• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پروفیسر خالد اقبال جیلانی

رمضان کے اس آخری عشرے میں ہم بہ حیثیت ِامت جشنِ نزول قرآن منارہے ہیں، مساجد میں ختم قرآن کی تیاریاں جاری ہیں، ہم سب اِن تیاریوں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لے رہے ہیں، خوشیاں منائی جارہی ہیں۔ یہ تیاریاں،یہ خوشیاں، یہ جشن آخِر کس لئے؟ اِسی لئے کہ اب سے تقریباً ڈیڑھ ہزار سال پہلے رمضان کے آخری عشرے کی ایک رات جسے ہم’’ شبِ قدر ‘‘یعنی قدر و منزلت، عظمت و برکت، رحمت و مغفرت والی ’’رات‘‘کہتے ہیں، میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول، سرورِ عالم حضرت محمد ﷺ پر آسمان سے انسانوں کے لئے اپنی آخری کتاب ہدایتِ قرآن کریم کو نازل کیا اور اِس کے بعد زمین پر انسانوں کے لئے الہامی ہدایت و رہنمائی کا باب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کردیا گیا۔

ذراسوچئے! جشن نزولِ قرآن مناتے ہوئے ہم نے کبھی اِس بات پر بھی غور کیا کہ تاریخ عالم کا یہ عظیم الشان، دنیا کو سب سے زیادہ متاثر کرنے اور انسانیت پر انمٹ نقوش چھوڑنے والا واقعہ آخر کیوںوقوع پذیر ہو ا ؟ آخر ی یہ کتابِ ہدایت، رہتی دنیا تک باقی رہنے والا یہ قانونِ خداوندی تاریخِ انسانی اور دنیا کے سب سے عظیم و بر تر انسان پر آخر کس لئے نازل ہوا؟

ہم نے کبھی سوچا کہ کیا قرآن صرف بے سوچے سمجھے پڑھ کر ثواب حاصل کرنے اور نیکیوں کے ذخیرہ کرنے کے لئے نازل کیا گیا تھا؟ کیا قرآن صرف قسمیں کھانے اور جھوٹے حلف اٹھانے کے لئے، تعویز بنا کر گلے میں ڈالنے اور دھو دھو کر پینے کے لئے نازل ہوا تھا؟ کیا قرآن کا نزول صرف قریب المرگ لوگوں کو یٰسین سنا سنا کر اُن سے جلد از جلد جان چھڑانے کے لئے ہوا تھا؟ یا پھر اِسے جزدان کی زنجیروں میں جکڑ کر بلند و بالا طاقوں میں قید کرنے کے لئے نازل کیا گیا تھا؟ نہیں !خالقِ کائنات کا قرآن کو نازل کرنے کا مقصد تمام لا یعنی باتوں اور جزوی کاموں سے بالاتر اور ارفع و اعلیٰ ہے۔ 

اِسی مقصد کے لئے کائنات تخلیق کی گئی، اِسی مقصد کی خاطر انسان کو پیدا کیا گیا اور اسے اشرف المخلوقات کی خلعت پہناکر خلافتِ الہٰیہ کی دستار فضلیت سے سر فراز و مشرف کیا گیا، اِسی مقصد کے حصول کے لئے انبیائے کرام علیہم السلام کو دنیا میں بھیجا گیا اور اِسی مقصد کی تکمیل کے لئے فخر انسانیت امام الانبیاءﷺ کو آخری نبی اور رسول بنا کر مبعوث کیا گیا۔ اگر ہم نزول قرآن سے قبل کی دنیا کا جائزہ لیں تو نقشہ کچھ یوں اُبھرتا اور تصویر کچھ ایسی نظر آتی ہے کہ نزول قرآن کے وقت دنیا میں ہر طرف گمراہی، ظلم، جہالت، شرک و بت پرستی وحشت و بربریت کی تاریکی اور غلامی و انسانی محکومی کا گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ 

انسان اِس ظلمت اور تاریکی میں بھٹک رہا تھا کہ اسے اِس تاریکی میں’’ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا‘‘ کے مصداق اس ظلمت و جہالت سے نجات کی کوئی راہ نظر نہ آتی تھی، ہدایت و فلاح کی کوئی تدبیر سجھائی نہ دیتی تھی،اِس ماحول میں رمضان کے مبارک مہینے کی ایک رات میں( رات کاوقت اِس لئے کہ ساری دنیا جہالت کی تاریکیوں میں لپٹی ہوئی تھی) طلوع سحر کی منتظر یہ رات تاریخِ عالم میں عدیم النظیر اور فقید المثال تھی۔ 

یہ حِدّ فاصل تھی دنیائے قدیم اور جہان نو میں اس رات ضمیر کائنات نے ایک نئی کروٹ لی جس سے زندگی جو اپنے مقام سے بے خبر چلی آرہی تھی ،خود نگر و خوشناس ہو گئی۔ تمام نظام ہائے کہن جو غیر فطر ی بنیادوں پر استوار تھے، باطل قرار پائے اور دنیا کو ایک نیاآئین حیات عطا ہوا۔ جس میں تکمیل شرفِ انسانیت کی تمام راہیں واضح طور پر سامنے آگئیں۔ انسان کو حق و باطل کی تمیز کے صحیح پیمانے عطا ہوئے، اس لئے اِس رات کو ’’لیلۃ القدر‘‘ یعنی جدید پیمانوں کی رات کہہ کر پکارا گیا۔ 

جس میں حق و باطل نکھر کر الگ الگ ہو گئے۔ ظلمت چھٹ گئی اور نور پھیل گیا اور انسانیت کو قرآن کی شکل میں قیامت تک کی زندگی کے لئے دستورِ حیات ہاتھ آگیا۔ یہ تھا وہ ماحول جس میں قرآن کا نزول ہوا، یہ ماحول خود بتا رہا ہے کہ قرآن کے نازل کرنے سے مقصد کیا تھا ،یہ ماحول فطرت سے اس بات کا تقاضا کررہا تھا کہ انسانیت جاں بہ لب ہے ،کمزورو مظلوم انسانوں کو اپنے ہی جیسے انسانوں نے اپنا غلام اور محکوم بنایا ہوا ہے۔ 

انسانیت چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ کوئی ہے جو انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلائے؟ انسانوں کے خالق و مالک نے انسانیت کی یہ پکار اور فریاد سن لی اور ایک ایسا قانون و آئین اوردستورِ حیات نازل کر دیا کہ جو انسانیت کو ظلم، جہالت، بت پرستی، غلامی اور انسانی محکومی کی ظلمت اور اندھیروں سے نکال کر نور اور آزادی کی روشنی میں لے آیا۔ 

یہ اعلان عام کردیا گیا کہ اِس قرآن کے نازل ہونے کے بعد کسی انسان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے ہی جیسے انسانوں کو اپنا غلام بنائے اور ان پر حکومت کرے، کسی انسان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسرے انسانوں کے لئے قانون سازی کرے اور اُن سے اس قانون کی اطاعت کرائے اور انسانوں کے معاملاتِ روز و شب کے فیصلے انسانی ذہن کے وضع کردہ قانون کے مطابق کرے۔ نزولِ قرآن کے بعد انسانوں کے خالق و مالک اللہ نے یہ واشگاف اعلان اورا ٹل فیصلہ فرمادیا کہ ’’جو لوگ اپنی زندگیوں کے معاملات کے فیصلے اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق نہیں کرتے وہی لوگ تو کافر ہیں‘‘۔(سورۂ مائدہ)

پھر صرف اتنا ہی نہیں کہ غیر خداوندی قانون کے مطابق فیصلے کرنے والے لوگ کافر ہیں ،بلکہ ’’یہی لوگ ظالم بھی ہیں‘‘(سورۂ مائدہ) اور ایسے ہی لوگ در حقیقت ’’ فاسق بھی ہیں‘‘ (سورۂ مائدہ) معلوم ہوا کہ جو لوگ کتابِ خداوندی کے مطابق اپنے معاملات ِزندگی نہیں نمٹاتے، اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کے قضیوں کو قرآن کے مطابق حل نہیں کرتے ،انہی کو کافر، فاسق اور ظالم کہا جاتا ہے۔ جو کفر کی ظلمتوں میں بھٹکتے رہتے ہیں، جو غیر خداوندی قانون کے فیصلوں کے باعث فسق اور ظلم کی تاریکیوں سے باہر نہیں آپاتے۔ 

حالانکہ یہ قرآن تو بنی نوع انسان کے نجات دہندہ اور محسن انسانیت ﷺ پر نازل ہی اس لئے کیا گیا تھاکہ’’(اے نبی ﷺ) یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ،تاکہ تم بنی نوع انسان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آؤ‘‘۔ (سورۂ ابراہیم: ۱)

اِسی لئے فرمایا گیا کہ ’’ہم نے اِس (قرآن) کو شبِ قدر میں نازل کیا ہے اور تم کیا جانو کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے‘‘۔فرشتے اور روح الامین اِس میں اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لےکر اترتے ہیں۔ وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوعِ فجر تک‘‘۔یعنی اللہ نے اِس قرآن کو اس وقت جبکہ ساری دنیا آسمانی ہدایت اور نور سے محروم ہو کر تاریک ہو چکی تھی، نئی اقدار اور نئے پیمانے دے کر نازل کیا ،جس رات اس کے نزول کا آغازہوا، وہ رات ایک جہان نو کے نمودار ہونے کی رات تھی۔

اس کتابِ ہدایت کے نازل کرنے والے اللہ اور اِس ’’ مہبطِ وحی ﷺ‘‘ کے علاوہ اور کون ہے جو یہ جان سکتا اور بتا سکتا ہے ،یہ قدرو منزلت اور نئے پیمانوں کی رات ، جس میں اس کتاب کا نزول ہوا، کس قدر باعظمت رات تھی، حقیقت یہ ہے کہ وہ ’’ ایک رات‘‘ اُس زمانے کے ہزار ہا مہینوں سے بہتر اور افضل ہے جس میں دنیا وحی کی روشنی اور آسمانی ہدایت سے یکسر محروم تھی۔ اولین بار نزولِ قرآن کی وہ رات درحقیقت نقیب اور طائرِ پیش رس تھی، اُس دور کی جو نزولِ قرآن کے بعد آنے والا تھا ۔ 

سچی بات یہ ہے کہ دنیا نے اُس رات کی عظمت کو پہچاناہی نہیں۔ اس لئے وہ ابھی تک تاریکیوں کے جہنم میں ڈوبی ہوئی ہے اور ہزار ہاتھ پاؤں مارنے کے باوجود زندگی کے صحیح راستے پر گامزن نہیں ہو سکی۔ جس دن یہ حقیقت اس کی سمجھ میں آگئی کہ کائنات کی شب دیجور کی تارکیاں اِس مہر عالمتاب کی ضوفشانیوں سے ہی دور ہوسکتی ہیں جو اُس لیلۃ القدر کی صبح نمودار ہوا تھا، منزل انسانیت کی سیدھی راہ (صراط مستقیم) اس کے سامنے آجائے گی۔ راستہ اب بھی موجود ہے اور وہ مہر عالمتاب اپنی پوری تابندگی سے نور افشاں بھی، صرف اتنی کمی ہے انسان نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں ،جس کی وجہ سے وہ اس روشنی سے محروم ہے ،جس دن اس نے اپنی آنکھیں کھول لیں، اس دن سیدھا راستہ اِس کے سامنے آجائے گا اور مقصد و غا یتِ نزول قرآن بھی سمجھ میں آجائے گی۔