اتنی گنجائش کہاں باقی کہ ہم
اپنے ماہانہ مصارف کم کریں
اب ذرا سرکار از راہ کرم
اپنے شاہانہ مصارف کم کریں
ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا کی بحری ناکہ بندی آج رات سے ختم ہوگی، معاہدے کا متن دستخط کے بعد جاری ہوگا۔
اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی بندرگاہوں کی امریکا کی بحری ناکہ بندی ہٹادی گئی ہے۔
اپنے بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ امن معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔
امریکی اخبار کے مطابق اس حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد باضابطہ بیان جاری کریں گے۔
بلوچستان کے ضلع ژوب میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے، زلزلے کی شدت 4.3 ریکارڈ کی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ لاشیں مکمل طور پر جھلس جانے کے باعث ہلاک ہونے والوں کی شناخت نہیں ہوسکی۔
چکوال میں سی سی ڈی اہلکار کی مبینہ فائرنگ سے 9 سال کی بچی ہلاکت کے واقعے کے بعد تفتیشی ٹیم نے بچی کے زخمی والد کا بیان بھی قلمبند کرلیا۔
ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ اتوار کی صبح اسرائیل کی جانب سے لبنان پر کی گئی بمباری امریکا سے تجویز کردہ مفاہمت کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور ایرانی عوام اور حکومت اس پر انتہائی مشتعل ہے
ایف آئی ایچ ہاکی پرو لیگ میں پاکستان کی ناکامیوں کا سلسلہ تھم نہ سکا، اسپین کے خلاف پاکستان کو پانچ ۔ ایک سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، یہ پرو لیگ میں پاکستان ہاکی ٹیم کی مسلسل دسویں شکست ہے۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کو ملتوی کیا جانا غیر آئینی ہوگا۔
ترجمان الیکشن کمیشن آزاد جموں وکشمیر کے مطابق آزاد کشمیر میں عام انتخابات27 جولائی کو شیڈول کے مطابق ہوں گے۔
چیئرمین متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان خالد مقبول صدیقی نے استفسار کیا ہے کہ ایم کیو ایم سے پہلے کیا کراچی میں امن تھا؟
نیٹ (این ای ای ٹی) پیپر لیک (بھارت کے میڈیکل اور ڈینٹل کورسز میں داخلے کے لیے ہونے والے ٹیسٹ میں گڑ بڑ اور پیپر لیک ہونے) پر ہونے والے ہنگامہ میں سائوتھ اور ہندی فلموں کے مشہور اداکار پرکاش راج بنگلور میں نوجوانوں کے احتجاج میں شامل ہوئے اور انھوں نے مودی حکومت پر کڑی تنقید کی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما عامر ڈوگر نے کہا ہے کہ بانی چیئرمین ہوتے تو اسرائیل اور امریکا کو ایران پر حملے کی ہمت ہی نہ ہوتی ۔
کیا ایم کیو ایم پاکستان میں اختلافات بڑھنے لگے ہیں؟ دو سینئر رہنما آمنے سامنے آگئے۔
فلسطینی حمایت یافتہ ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے اسرائیل سے متعلق ہتھیاروں کے کارخانے میں گھس کر دہشت گردی پھیلانے کی کوشش کی، جج نے فلسطین ایکشن کے ملزمان کیخلاف اپنا فیصلہ سنا دیا۔