• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا کریں؟ عاشقی صبر طلب ہے اور تمنا بےتاب، اوپر سے ’آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک‘...بات ایک عمر ہی تک ہو، تو عاشقی، صبر اور طلب کو تھوڑی دیر کیلئے سمجھا بھی لیں۔ لیکن سیانوں کا یہ بھی بیانیہ ہے کہ : کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک؟

خیر، اڑتی ہوئی ملی تھی خبر بزمِ ناز سے کہ پیپلز پارٹی کو دستوری تعمیر اور ترامیم میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کا ’’اسائنمنٹ‘‘ ملا تھا اور مسلم لیگ نواز کے نام قرعہ یہ "نکالا" گیا تھا کہ ڈویلپمنٹ کے کام ہوں۔ جو کبھی چیئرمین سینٹ کی سیٹ گیلانی صاحب کو مل کر بھی نہ مل سکی اب ان کے مقدر کا حصہ بنی تو زرداری تدبر سے! پنجاب اور کے پی کے کی گورنری پیپلز پارٹی کا مقدر بنی، آخر زرداری صدر بنے۔ کچھ بھی کہئے یہ جمہوریت، پیپلز پارٹی اور ریاست کی خوش قسمتی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا گورنریاں ملنا بھی پیپلز پارٹی کی سیاسی خوش قسمتی ٹھہری یا محض سردار سلیم حیدر خان اور فیصل کریم کنڈی کی خوش قسمتی؟ گورنری "علامتی" سہی گورنر ہاؤس تو ہے پھر گورنر پنجاب کا چانسلر کے طور سے پرسونا ڈیزِگنیٹا مسلمہ حقیقت ہے لیکن کے پی کے میں: پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں / اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی!

پیپلزپارٹی کی سیاسی راگ راگنی کی بہت سی باتیں مچل کر لب پر آنے کیلئے بےتاب ہیں تاہم یہاں اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ پنجاب اور کے پی کے کے قحط الرجال کا بوجھ تاحال آصف زرداری کے کندھوں اور مضبوط اعصاب پر ہے۔ جب تک ان صوبوں کی بچی کھچی قیادت یہ من و عن تسلیم نہیں کرلیتی کہ آصف زرداری باکمال سیاست دان اور لازم ملزوم ہونے کے علاوہ بے نظیر بھٹو کا بہترین نعم البدل ہیں تب تک وہ اپنے لئے اور پیپلزپارٹی کیلئے کچھ بڑا نہیں کر سکتے۔ ابھی ہیں جو درون خانہ یہ کہتے ہیں کہ "بی بی ہوتیں تو یہ ہوتا، وہ ہوتا!" بلاشبہ بی بی کا اپنا مقام و مرتبہ تھا، اور ہے۔ لیکن آصف زرداری نے جس محنت اور حکمت سےپارٹی کو بچایا اور چلایا کسی اور سے یہ ہر گز نہ ہوتا۔ مانا کہ صدر زرداری کے کچھ سیاسی مہروں اور چالوں کو سمجھنے کیلئے پی ایچ ڈی کی ضرورت ہے لیکن خود آصف زرداری کو سمجھنے کیلئے کسی ڈگری کی نہیں فقط سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے کہ وہ سیدھے سیدھے تیل اور تیل کی دھار دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے ایک تو وہ پیپلز پارٹی میں وَن مین آرمی ہیں، دوسری بات یہ کہ بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری اردو پرنٹ میڈیا سے کوسوں دور ہیں گر الیکٹرانک میڈیا سے آشنا ہیں بھی تو بہت سطحی، بلاول بھٹو جوئے شیر لانے کیلئے ان تھک محنت کرتے بھی ہیں تو ان کی میڈیا ٹیم اور میڈیا تک رسائی اس حد تک محدود ہے کہ محض وہ لوگ ان کے قریب ہیں یا وہ لوگ قریب لائے جاتے ہیں جو سامنے مدح سرائی اور پیچھے ہرزہ سرائی کرتے ہیں۔ اور یہ بات چھوٹی نہیں ہے۔ ویسے تو وہ حضرت بھی بہت ہیں جو زرداری صاحب کے سامنے زرداریات کا دم بھرتے ہیں اور غیر موجودگی میں سب کے کان بھرتے ہیں، اور پیپلزپارٹی کیلئے کچھ نہیں کرتے بس اسٹیٹس کو کی تقویت ہیں! بہرحال ہم داد دیتے ہیں مٹھی بھر پنجاب کے ان کارکنان کو جو پیپلزپارٹی کا انمول اثاثہ ہیں۔ بھلا ہو عارف خان کا کہ وہ محبت اور ضد کے امتزاج میں گورنر پنجاب تک لے کر گئے ورنہ فقیر کہاں قلندری سے باہر نکل کر احاطہ سکندری کی مٹی کو سُرمہ یا سرمایہ سمجھنے کے قابل ہے۔ یہ وہ عارف خان ہیں جو کل بھی زرداری رہائی کمیٹی کے چیئرمین تھے اور آج بھی ہیں ! ایسے لوگ ہر پارٹی کا اثاثہ ہیں!

حسنِ اتفاق ہے کہ جنرل (ر) خالد مقبول، ذوالفقار کھوسہ اور رفیق رجوانہ سے گورنر بلیغ الرحمٰن تک رسائی رہی، خالد مقبول اور بلیغ الرحمٰن کو علم کے حقیقی دوست پائے رسمی نہیں! بلیغ الرحمٰن وفاقی وزیر مملکت سے وفاقی وزیر اور پھر چانسلری تک راقم کی رہنمائی فرماتے۔جب فارغ ہوئے تو ہم اداس ہو گئے، پھر اس غم کے غلط کرنے کو۔ بعد از الوداعی احباب کو بلا کر ان کے اعزاز اور اعتراف میں وہ پارٹی رکھی جو لوگ آمد پر فائدےکیلئے رکھتے ہیں۔ سیدھی بات ہے خالد مقبول اور بلیغ الرحمٰن یاد آتے ہیں اور سردار سلیم حیدر کیلئے ہم دعا گو ہیں کہ تعلیمی معاملات کیلئے بطور چانسلر کوئی تعلیمی ٹیم دریافت کر لیں! گورنر ہاؤس میں سیاسی دریافتیں تو ہو ہی جایا کرتی ہیں۔ ان کی خدمت میں ہم نے یونیورسٹیوں کیلئے آفس آف دی ریسرچ، اِنوویشن اینڈ کمرشلائزیشن اور کوالٹی انہانسمنٹ سیل کنسپٹ پیپرز اور اس پر اچھا کام کرنے والوں کی فہرست پیش کر چکے ہیں مگر....! سیاست میں اچانک پیپلزپارٹی، تعلیم، اور ذکر گورنر کے ساتھ تذکرۂ سردار اس لئے آگیا کہ ہم پیپلز پارٹی کو جمہوری و سیاسی اکیڈمی سمجھتے ہیں، اور ریاست کی حدود کو اُس مستطیل میں رکھتے ہیں جس کے سیاسیات، تعلیمات، معاشیات اور علم سفارت کاری چار زاوئیے ہیں۔ اللہ کرے گورنر پنجاب اسے سمجھیں گر وہ "زاویۂ زرداری" پر غور کر چکے؟ ویسے ان کی نذر یہ درخواست بھی کرنی تھی کہ خواتین یونیورسٹیوں کی ضرورت ہی نہیں ہے یونیورسٹی، یونیورسٹی ہوتی ہے۔ اور یونیورسٹی محض تدریس نہیں حقیقتاً تحقیق کا نام ہے، اور بات ایکٹ کی ہے کسی کی خواہش کی نہیں۔ تحقیق ہو تو ہراسمنٹ کا معاملہ ہی نہ ہو اور نہ مردوں کو نکالنے کا مسئلہ۔ کبھی جنرل یونیورسٹیوں سے مردوں کو یا خواتین کو نکالنے کا سوال پیدا ہوا؟ یہ ناکام اور کنفیوژڈ لوگوں کا دماغی خلل ہے کہ یونیورسٹی یہ اور یونیورسٹی وہ! پس پیپلزپارٹی کے دونوں گورنرز سے استدعا کہ پیپلز پارٹی بھی ایک جمہوری و سیاسی یونیورسٹی ہے اس کی سربراہی سے آپ کی دلی ہنوز دور است۔ قبلہ سب زرداری صاحب کو پنجاب اور کے پی کے میں فالو کیجئے اکیلا نہ چھوڑیئے، کچھ تو آپ بھی کیجئے، کم از کم اپنے حصے کا کام! زرداری صاحب تن تنہا یہاں تک تو لے آئے ہیں، آگے کہیں جینا محال نہ ہو جائے اور زلف کا سر ہونا بدحال!

تازہ ترین