اسلام آباد( مہتاب حیدر) آئی ایم ایف کی ٹیم نے فنڈ کے اسٹاف کے جائزے اور معائنے کی تکمیل سے قبل ہی وزارت خزانہ کی جانب سے تمام اسٹرکچرل بینچ مارک اور کیفیتی اشارتی اہداف پورا کرنے کے حوالے سے جاری کیے جانے والے دعوے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔
آئی ایم ایف کے مشن چیف ناتھن پورٹر اور ان کے دیگر ساتھیوں نے موجودہ وزیر خزانہ محمد جہانزیب کے سامنے اپنی اس ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس سے دھچکالگا ہے۔
آئی ایم ایف کا وفد 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ایگریمنت پر جائزے کی تکمیل کےلیے پاکستان میں ہے اور قومی معیشت کے مختلف شعبوں سے موصول ہونے والے سرکاری ڈیٹا کے تجزیے کے بعد وہ اپنی تشخیص پیش کریگا۔ باوجود ا س کے کہ وزارت خزانہ نے اپنے ایک سرکاری ہینڈ آؤٹ میں تمام اسٹرکچرل بینچ مارک پورے کرنے کا اعلان کیا ہے آئی ایم ایف کے ریویو مشن نے حقیقی طور پر وزارت خزانہ کی ٹیم کو رگڑا دیا ہے اور مذاکرات کے پہلے ہی دن ہر کوئی اس امر سے بے خبر تھا کہ کیاجواب دے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف اجلاس کے دوران یہ موقع اختیار کیا کہ انہوں نے اس کا نوٹس لے لیا ہے اور مستقبل میں ایسانہیں ہوگا۔ تاہم اس حوالے سے جب وزارت خزانہ کو سوالات بھجوائے گئے تو کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
آئی ایم ایف کی ٹیم نے 14سے 18مارچ تک کا اپنا شیڈول اجلاس مین شیئر کیا ہے اور اس کے مطابق ان کی ٹکٹیں 19مارچ 2024 کی علی الصبح کےلیے بک ہیں۔
دوسرے جائزے اور اقتصادی و مالیاتی پالیسیوں کی یادداشت کے حوالے سے معاہدے کےلیے پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات شروع ہوچکے ہیں اوراس کے بعد ہی قرض کی تیسری قسط 1.1ارب ڈالر جاری ہوسکیں گے جسے منظوری کےلیے اپریل 2024کے دوسرے ہفتے میں فنڈ کے ایگزیکٹوبورڈ کے اجلاس میں پیش کیاجائےگا۔
فی الوقت کسی منی بجٹ کے امکان کو خارج از امکان قرار نہیں دیاجاسکتا کیونکہ آئی ایم ایف مختلف ٹیکسوں کی شرح بڑھانے کے حوالے سے اپنی تشخیص لے کر آسکتا ہے تاکہ فوری بنیادوں پر اضافی آمدن اکٹھی کی جاسکے لیکن یہ اسی وقت ہوگا جب ایف بی آر کو مارچ 2024 کےلیے اپنے 879ارب روپے کا ٹیکس ہدف جمع کرنے میں خسارے کا سامنا ہو۔ اجلاس میں آئی ایم ایف نے اپریل تاجون کی آخری سہ ماہی کے دوران ٹیکس ہدف 9415ارب روپے سالانہ اکٹھا کرنے کے ہدف کے حصول کے حوالے سے بھی دریافت کیا۔ آئی ایم ایف نے سادہ ٹیکس اسکیم برائے پرچون فروشی کےلیے ٹھیک ٹھیک ٹائم فریم کے حوالے سے بھی دریافت کیا اور یہ بھی پوچھا کہ موجودہ حکومتی بندوبست اسے نافذ کرنے کا سیاسی ارادہ رکھتا بھی ہے یا نہیں۔
آئی ایم ایف نے توانائی کے سیکٹر کے حوالے سے بھی اہم مذاکرات کیے اور ان سے پوچھا کہ وہ ایک ایسا منصوبہ لے کر آئیں جو گردشی قرضے میں مزید اضافے کو روکے۔
وزارت توانائی کے سرکردہ لوگوں نے کہا کہ وہ گیس پر سبسڈی ختم کررہے ہیں بالخصوص وہ جو کھاد کی فیکٹریوں کو سبسڈی دی جاتی ہے وہ ختم کی جارہی ہے اور اس کے بجائے کھاد کے تھیلوں کو سستا کیے جانے کے خواہاں ہیں تاکہ کسانوں پر بوجھ نہ پڑے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کیے گئے سرکاری اعلان کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے وفاقی وزیر برائے فنانس اینڈ ریونیو محمد جہانزیب سے ملاقات کی اور مشن پاکستان میں اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ کے دوسرے جائزے کےلیے ہے۔ وفاقی وزیر برائے خزانہ اور آمدن محمد جہانزیب نے مشن کو خوش آمدید کہا اور حکومت کے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آئی ایم ایف کے اصلاحاتی ایجنڈے پر کام کر نا چاہتی ہے۔ آئی ایم ایف مشن کے سربراہ مسٹر ناتھن پورٹر نے وزیر خزانہ کو ان کی تقرری پر مبارکباد دی ۔
اس موقع پر کلاں اقتصادیات (میکرو اکنامک) اشاریوں کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی اور مالیاتی استحکام کےلیے حکومتی کوششیں زیر غور آئیں۔ وفاقی وزیر برائے خزانہ و آمدن نے اپنی مسلسل حمایت پر آئی ایم ایف سے تشکر کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ دوسرے جائزے کےلیے اجلاس مثبت ہوں گے۔