ماہرین فلکیات نے ایک ایسے آسمانی جسم کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے جو ممکنہ طور پر نظامِ شمسی سے باہر دریافت ہونے والا پہلا ایگزو مون (Exomoon) ہو سکتا ہے، تاہم اس دریافت نے جوابات سے زیادہ نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایگزو مون ایسے قدرتی چاند کو کہا جاتا ہے جو ہمارے نظامِ شمسی سے باہر کسی سیارے یا دوسرے فلکی جسم کے گرد گردش کرتا ہو۔
ایگزو مون دراصل ایکسٹرا سولر مون (Extrasolar Moon) کا مختصر نام ہے، یعنی ایسا چاند جو نظامِ شمسی سے باہر موجود ہو۔
اس نئی دریافت کو روایتی ایگزو مون قرار دینا آسان نہیں، کیونکہ یہ جسم کسی سیارے کے بجائے براؤن ڈوارف (Brown Dwarf) کے گرد گردش کر رہا ہے۔
براؤن ڈوارف ایسا فلکی جسم ہوتا ہے جو سیارے سے زیادہ بڑا مگر ستارہ بننے کے لیے درکار جوہری فیوژن شروع کرنے کے لیے بہت چھوٹا ہوتا ہے، اسی لیے اسے بعض اوقات ناکام ستارہ بھی کہا جاتا ہے۔
ماہرین نے اس ممکنہ چاند کی موجودگی کا سراغ ریڈیل ویلاسٹی (Radial Velocity) طریقۂ کار سے لگایا ہے، جس میں کسی فلکی جسم کی معمولی لرزش کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔
یہی طریقہ 1995ء میں نظامِ شمسی سے باہر پہلے سیارے کی دریافت میں بھی استعمال کیا گیا تھا۔
تحقیق کے مطابق یہ ممکنہ ایگزو چاند تقریباً مشتری (Jupiter) کے 0.9 گنا کمیت رکھتا ہے اور اپنے مدار کا ایک چکر 170 دن میں مکمل کرتا ہے۔
تحقیق کی شریک مصنفہ ایلس زورلو کا کہنا ہے کہ ہمارے نظامِ شمسی میں سیاروں اور سورج کے درمیان فرق واضح ہونے کی وجہ سے چاند جیسے اجسام کی درجہ بندی آسان ہے، لیکن CD-35 2722 جیسے نظام میں جہاں ستاروں، سیاروں اور چاندوں کے درمیان حدیں دھندلا رہی ہیں، ان اجسام کی درجہ بندی زیادہ پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
اب تک نظامِ شمسی سے باہر 6 ہزار سے زائد سیاروں کی تصدیق ہو چکی ہے، لیکن کسی ایگزو مون کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت اگرچہ روایتی معنوں میں ایگزو مون نہیں، لیکن یہ فلکیاتی تعریفوں کو چیلنج کرتی ہے اور کائنات کے بارے میں ہماری سمجھ میں ایک نئی جہت کا اضافہ کر سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایکسٹریملی لارج ٹیلی اسکوپ (Extremely Large Telescope)، جو 2030ء تک فعال ہونے کی توقع ہے، اس دریافت کی تصدیق اور مستقبل میں ایسی مزید دریافتوں میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
