• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اقبال کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے اُن کے فکر و فن کی ایک جہت قدرے اختصاص کے ساتھ روشن نظر آتی ہے، اور وہ ہے اُن کی نعت گوئی۔ چوںکہ بیشتر ناقدینِ اقبال اس سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اُن کے افکار و خیالات کے دوسرے نکات کو موضوعِ گفتگو بناتے رہے ہیں، اس لیے اقبال کے شاعرانہ مقام و مرتبے کے تعین میں اس جہت پر عام طور سے توجہ ہی نہیں دی گئی۔ 

یہی سبب ہے کہ اگر کچھ ناقدین نے اس حوالے سے کلامِ اقبال پر نگاہ ڈالی اور جائزہ لیا تو ان میں بھی زیادہ تر لوگ وہ ہیں جنھوں نے اسے اُن کے عشقِ رسول ﷺکا حاصل گردانا اور عقیدتِ محض کے زمرے میں شمار کیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ اقبال کی شاعری میں راہ پانے اور بیان ہونے والے افکار و تصورات کو نعت کے فکری اور اسلوبیاتی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔

معدودے چند اہلِ نظر نے اقبال کے یہاں نعت کو صنفی سطح پر اور فنی خصوصیات کے ساتھ دیکھا ، اور اُس کے جمالیاتی پہلوؤں اور ادبی محاسن کے بارے میں اظہارِ خیال کیا ہے۔ ویسے اقبال کے بہت سے ناقدین جن میں بڑے بڑے ثقہ لوگ بھی شامل ہیں، کلامِ اقبال کی اس جہت کو درخورِ اعتنا ہی نہیں جانتے۔ یہی وجہ ہے کہ افکارِ اقبال کی تعبیر و تشریح کے باب میں مشرق و مغرب کے کتنے ہی فلسفیوں، تاریخ دانوں اور سماجی مفکرین کے حوالے قدم قدم پر ملتے ہیں، لیکن اگر نہیں ملتا تو اِس نکتے پر غور و خوض کا کوئی حوالہ نہیں ملتا کہ سخنِ اقبال میں راہ پانے والے افکار و تصورات اجزا کی صورت میں یہاں وہاں سے ماخوذ ہیں یا کوئی ایک منبع ہے جس کی کرنوں نے اقبال کے افکار و آثار کی عمارت کے ہر گوشے کو منور کیا ہے۔ 

حقیقت یہ ہے کہ اقبال نے اگر مختلف افراد کے تصورات و خیالات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنا ایک نظامِ افکار ترتیب دیا ہے تو بھی یہ اپنی جگہ ایک بڑی بات ہے، لیکن اگر یہ ساری روشنی ایک ہی مرکز سے حاصل کی گئی ہے جس سے اس کا پورا ایوانِ فکر جگمگا اٹھا ہے تو یہ اُس سے بھی کہیں بڑا اور اہم کام ہے۔ اس صورت میں اقبال کی جامع تفہیم کے لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس منبع و ماخذ کو دیکھا جائے اور یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ اقبال کے یہاں یہ تجلی کس طرح ظہور کرتی ہے۔

جیسا کہ عرض کیا، بالعموم فکرِ اقبال کا مطالعہ جن اساسی نکات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اُن میں نعت گوئی شامل ہی نہیں ہے۔ ظاہر ہے، اِس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ مطالعۂ اقبال کے لیے یہ قرینہ توجہ طلب محسوس نہیں کیا ہوگا، ورنہ اتنے بڑے اور اہم ناقدین و شارحینِ کلامِ اقبال اپنے موضوع کی اس جہت سے بھلا کیوں کر صرفِ نظر کرسکتے تھے۔ تاہم اس امر کا فیصلہ بہتر طور سے اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم براہِ راست شعرِ اقبال سے رجوع کریں اور دیکھیں کہ وہ اس باب میں کس نوع کی شہادتیں پیش کرتا ہے۔

ہماری یہ طالب علمانہ تفتیش کسی گہری چھان پھٹک اور بہت باریک بینی کا مطالبہ بھی نہیں کرتی۔ اقبال کے افکار و تصورات کی تشکیل و تعمیر میں جس جوہر نے بنیادی کردار ادا کیا ہے، وہ رسالت مآب ﷺکی سیرت و کردار ہے۔ اقبال نے فکر و احساس کی ہر سطح پر اس کا نہایت گہرا اثر قبول کیا ہے، چناں چہ اقبال کے فکر و فن کا مرکزی دھارا اسی اثر کی قوت سے متعین ہوتا ہے۔ تاہم غور طلب بات یہ ہے کہ اقبال کے فکری سانچے میں برقی رو کی طرح دوڑنے والے اس احساس نے ان کے یہاں مجرد تصور کے طور پر راہ نہیں پائی۔ اس کے برعکس یہ اُن کے یہاں ایک زندہ تجربے کی حیثیت رکھتا ہے۔ 

اقبال نے اس تجربے کو ایک طرف تو اس کی تاریخی، تہذیبی اور سماجی جہت سے دیکھا اور دوسری طرف ایک ایسے مابعد الطبیعیاتی تناظر میں جہاں کونیاتی امور ظہور کرتے ہیں اور کائناتی سطح پر تغیر و تبدل کا نقشہ ترتیب پاتا ہے۔ اقبال کے یہاں اس کا اظہار اُن کے اوّلین مجموعے ’’بانگِ درا‘‘ سے ہی سامنے آنے لگتا ہے۔ 

ویسے تو اِس مجموعے میں ہمیں کم و بیش اُن سارے افکار و تصورات کے نقوش مل جاتے ہیں جو بعد ازاں فکرِ اقبال کے نام سے موسوم ہوئے، لیکن یہ افکار و تصورات پہلے مجموعے میں محض ابتدائی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ تاہم قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس ابتدائی مرحلے میں بھی اقبال کے یہاں عشقِ رسول ﷺاور آپ ﷺکی سیرت و کردار کے اثر کا اظہار جس پختگی اور وارفتگی سے اور جس درجہ بلند فکری سطح پر ہوتا ہے، اس میں حقیقتِ محمدیہﷺ کا شعور بھی کارفرما ہے، اور یہ شعور اپنے کونیاتی مضمرات کے ساتھ نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر ’’جوابِ شکوہ‘‘ کا ایک شعرملاحظہ کیجئے:

قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کردے

دہر میں اسمِ محمد سے اُجالا کردے

غور کیجیے تو وہاں نعت کا ماحول ہے اور نہ ہی وہ فضا ملتی ہے جس میں آپ ﷺ کی سیرت کو موضوعِ گفتگو بنایا گیا ہو، بس ایک شعر آتا ہے، اور اس کے بعد موضوع یا سلسلۂ فکر و خیال یکسر بدل جاتا ہے۔ اب یہ ہوتا ہے کہ ہم آنحضرتﷺ سے ایک مسلمان کے حقیقی رشتے کی نوعیت اور اُس کے ذاتی و اجتماعی زندگی پر اثرات کا وہ منظرنامہ ابھرتا ہوا دیکھتے ہیں جو دراصل ایک یگانۂ روزگار تہذیب کے نقوش روشن کرتا چلا جاتا ہے۔ اقبال کے یہاں رسمی نعت کا کوئی قرینہ ہمیں نہیں ملتا، لیکن نظم کے مسلسل چار بند اسی موضوع سے تعلق رکھتے ہیں، اور پھر اس شعر پر یہ نظم پایۂ تکمیل کو پہنچتی ہے:

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا ، لوح و قلم تیرے ہیں

یہ شعر اپنے معنی کی وسعت اور گہرائی کا اظہار جس سیاق میں کرتا ہے، اس کو مابعد الطبیعیاتی رموز و علائم کے ذریعے ہی سمجھا جاسکتا ہے۔ یہاں ہمارے سمجھنے کا نکتہ یہ ہے کہ کم و بیش وہ سب اہم فکری عناصر جو کلامِ اقبال کی جداگانہ شناخت قائم کرتے ہیں اور ان کے خیالات و تصورات کی صورت گری کرتے ہیں، وہ اپنے بلیغ ترین بیانیے کے کسی نہ کسی مرحلے پر یا تو نعتِ رسولِ کریم ﷺکا کوئی پیرایہ اختیار کرلیتے ہیں یا پھر وہاں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ذکر یا نعت کا کوئی شعر آکر اس حقیقت کو واضح کردیتا ہے کہ فکرِ اقبال کا یہ منظرنامہ کس ماخذ سے رنگ و نور اخذ کررہا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ایسے دوسرے شعرا جو اپنا ایک فکری تناظر رکھتے ہیں، ان کے برخلاف اقبال کے یہاں مابعد الطبیعیاتی افکار کا دائرہ بھی نعتیہ اسلوب کی وجہ سے مجرد نہیں رہتا، محسوس بن جاتا ہے۔

عقل و عشق، خودی و خود آگاہی، حیات و مرگ، فنا و بقا، اجتہاد و انقلاب اور عروج و زوال سے لے کر اقبال کے عہد تک کے فکری، سیاسی، سماجی اور معاشی تصورات و نظریات جیسے مابعدالطبیعیات، سوشلزم، سیکولرزم اور جمہوریت تک آپ جس زاویے سے چاہے دیکھ لیجیے، اُن کی دانش و بینش کا تقریباً سارا نمایاں منظرنامہ اور اُن کے افکار و تصورات کا دائرہ جس سرچشمے سے روشنی حاصل کرتا ہوا نظر آتا ہے، وہ آپ ﷺکی ذاتِ گرامی ہے۔ 

لہٰذا مطالعے کے لیے فکر و شعور اور جذبہ و احساس کا جو رُخ بھی سامنے رکھا جائے، سخنِ اقبال پر اسی سرچشمے کی چھوٹ پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ اب اگر اس لحاظ سے غور کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ نعت گو شعرا میں اقبال کا مقام کس قدر بلند اور کتنا منفرد ہے۔

اقبال سے پہلے اردو کی شعری روایت دراصل غزل کی روایت ہے، اور یہ اتنی توانا اور ایسی مستحکم روایت ہے کہ اس نے ہند اسلامی تہذیب اور ثقافتی مظاہر کی صورت گری میں بھی ایک کردار ادا کیا ہے۔ تاہم اقبال کے یہاں دیکھا جاسکتا ہے کہ غزل کا قوام ہی بدل گیا ہے۔ ’’بالِ جبریل‘‘ کی غزلیں پڑھ کر غور کیجیے کہ وہ اپنے مزاج، رنگ، اسلوب، آہنگ، موضوعات اور کیفیات میں اردو غزل کی روایت سے کیا علاقہ رکھتی ہیں۔ اسی طرح ’’شکوہ‘‘، ’’جوابِ شکوہ‘‘، ’’مسجدِ قرطبہ‘‘، ’’ذوق و شوق‘‘ اور ’’ساقی نامہ‘‘ جیسی نظموں کو دیکھ کر فیصلہ کیجیے کہ ہماری شعری روایت کے تسلسل میں یہ نظمیں کس طرح دیکھی جاسکتی ہیں۔ 

بعینہٖ معاملہ اقبال کی نعت کا بھی ہے۔ یہ اردو نعت کی عوامی روایت سے کوئی علاقہ نہیں رکھتی۔ یہ اس روایت کا حصہ ہے جو مابعد الطبیعیاتی اور فکری تصورات کو معرضِ بیاں میں لاتی ہے۔ تاہم اپنے موضوعات، یعنی فکری content اور اپنے اسلوب و آہنگ، یعنی جمالیاتی اظہار میں مکمل طور سے اپنی انفرادیت کا ثبوت دیتی ہے۔ شعرِ اقبال کا یہ دریچہ جس سمت میں کھلتا ہے، اس کا منظرنامہ تمام تر اقبال ہی سے موسوم ہے۔ وضاحت کے لیے محض چند اشعار ملاحظہ کریں:

لوح بھی تو قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب

گنبدِ آبگینہ رنگ ، تیرے محیط میں حباب

عالمِ آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ

ذرّۂ ریگ کو دیا تو نے طلوعِ آفتاب

شوکتِ سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود

فقرِ جنید و بایزید تیرا جمال بے نقاب

شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام

میرا قیام بھی حجاب میرا سجود بھی حجاب

تیری نگاہِ ناز سے دونوں مراد پاگئے

عقل غیاب و جستجو ، عشق حضور و اضطراب