• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گذشتہ سال کے اواخر میں ادبی کانفرنسز، سیمینارز اور فیسٹولز کا موسم خوب چھایا رہا۔

ان تقریبات کو دیکھ کر یہ احساس ہوا کہ ہمارے یہاں ادب اور ثقافتی مظاہر کا دور دورہ ہے۔ اُن پر بھرپور توجہ دی جارہی ہے اور ان کے سلسلے میں وہ کام اور اقدامات اہتمام سے کیے جارہے ہیں جن کا تقاضا یہ عہد کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تخلیقی منظرنامہ بہت روشن اور حوصلہ افزا ہے۔ ادب خوب پروان چڑھ رہا ہے اور عوام و خواص تک اس کا ابلاغ اور پذیرائی قابلِ رشک ہے۔ گویا ادب و ثقافت کے چمن میں بہار آئی ہے اور پات ہرے ہیں، پھول کھلے ہیں، کم کم باد و باراں ہے۔


بظاہر ایسا ہی معلوم ہوتا ہے اور کیوں نہ ہو کہ ادب و شعر اور ثقافت کی دنیا کا کیسا کیسا دانہ ان تقریبات کی رونق بڑھاتا اور ان منظروں کی چکا چوند کی طرف اٹھی آنکھوں کو خیرہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ سو آدمی سوچتا ہے، کوئی ٹھکانا ہے فکر و نظر کی رنگا رنگی اور شعور و احساس کی معنی آفرینی کا۔ دوسری طرف یہ بھی ہے کہ ہر سطح، ہر پروگرام میں شریک ہر شخص چھوٹا ہو یا بڑا، ادنیٰ ہو یا اعلیٰ، مرد ہو یا زن:

ایں کار از ’می‘ آید و مرداں چنیں کنند

کی جیتی جاگتی تصویر نظر آتا ہے۔ سو بس اس لحاظ سے تو کہا جاسکتا ہے کہ یہ ادب و ثقافت کا عہدِ زریں ہے۔ اب اگر واقعی ایسا ہے تو بلاشبہ یہ سب اچھا اور خوش کن ہے۔ تاہم اقبال نے سمجھایا تھا:

صاحبِ ساز کو لازم ہے کہ غافل نہ رہے

گاہے گاہے غلط آہنگ بھی ہوتا ہے سروش

سو یہاں ہمیں بھی خود سے ایک سوال پوری سنجیدگی کے ساتھ ضرور پوچھنا ہے۔

کیا یہ سب ادب کی ترسیل، فروغ اور پذیرائی کا باعث ہے؟

چھوٹے اور سادہ سے اس سوال کا جواب ذرا کچھ ٹیڑھا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس میں اگر مگر چوں کہ چناں چہ کے بغیر بات نہیں کی جاسکتی۔ مثال کے طور پر دیکھیے، اگر صرف محولہ بالا منظرنامہ اپنے دائیں بائیں دیکھے بغیر سامنے رکھا جائے تو اس سوال کا جواب اثبات میں ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ کسی امرِ واقعی کے اظہار اور اس کی اصل حقیقت تک رسائی کے لیے چوں کہ ہر ممکنہ رُخ اور جملہ پہلوئوں کو ملحوظِ خاطر رکھنا ضروری ہوتا ہے، چناں چہ جب ہم ٹھہرے ہوئے یا ٹھہرائے گئے رنگ و بو سے چھلکتے اس منظر کے آس پاس یا اِدھر اُدھر نگاہ ڈالتے ہیں تب ہمیں اپنے سوال کا جواب اثبات میں نہیں بلکہ نفی میں ملتا ہے۔

پہلے تو یہی سوچنا چاہیے، کیوں نفی میں ملتا ہے؟

اس لیے کہ جو کچھ ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور اس کی بابت جو غلغلہ بلند ہے، ہمارے معاشرے کا احوال اُس کی تصدیق نہیں کرتا۔ واقعہ یہ ہے کہ اس وقت جو کچھ ان کانفرنسز، سیمینارز اور فیسٹولز میں ادب اور ثقافت کے نام پر ہمارے سامنے آرہا ہے، اُس میں اصل ادب و ثقافت کا حصہ خاصا کم ہوگیا ہے۔ کہہ لیجیے، پینتیس چالیس فی صد کے برابریا اس سے بھی کم۔ باقی سب فن فیئر، موج میلا، کھیل تماشا اور کمرشل ازم ہے۔

آگے بڑھنے سے پہلے اس امر کی وضاحت بے جا نہ ہوگی کہ یہ سوال یا بحث کوئی باہر کا آدمی نہیں، بلکہ وہ شخص اٹھا رہا ہے جو گزشتہ پندرہ سولہ برس سے اس نوع کی اکثر و بیشتر تقریبات میں شریک رہا ہے، اور جسے ملک کے مختلف شہروں ہی میں نہیں بلکہ ملک سے باہر بھی ایسے پروگرامز میں شرکت کا موقع ملا ہے، یعنی اس منظرنامے کا وہ مسلسل براہِ راست عینی شاہد ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ جب تقریبات کا سلسلہ آغاز ہوا تو ہمارے یہاں ابتری کے دن تھے۔ ملک میں امن و امان کی فضا دگرگوں تھی۔ حالات میں تو اب بھی کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے، ہاں اب اسباب کی نوعیت کسی قدر بدل چکی ہے۔ خیر، یہ ہمارا قومی المیہ اور سماجی ابتلا ہے ۔ جب چند برسوں میں کانفرنسز اور فیسٹولز کے اس سلسلے نے زور باندھا اور ہر سال ملک کے کئی شہروں میں ایسی تقریبات پابندی سے ہونے لگیں تو ایک دن ہم نے اپنے عہد کی ایک نمایاں اور بلند پایہ شخصیت انتظار حسین صاحب سے دریافت کیا کہ ہمارے شاعر کو تو مشاعرہ اور ایسی ہی دوسری کوئی نہ کوئی تقریب یا پلیٹ فارم مہیا تھا اور اسے اپنے سامعین اور ناظرین سے ربط ضبط اور شہرت کا موقع ملتا رہتا تھا۔ 

اب یہ جو نیا سلسلہ شروع ہوا ہے، جس میں ادیب بھی کبھی یہاں اور کبھی وہاں اسٹیج پر جلوہ افروز نظر آنے اور اپنے سننے دیکھنے والوں کی ضیافت میں مصروف ہوگیا ہے، اس کا کیا مطلب ہے، کیا یہ ادب اور ادیب کی تفہیم اور قدر دانی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے یا پھر ہمارا ادیب بھی نمائش پسند ہوگیا ہے اور اس کے لیے عوامی پذیرائی اور شہرت کے سامان کی صورت پیدا ہو رہی ہے؟

انتظار صاحب نےجو جواب دیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس وقت جو ہماری سماجی صورتِ حال ہے اور جن اخلاقی اور انسانی مسائل کا ہمیں سامنا ہے، یہ تقریبات اور پروگرامز ان کے خلاف ہمارا تہذیبی اور ادبی ردِ عمل ہے۔ انتظار صاحب کی بات بالکل درست تھی۔ اس وقت جس طرح ہمارے یہاں شدت پسندی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کی منہ زور لہر اٹھی ہوئی تھی، اُس نے سماج کا حلیہ اور احوال تیزی سے بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس وقت ہمارا ادب اور ادیب اس ہوا کے خلاف سامنے آئے تھے اور اس تیزی سے تبدیل ہوتی فضا کے بارے میں اپنے ردِعمل کا اظہار کیا تھا۔ 

ادب اور ادیب معاشرے میں انقلاب یا خارجی سطح پر کسی بھی بڑی اور فوری تبدیلی کا ذریعہ نہیں بنتے،بلکہ بن ہی نہیں سکتے۔ اس کا مشاہدہ یورپ کی نشاۃِ ثانیہ، فرانس اور روس کے انقلاب سے برِصغیر کے نوآبادیاتی اور مابعد نوآبادیاتی ادوار تک ادیبوں، شاعروں کے ردِعمل اور تخلیقی کارگزاری سے بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ البتہ ادب اس نوع کے حالات کی تبدیلی کے لیے ایک آہستہ رو عمل انگیز یا کیٹا لسٹ کا کردار بہرحال ادا کرسکتا ہے۔ 

پندرہ سولہ برس قبل جب کانفرنسز اور فیسٹولز کا یہ سلسلہ شروع ہوا تو ہمارے معاشرے کا وہ طبقہ جو اپنی قوم اور اس کے سماجی، اخلاقی اور تہذیبی مسائل کی بابت دوسروں کے مقابلے میں زیادہ حساس ہوتا ہے، اور ان کے بارے میں سنجیدہ رہتا اور غور و فکر کرتا ہے، یعنی ادیب، شاعر اور دانش ور وہ اِس کی طرف سب سے پہلے متوجہ ہوا۔ اس کے زیرِ اثر یا دیکھا دیکھی کچھ دوسرے لوگ اور ادارے اور ان کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیمی سطح کے اساتذہ بھی اس جانب متوجہ ہوئے۔

ابتدا میں یہ کانفرنسز اور فیسٹولز اور ان میں پیش کی گئی بہت سی چیزیں خوش آئند اور حوصلہ افزا تھیں۔ اُن میں اپنے عہد کے ادب، سماج اور ثقافت کو درپیش مسائل پر خصوصاً توجہ دی گئی تھی۔ اس کا اظہار موضوعات کے حوالے سے بھی ہوا اور اُن موضوعات پر گفتگو کرنے والے ادیبوں، شاعروں، نقادوں اور دانش وروں کے انتخاب سے بھی۔ اگرچہ کچھ بڑے اداروں نے آغاز ہی میں اپنے پروگرامز میں ایسے مباحث کو بھی راہ دی یا دینے کی کوشش کی جن کا ہماری تہذیب، سماج اور ادب سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا بلکہ ان کو ہمارے معاشرے میں لانا یا پھیلانا دراصل اس کے فکری و اخلاقی نظام پر ضرب لگانے کے مترادف تھا۔

جلد ہی یہ بات واضح ہوگئی کہ ان اداروں کی فنڈنگ جہاں سے ہو رہی ہے، یہ سب تو ان کے ایجنڈے کا معاملہ ہے۔ ہر زندہ تہذیب و سماج کا چوں کہ ایک مدافعتی نظام ہوتا ہے جو ایسی صورتِ حال میں ازخود بروے کار آتا ہے۔ سو یہاں بھی یہ ہوا اور پھر اس قبیل کے موضوعات کو کیموفلاج کرنے اور ذرا آہستہ آہستہ ان چیزوں کو معاشرے میں لانے پھیلانے کی ضرورت کے بارے میں ان اداروں اور ان کے فنانسرز کو سوچنا پڑا۔ خیر، یہ اس مسئلے کی ایک الگ اور بحث طلب جہت ہے۔

گویا اس سلسلے کی ابتدا تو درست تھی لیکن بعدازاں وہی ہونے لگا جو اس طرح کے کاموں میں عام طور سے ہو جایا کرتا ہے۔ سب سے پہلے تو کانفرنسز اور فیسٹولز کا یہ سلسلہ وسیع تر ہوتا چلا گیا، سرکاری، غیر سرکاری پرائیویٹ ادارے اور نجی انجمن تک ہر ایک نے اپنے اپنے انداز اور اہداف کے ساتھ اس کام کا بیڑا اٹھایا اور میدان میں آ اترا۔ پرائیویٹ اداروں اور نجی انجمنوں کو اس کام کے لیے ظاہر ہے، عطیات اور تعاون کی مد میں حاصل ہونے والی رقم کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ مرحلہ سر کیا جاتا ہے اپنی کارکردگی اور عوامی مقبولیت دکھا کر۔ سو اب آگے آنے والے ان اداروں میں مسابقت ناگزیر تھی۔

اب یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ تہذیب و تمدن کی تاریخ بتاتی ہے کہ ادب و شعر اور فکر و دانش سے کبھی کسی معاشرے میں عوامی اکثریت کو دل چسپی نہیں رہی۔ اس طرف ہمیشہ ایک قلیل تعداد متوجہ ہوتی ہے۔ اب ادھر مسئلہ یہ ہے کہ منتظمین کو تو ہر صورت میں اپنی عوامی پذیرائی اور اثر و رسوخ دکھانا ہے، تبھی تو فنڈنگ کا مسئلہ حل ہوگا۔ اس کے لیے موسیقی اور رقص کے پروگرام تو کچھ پہلے بھی تھے، اب ان کے ساتھ الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر بڑی فین فولونگ رکھنے والے صحافی ان کانفرنسز اور فیسٹولز میں شامل کیے گئے۔ اس کے بعد فلم اور ٹی وی کے شہرت یافتہ اور مقبول اداکار بھی ان کا حصہ بنتے چلے گئے۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ ادب کے نام پر ہونے والی ان کانفرنسز، سیمینارز اور فیسٹولز میں مشکل سے پینتیس چالیس فی صد حصہ ادب، زبان، تہذیب اور سماج سے تعلق رکھنے والے سوالات، مباحث اور مسائل کا رہ گیا ہے، باقی جو ہے، وہ صحافت، سیاست اور ثقافت کے نام پر مشہور صحافیوں اور اداکاروں کے شوز اور تفریحی پروگرام پر مشتمل ہے۔

حالات کا رُخ اس امر کی نشان دہی واضح طور پر کر رہا ہے کہ آگے چل کر یہ جو چالیس فی صد سنجیدہ علمی و ادبی معاملات رہ گئے ہیں، ان میں بھی رفتہ رفتہ کچھ اور کمی ہوتی جائے گی۔ اس لیے کہ ایسے سنجیدہ سیشنز میں اس طرح ہزاروں کا مجمع اور کھڑکی توڑ رش نہیں ہوتا جیسا کہ مقبولِ عام اداکاروں اور شہرت یافتہ صحافیوں کے سیشنز میں ہوتا ہے۔ دوسری طرف منتظمین کی سائیکی اب یہ بن چکی ہے کہ وہ اپنے مشاعروں میں بھی ’کرائوڈ پلر‘ شاعروں کو بلانا چاہتے ہیں۔ جواز یہ کہ کیا کیا جائے، مجبوری ہے، لوگ سننا ہی ان کو چاہتے ہیں۔ سو آپ کو اور ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ مسابقت کی یہ دوڑ انگریزی محاورے کے مطابق ’کٹ تھروٹ کمپٹیشن‘ ہے اور یہ ’’سروائیول اوف دی فٹسٹ‘‘ کا معاملہ ہے۔ گویا منفعت کسی بھی شکل کی ہو معاملہ اس کا اقتدار سے مختلف نہیں ہوتا۔


کانفرنسز اور فیسٹولز کا یہ مسئلہ یہاں بھی نہیں رُکتا۔ ان پروگرامز میں علم و ادب کا جو حصہ ہے اس کا ماجرا بھی سن لیجیے۔ ان میں اکثریت ان ادیبوں، شاعروں اور نقادوں کی ہے جو ہمارے ادبی منظر پر کسی نہ کسی وجہ سے نمایاں ہیں۔ اس سے کسی کو بھی کوئی بحث نہیں کہ ان کی ادبی حیثیت اور اصل کارگزاری کیا ہے۔ فیسٹول لاہور، کراچی، اسلام آباد یا فیصل آباد کسی بھی شہر میں ہو، اکثر و بیشتر یہی جانے پہچانے چہرے آپ کو ہر جگہ نظر آئیں گے۔ موضوع کا تعلق ادب سے ہو یا سماج سے، تہذیب سے ہو یا سیاست سے، مذہب سے ہو یا ثقافت سے، آپ انھی لوگوں کو گفتگو کرتا ہوا پائیں گے اور تو اور ان لوگوں کے ’موتی رولنے‘ کا انداز بھی ہر موقعے پر یکساں ملے گا۔ پھر یہ بھی دیکھنے والا معاملہ ہے کہ ہر کانفرنس یا فیسٹول میں یہی لوگ ایک نہیں، کئی کئی سیشنز میں سامعین کا دامن اپنے ’خیالاتِ عالیہ‘ سے بھرتے ہوئے دکھائی دیں گے۔

ابتدا میں جب یہ سلسلہ آغاز ہوا تھا تو اکثر اداروں کے منتظمین نے اگر وہ خود ادیب شاعر تھے تو بھی اس سلسلے میں کچھ اہلِ دانش اور ادیبوں شاعروں سے مشاورت کو ضروری سمجھا۔ ۲۰۱۸ء کے بعد آنے والی حکومت کی پالیسی اور ملک کی معاشی صورتِ حال کی وجہ سے بیشتر سرکاری ادارے تو ٹھنڈے ہوکر بیٹھ رہے۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ جہاں کہیں انتظامی حیثیت کا حامل اگر کوئی ادیب شاعر ہے تو پھر بھی معاملہ کچھ نہ کچھ غنیمت نظر آتا ہے۔ جہاں ایسی شخصیات ہیں جو ادب و شعر سے خود کوئی تعلق نہیں رکھتیں، صرف انتظامی اختیار ان کے ہاتھ میں ہے، وہاں تو اس حقیقت کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ اُن کی سوچ اور طریقِ کار میں کمرشل ازم باقی ہر شے پر فوقیت رکھتا ہے۔

اوّل تو مشاورت ان لوگوں کے نزدیک ضروری ہی نہیں ہے اور اگر کہیں وہ نظر بھی آتی ہے تو محض سطحی اور بڑی حد تک غیر مؤثر۔ اس لیے کہ مشاورت اور معاونت کا کام بھی اکثر غیر تخلیقی لوگ کر رہے ہیں یا پھر وہ لوگ جن کا تکیۂ کلام ’جی حضور‘ اور ’سبحان ﷲ‘ ہے۔ سو ان سے کسی ذمہ دارانہ مشورے کی بھلا کیا توقع رکھی جاسکتی ہے۔

معزز قارئین! آپ سے کچھ کہنا ہے

ہماری بھرپور کوشش ہے کہ میگزین کا ہر صفحہ تازہ ترین موضوعات پر مبنی ہو، ساتھ اُن میں آپ کی دل چسپی کے وہ تمام موضوعات اور جو کچھ آپ پڑھنا چاہتے ہیں، شامل اشاعت ہوں، خواہ وہ عالمی منظر نامہ ہو یا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، رپورٹ ہو یا فیچر، قرطاس ادب ہو یا ماحولیات، فن و فن کار ہو یا بچوں کا جنگ، نصف سے زیادہ ہو یا جرم و سزا۔ لیکن ان صفحات کو اپنا سمجھتے ہوئے آپ بھی کچھ لکہیں اور اپنے مشوروں سے نوازیں بھی۔

خوب سے خوب تر کی طرف ہمارا سفر جاری ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ آج جب پڑھنے کا رجحان کم ہوگیا ہے، آپ ہمارے صفحات پڑھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اب ان صفحات کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی رائے بھی دیں اور تجاویز بھی، تاکہ ان صفحات کو ہم آپ کی سوچ کے مطابق مرتب کرسکیں۔

ہمارے لیے آپ کی تعریف اور تنقید دونوں انعام کا درجہ رکھتے ہیں۔ تنقید کیجیے، تجاویز دیجیے۔ اور لکہیں بھی۔ نصف سے زیادہ، بچوں کا جنگ، ماحولیات وغیرہ یہ سب آپ ہی کے صفحات ہیں۔ ہم آپ کی تحریروں اور مشوروں کے منتظر رہیں گے۔ قارئین کے پرزور اصرار پر نیا سلسلہ میری پسندیدہ کتاب شروع کیا ہےآپ بھی اس میں شریک ہوسکتے ہیں ، ہمارا پتا ہے:

رضیہ فرید۔ میگزین ایڈیٹر، روزنامہ جنگ، اخبار منزل،آئی آئی چندیگر روڈ، کراچی