• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

IMF کا کرپٹو کرنسیوں پر کیپٹل گینز ٹیکس لگانے اور رئیل اسٹیٹ کی فائلوں کے کاروبار کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا مطالبہ

اسلام آباد (مہتاب حیدر)آئی ایم ایف کیپٹل گینز ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے کا مطالبہ، کرپٹو کرنسیوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے، درج شدہ سیکیورٹیز کے سلیبس کے جائزہ کا بھی مطالبہ، کسی بھی مدت کے لیے اثاثے رکھنے کے بجائے تمام منافعوں پر ٹیکس کو یقینی بنایا جائے، فنڈ کی سفارشات۔

 تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف نے کرپٹو کرنسیوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کیپٹل گینز ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے کا مطالبہ کردیا۔

 اس نے رئیل اسٹیٹ کے ساتھ ساتھ درج شدہ سیکیورٹیز کے سلیبس کا بھی جائزہ لینے کے لیے کہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کسی بھی مدت کے لیے اثاثے رکھنے کے بجائے تمام منافعوں پر ٹیکس لگایا جائے۔ 

آئی ایم ایف نے ایف بی آر سے پراپرٹی ڈویلپرز کو پابند کرنے کے لیے بھی کہا ہے کہ وہ پراپرٹی ٹائٹلز کی تکمیل اور رجسٹریشن سے قبل تمام ٹرانسفرز کو ٹریک اور رپورٹ کریں۔ اگر کوئی پراپرٹی ڈویلپر اس کی تعمیل میں ناکام رہتا ہے تو کچھ جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔

 اس سفارش کے ذریعے آئی ایم ایف نے ایف بی آر سے کہا ہے کہ وہ ہاؤسنگ اسکیموں میں مختلف پلاٹوں کی فائلوں کی خرید و فروخت کے بڑھتے ہوئے کاروبار کو ٹیکس نیٹ میں لائے۔ آئی ایم ایف کی یہ سفارشات توسیعی فنڈ سہولت کے تحت آئندہ بیل آؤٹ پیکج کا حصہ بن سکتی ہیں اور ایف بی آر فنانس بل کے ذریعے اسے 2024-25کے اگلے بجٹ کا حصہ بنانے کا پابند ہو سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف کی تکنیکی معاونت کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کو رئیل اسٹیٹ میں مفادات کے تصرف سے پیدا ہونے والے تمسکات یا جائیداد کی فروخت سے حاصل شدہ منافع (کیپیٹل گین) پر ٹیکس کا اندازہ لگانے اور جمع کرنے میں چیلنجز کا سامنا ہے۔ 

جائیداد کی قانونی تکمیل تک رئیل اسٹیٹ میں منافع عام طور پر رجسٹرڈ نہیں ہوتا۔ اس طرح جائیداد کی قانونی تکمیل سے پہلے رئیل اسٹیٹ کے منافع کی ابتدائی خریدار سے اگلے کو منتقلی یا اس کے بعد رئیل اسٹیٹ کی کسی بھی منتقلی فی الحال ریکارڈ کے کسی بھی نظام میں قید نہیں ہے۔ 

نتیجتاً منافع کی اس طرح کی منتقلی کے ذریعے بیچنے والے کے ذریعہ حاصل کردہ منافع ایک نامکمل جائیداد ہے جس پر عام طور پر ٹیکس نہیں لگایا جاتا۔ آئی ایم ایف نے کیپٹل گین پر ٹیکس لگانے کو مضبوط بنانے کیلئے اقدامات تجویز کیے ہیں۔ 

ایک طریقہ یہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنا کر کیپٹل گین ٹیکس کے تابع اثاثوں کی اقسام کو وسیع کیا جائے کہ سرمایہ کاری کے اثاثوں کی نئی اقسام جیسے کرپٹو کرنسی کیپٹل گین ٹیکس کے دائرہ کار میں ہوں۔ آئی ایم ایف نے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 37(1) میں ’’ذاتی منقولہ جائیداد‘‘ کے معنی میں ترامیم لانے کی سفارش کی ہے تاکہ کسی بھی جائیداد پر مشتمل کیچ آل (ہر کام کیلئے موزوں بنایا ہوا یا ہر چیز پر حاوی) زمرہ شامل کیا جائے جو تجارت یا اثاثوں میں اسٹاک نہ ہونے کے بجائے سرمایہ کاری کے طور پر ہونے کے قابل ہو جو کہ انکم ٹیکس آرڈیننس (آئی ٹی او) کے مقصد کے لیے قدر میں کمی کرتا ہے یا قرضے کو بالاقساط اتارتا ہے۔ 

آئی ایم ایف نے ریئل اسٹیٹ اور لسٹڈ سیکیورٹیز پر ٹیکس سلیبس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اس طرح کے تمام منافعوں پر سرمایہ (محنت کے برخلاف) آمدنی کے لیے مناسب شرح پر ٹیکس لگایا جائے اور اس شق کو ختم کیا جائے کہ ایک بار ایک مخصوص مدت کے لیے بنیادی اثاثے رکھنے کے بعد کیپیٹل گین پر ٹیکس نہیں لگایا جاتا۔

اہم خبریں سے مزید