئی۔
نوجوانوں کا تحقیق و تنقید میں آنا فالِ نیک ہوتا ہے ۔ نوجوان محقق غلام علی نے فیض احمد فیض پر ایسے مضامین و مقالات کا مجموعہ مرتَّب کیا جن میں فیض احمد فیض کی نظموں کا بنظرِ غائر مطالعہ و تجزیہ کیا گیا ہے اور ان کی داخلی ساخت و لسانی خصوصیات سے معنی اخذ کیے گئے ہیں ( اسے انگریزی میں Reading Close کہتے ہیں)۔ کتاب’ غازۂ رخسارِ سحر‘ کے عنوان سے ہے اور اسے لاہور سے کولاژ پبلی کیشنز نے شائع کیا ہے۔
اس کتاب میں شامل ساجد صدیق نظامی کے مضمون کا ذکر ضروری ہے جس میں فیض کی اس مشہور نظم کا گہرا تجزیہ کیا گیا ہے جو ’ہم دیکھیں گے ‘کے نام سے مشہور ہے (اس نظم کا اصل نام سورہ رحمٰن کی ایک آیت کے ایک ٹکڑے پر مبنی ہے)۔ نظامی صاحب نے دلائل اور شواہد سے بتایا گیا ہے کہ یہ نظم ۱۹۷۹ء کے ایرانی انقلاب کے پس منظر میں ہے اور اس میں ان عام ایرانیوں کو خرا جِ تحسین پیش کیا گیا ہے جو بہت بڑی تعداد میں باہر نکلے اور شہنشاہ ایران کی حکومت کے خاتمے کا سبب بنے۔
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ فیض کی یہ نظم ضیاء الحق کے خلاف تھی لیکن نظامی صاحب نے جو شواہد پیش کیے ہیں ان میں آغا ناصر کا یہ بیان بھی شامل ہے کہ خود فیض نے انھیں لندن میں یہ نظم ہاتھ سے لکھ کر اور یہ کہہ کر دی تھی کہ یہ ایرانی انقلاب کے پس منظر میں ہے۔
افسانے
شعری مجموعوں کی طرح افسانوں کے مجموعے بھی ہر سال بڑی تعداد میں شائع ہوتے ہیں۔ یہاں صرف چند ہی کا ذکر ممکن ہے۔ کہنہ مشق لکھاری محمد عاصم بٹ کے افسانوں کا انتخاب ’تیز بارش میں ہونے والا واقعہ اور دیگر کہانیاں‘ کے نام سے عرفان جاوید نے کیا اور سنگ ِ میل نے شائع کیا۔
عرفان جاوید نے ممتاز ادیب اخلاق احمد کے افسانوں کا بھی انتخاب کیا اور اسے بھی سنگِ میل نے شائع کیا، نام ہے: ’فسانہ بدوش‘۔ سنگِ میل کے زیر اہتمام اقبال خورشید کے افسانوں کا مجموعہ ’چھنال اور دیگر افسانے ‘ بھی منظرِ عام پر آئے ۔
غالبیات
غالب کا کمال یہ ہے کہ ان پر اہلِ علم مقالے، مضامین اور کتابیں پیش کرتے رہتے ہیں اور غالب پر ہر سال کچھ نہ کچھ شائع ہوتا رہتا ہے۔ غالب کے اردو دیوان کے جو مختلف قلمی نسخے ماہرین کے پیشِ نظر رہے ہیں، ان میں ایک نسخۂ بھوپال بھی ہے جو نسخۂ حمیدیہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
اس نسخے پر بہت کچھ لکھا گیا۔ لیکن پھر یہ نسخہ غائب ہوگیا اورخاصے عرصے بعد لندن میں دریافت ہوا۔ان تمام مقالات و مضامین کو داؤد عثمانی نے’ دیوانِ غالب قلمی، المعروف بہ نسخۂ حمیدیہ‘ کے نام سے مرتب کردیا اور رنگ ِ ادب (کراچی) نے اسے شائع کیا۔
ادارۂ یادگارِ غالب (کراچی ) ایک ایسا ادارہ ہے جو نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے سے علم و ادب کی خدمت میں سرگرم ہے اور ہر سال علمی کتابیں بھی اپنے محدود وسائل کے باوجود شائع کرتا رہتا ہے۔ اس ادارے کے تحت مرزا ظفر الحسن اور فیض احمد فیض نے نصف صدی قبل غالب لائبریری قائم کی تھی جو آج بھی تشنگانِ علم کی پیاس بجھا رہی ہے۔
غالب لائبریری کا قیام بذاتِ خود ایک کارنامہ ہے۔ ابرا رعبدالسلام نے مرزا ظفر الحسن اور لطیف الزماں خاں کی مکاتبت کے ذریعے غالب لائبریری کی تاریخ پیش کردی ہے اور اسے’ غالب لائبریری کی کہانی مرزا ظفر الحسن کی زبانی ‘کے عنوان سے ادارۂ یادگارِ غالب نے شائع کیا ہے۔
قاسم یعقوب ان استادوں میں شامل ہیں جو مسلسل پڑھتے لکھتے رہتے ہیں۔ ان کی ایک اور علمی و فکری کاو ش غالب پر ہے جو اسی سال ’ماہِ نیم ماہ : غالب، شخصیت اور شعریات‘ کے عنوان سے سامنے آئی۔
اقبالیات
غالب کی طرح اقبال پر بھی ہر سال کچھ نہ کچھ تحقیقی و تنقیدی مواد شائع ہوتا رہتا ہے اور سال دوہزار پچیس بھی کوئی استثنائی مثال نہیں تھی۔ اس سال اقبال پر جو کتب شائع ہوئیں ان میں تحسین فراقی کی ’گوئٹے، اقبال اور پیام ِ مشرق ‘نمایاں ہے۔اس میں فراقی صاحب نے عالمانہ انداز میں اقبال اور گوئٹے کی ذہنی قربت اوراقبال کی کتاب ’ پیام ِ مشرق‘ کی اہمیت اور معنویت بیان کی ہے۔
ایک رجحان پرانی کتابوں کی تازہ اشاعت کا بھی ہے جو کوئی دس سال قبل عروج پر تھا اور اب کم ہوتا جارہا ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پرانی کتابیں اب انٹر نیٹ پر (قانونی یا غیر قانونی طور پر) بڑی تعداد میں اور مفت دست یاب ہیں۔ لیکن پھر بھی کچھ اچھی کتابیں دوبارہ شائع ہورہی ہیں۔
مثلاً ابوالاعجاز حفیظ صدیقی کی عمدہ کتاب اوزانِ اقبال کراچی کی فقہ اکیڈمی نے دوبارہ شائع کردی۔ اس میں علامہ اقبال کی شاعری میں مستعمل بحروں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔
طنز و مزاح
طنز و مزاح کا اب کال پڑا ہوا ہے۔ اس موضوع پر اب نئے لکھنے والے کم ہی ہیں۔ معروف مزاح نگار عطا ء الحق قاسمی کی تحریروں کا ضخیم مجموعہ ’کہا سنا معاف‘ کے نام سے سنگِ میل نے شائع کیا۔ شجاع الدین غوری نے اپنی کتاب ’اقبال سے چھیڑ چھاڑ‘ میں ایسے مضامین مرتب کردیے ہیں، جن میں علامہ اقبال اور اقبالیات پر اہلِ قلم نے ہلکے پھلکے انداز میں تبصرے کیے ہیں اور ان اہلِ قلم میں بعض نامور لکھنے والے بھی شامل ہیں۔
بزم ِ تخلیقِ ادب پاکستان نے یہ کتاب شائع کی ہے۔ شجاع الدین غوری اس سے پہلے بھی اقبالیات اور اقبال کے موضوع پر لکھی گئی طنزیہ و مزاحیہ تحریروں کے دو مجموعے مرتَّب و مدوَّن کرکے شائع کرچکے ہیں۔
زبان و لغت
اردو کہاوتوں پر مبنی’ محیط الامثال ‘شائع ہوئی۔ وصی اللہ کھوکھر اس کے مرتِّب ہیں اور دارالنوادر (لاہور) نے اسے شائع کیا۔ اس میں تقریباً گیارہ ہزار اردو کہاوتیں اور مقولے درج ہیں اور ایک ہزار سے زیادہ عربی و فارسی کہاوتیں جو اردو میں بھی مستعمل ہیں ان کے علاوہ ہیں، اس طرح یہ اردو کہاوتوں کا ضخیم ترین مجموعہ ہے۔
’ لفظ تماشا ‘عبدالخالق بٹ کی کتاب ہے جس میں انھوں نے الفاظ اور ان کے معنی سے بحث کی ہے۔ اسلوب شگفتہ ہے اگرچہ کہیں کہیں غیر ضروری تفصیل میں چلے گئے ہیں۔ انھیں چاہیے کہ باقاعدگی سے مزاح لکھیں ۔لغت اور غالبیات پر مجھ کندہ ٔناتراش کی مرتبہ کتاب’ غالب اور لغت نویسی‘ بھی اسی سال ادارۂ یادگار ِ غالب سے شائع ہوئی ہے۔
تراجم
سال ۲۰۲۵ء میں تراجم بھی خاصی بڑی تعداد میں شائع ہوئے۔ چند ہی کا ذکرممکن ہے۔ زینت حسام نے شمالی امریکا کی شاعرات کی نظموں کا اردو میں ترجمہ کیا۔ ’تمناؤں کے دیار سے ‘ نامی یہ کتاب دانیال نے شائع کی۔ انعام یافتہ عربی ناول ’سیدات القمر‘ کا اردو میں ترجمہ جاوید مجید نے’ قمر زادیاں‘ کے نام سے کیا اور اسے مجلسِ ترقیِ ادب نے شائع کیا۔
غیر افسانوی اصناف
مستنصر حسین تارڑ کا سفرنامہ ’کشمیر تصویر ‘شائع ہوا۔ ناشر تھے سنگِ میل۔ تعلیمی ادارے کسی بھی خطے کو روشنی بخشتے ہیں اور ایسے قابل افراد تیار کرتے ہیں جو خود بھی روشنی پھیلاتے ہیں۔ ارشد محمود ناشاد نے اپنی مادر ِ علمی گورنمنٹ کالج اٹک کے سو سال مکمل ہونے پر اس کی ایک ضخیم تاریخ ’روشنی کی ایک صدی‘ مرتب کرکے شائع کی ہے۔
اس میں کالج کے اساتذہ اور طالب علموں کابھی تفصیلی ذکر ہے۔’بکھری ہے میری داستاں ‘ عنوان ہے معروف شاعر محمد اظہار الحق کی خود نوشت کا جو بک کارنر (جہلم) نے شائع کی۔
ادبی جرائد
ادبی رسائل کسی بھی زبان کے ادب کے ماضی کا ریکارڈ،اس کے حال کے عکاس اور مستقبل کے نقیب ہوتے ہیں جن سے نہ صرف ادبی، سماجی ، معاشی و سیاسی حالات کا انداز ہوتا ہے بلکہ وہ آنے والے زمانوں کے رجحانات کی خبر بھی دیتے ہیں۔ موجودہ دور میں اردو کے ادبی رسائل جس زوال کا شکار ہیں وہ ہمارے حال اور مستقبل کی بھی ڈراونی صورت ہے۔
اول تو ادبی رسائل دم توڑتے جارہے ہیں اور جو باقی رہ گئے ہیں ان کی تعداد ِ اشاعت کم ہوتی جارہی ہے۔ کچھ رسالے بر خط یعنی آن لائن ہی ملتے ہیں یعنی اب کاغذپر ان کی طباعت نہیں ہوتی اور وہ صرف انٹر نیٹ کے ذریعے ہی قابلِ حصول ہیں۔ یہ شاید آنے والے دور کی جھلک ہے جب بیش تر کتب اور رسائل کاغذ سے اسکرین پر منتقل ہوجائیں گے ۔ کچھ ادبی رسائل برخط یعنی آن لائن ’’بھی ‘‘دست یاب ہیں ۔
لیکن دوسرا مسئلہ ادبی رسالوں کے قاری کی گم شدگی ہے اور اس کی بڑی وجہ ادبی رسائل کا گرتا ہوا معیار ہے۔بعض ادبی رسالے انجمنِ ستائشِ باہمی بن چکے ہیں جن میں ’’نامعلوم افراد‘‘ کی ادبی عظمت کے گن گائے جاتے ہیں اوران پر گوشے یا نمبر چھاپے جاتے ہیں۔
جب ایک رسالے کی بیش تر تحریریں اہلِ قلم دوستوں کی تعریف و توصیف پر مبنی نام نہاد تنقیدی و تحقیقی مضامین ہوں(اوراہلِ قلم بھی ایسے کہ اکثر قارئین ان کے نام سے بھی واقف نہیں ہوتے اور رسالے میں ان کی ناپید ادبی عظمت کے قصیدے پڑھ کر ہکا بکا رہ جاتے ہیں ) تو اس رسالے کی عدم مقبولیت اورقارئین کی تعداد میں کمی کا کیا گلہ۔
دراصل اشتہارات کی نایابی اور قارئین کی کم یابی کی وجہ سے اب ادبی رسالے کی اشاعت گھاٹے کا سودا ہے، سوائے ان چند ادبی رسالوں کے جن کی بازار میں کھپت ہے یا ان رسالوں کے جو علمی و ادبی اداروں کے زیرِ اہتمام شائع ہوتے ہیں اور جنھیں سرکار سے امدادی رقوم ملتی ہیں۔ لیکن ادبی رسالے ادبی منظر نامے کا ایک اہم جزو ہوتے ہیں اور ان کی اشاعت بہر صورت ضروری ہے۔
ان حوصلہ شکن حالات میں جو لوگ ادبی رسالے شائع کرتے ہیں ان کو سراہا جانا بہت ضروری ہے۔ ایسے ہی رسالوں میں کراچی سے نکلنے ولا ادبی جریدہ ’زیست‘ بھی ہے جسے ڈاکٹر انصار شیخ شائع کرتے ہیں۔ چند ماہ قبل اس کا ضخیم شمارہ شائع ہوا ہے جس میں متعدد اہم لکھنے والوں کی اہم تحریریں شامل ہیں۔
قائد اعظم لائبریری (لاہور)کا علمی رسالہ ’مخزن‘ ،جو دوبارہ جاری کیا گیا تھا، اپنے دورِ جدید کے پچیسویں سال میں داخل ہوگیا۔ کاشف منظورکی نظامت اور بصیرہ عنبریں کی ادارت میں اس کے شمارے مسلسل شائع ہورہے ہیں ۔ یہ برخط (آن لائن)بھی دست یاب ہے۔
جشنِ سیمیں کے سلسلے میں ’مخزن ‘کا خاص شمارہ شائع ہوا جس میں پچیس سالہ اشاریہ بھی شامل ہے جو محققین اور طالب علموں کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے۔ انجمن ترقیِ اردو (کراچی)کاماہ نامہ’ قومی زبان‘بھی مسلسل شائع ہورہا ہے اور اس کا ضخیم امیر خسرو نمبر بھی شائع ہوا۔
کسی بھی رسالے کی مسلسل اشاعت ،او روہ بھی نامساعد حالات میں، قابلِ ستائش ہے۔ لمزکے تحقیقی جریدے ’بنیاد‘کا تازہ شمارہ ناصر عباس نیرکی ادارت میں شائع ہوا۔ ’بنیاد ‘ کا شمار معیاری تحقیقی جرائد میں ہوتا ہے۔
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی(اسلام آباد)کے شعبۂ اردو کا شش ماہی تحقیقی مجلہ ’تعبیرِ نو‘ ارشد محمود ناشاد کی ادارت میں جاری ہوا۔ دونوں یونیورسٹیوں کے یہ رسالے برخط بھی دست یاب ہیں۔
بزم ِ اقبال (لاہور) کا رسالہ’ اقبال ‘ کے نام سے تحسین فراقی صاحب کی ادارت میں شائع ہوتا ہے اور معیاری جرائد میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا پیام ِ مشرق نمبر شائع ہوا جو خاصے کی چیز ہے۔ مجلسِ ترقی ِ ادب (لاہور) کے پرچے ’صحیفہ ‘کا افتخار عارف نمبر شائع ہوا۔
یہ تھا ایک مختصر جائزہ دو ہزار پچیس میں شائع ہونے والی نثری کتب کا۔ لیکن بہت سی کتابوں اور رسالوں کا ذکر رہ گیا، بقولِ غالب:
سفینہ چاہیے اس بحرِ بے کراں کے لیے
کتابوں کی دنیا میں ایک نیا رجحان
اردو طباعت و اشاعت کی دنیا میں ایک نیا رجحان ڈیجیٹل پرنٹنگ (digital printing) ہے۔
اس طریقۂ طباعت میں روایتی پرنٹنگ پریس اور طباعتی پلیٹوں کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ کمپیوٹر کی مدد سے پرنٹرپر کتاب چھاپی جاتی ہے جس کی چھپائی روشن اور واضح ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ رنگین سرورق بھی کمپیوٹر کی مدد سے بنا کر چھاپ لیا جاتا ہے۔
ڈیجیٹل پرنٹنگ کا فائدہ یہ ہے کہ طباعت کا معیار عمدہ ہوتا ہے اور پریس کے جھنجھٹ سے بھی جان چھوٹ جاتی ہے، پھر یہ کہ پریس سے کتابوں کی طباعت میں بڑی رقم صرف ہوتی ہے کیونکہ کم از کم تین سو سے پانچ سو نسخے چھاپنے پڑتے ہیں جو برسوں میں جاکر فروخت ہوتے ہیں، رقم بھی پھنس جاتی ہے اور ان نسخوں کو سنبھالنا بھی مصیبت سے کم نہیں۔
لیکن ڈیجیٹل طباعت میں آپ جتنے چاہیں نسخے چھپوالیں۔ کچھ لوگ آن لائن مارکیٹنگ کے ذریعے آرڈر حاصل کرتے ہیں اور طلب کے مطابق کم یا زیادہ نسخے چھاپتے رہتے ہیں۔ چونکہ کتاب کمپیوٹر پر محفوظ ہوتی ہے لہٰذا جب جتنے چاہیں نسخے چھاپ لیجیے۔ اردو کے بعض رسالے بھی اب اسی طرح طباعت و اشاعت کی منزل سے گزرتے ہیں۔
اس کا ایک نقصان بھی ہے اور وہ یہ کہ اب کتاب کی تعدادِ اشاعت بہت ہی کم ہوجائے گی۔ بلکہ اس کام سے وابستہ بعض دوستوں نے بتایا کہ بعض لوگ صرف دو چار کاپیاں کمپیوٹر سے چھپوا لیتے ہیں۔
بقول ہمارے ایک دوست کے، اب صاحب ِ کتاب ہونے اورا دیب یا شاعر کہلوانے کے لیے ایک لاکھ روپے کی ضروت نہیں ہے، بلکہ دس پندرہ ہزار میں دو چار نسخے چھپوا کر کوئی بھی اہلِ قلم میں شامل ہوسکتا ہے اور ادبی ایوارڈ کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ اسے کہتے ہیں ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی آئے چوکھا۔
مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تخلیقی ادب
مصنوعی ذہانت جسے انگریزی میں مختصراً اے آئی (AI) کہا جاتا ہے اب ادب کی دنیا میں انقلاب (یا تباہی؟) مچانے جارہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے کمپیوٹر خود ہی مطلوبہ طوالت (طویل یا مختصر)یا مطلوبہ انداز (مزاحیہ، سنجیدہ، غمگین) اور ہدایات کے مطابق کہانیاں اور ناول لکھ سکتا ہے۔
مغرب میں طالب علموں کے بارے میں تو یہ شکایت عام ہوگئی ہے کہ وہ ہوم ورک یاکارِ مفوَّضہ یعنی اسائنمنٹ کی تیاری میں مصنوعی ذہانت سے مدد لیتے ہیں لیکن ہمارے ہاں بھی انگریزی کے بعض صحافی اپنی خبریں یا رپورٹیں لکھنے کے لیے اے آئی استعمال کررہے ہیں۔
اب مغرب میں بعض ناشرین نے مصنفوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی تخلیقات میں مصنوعی ذہانت استعمال کریں گے تو ایسی کتابوں کی اشاعت سے معذرت۔ دیکھیے اردو میں یہ نوبت کب آتی ہے۔