وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے برطانیہ کے حالیہ فسادات اور 9 مئی سے متعلقہ اعداد و شمار شیئر کردیے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ برطانیہ میں حالیہ فسادات نے کئی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی اور بلا تاخیر انصاف اور عدالتی نظام کی حکومت کے ساتھ معاونت نے اس امر کو یقینی بنایا کے ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے قانون کی گرفت سے بچ نہ سکیں۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ کُل گرفتاریاں 1000 سے زائد ہوئیں، ابھی تک 500 سے زائد افراد پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے، گرفتار شدہ افراد کی اوسط عمر تقریباً 30سال ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک قید کی سزائیں 125 کے لگ بھگ ہیں، آن لائن جرائم کے مرتکب تقریباً 3 درجن افراد ہیں۔
وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ اس کے برعکس وطن عزیز میں 9 مئی کو سازش کے تحت مسلح بغاوت برپا کی گئی، مختلف شہروں میں دفاعی تنصیبات پر حملے ہوئے، ملک کی اساس پر وار کیا گیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اتنا بڑاسانحہ اور سزا اور جزا کا عمل 16 ماہ سے مفلوج ہے، قانون یرغمال ہے، عمل داری ذاتی خواہشات کی ہے، آئین اور قانون بے توقیر ہے، ریاست اب محترم نہیں۔