یاسر عرفات اور اُن کی تنظیمِ آزادیٔ فلسطین(پی ایل او) ایک موٹی، جامع کتاب کا موضوع ہیں کہ انہیں محض ایک مضمون میں نمٹانا بہت مشکل ہے۔سوالات کی ایک قطار ہے، جن کے درست جواب بڑی تحقیق، جستجو اور تجزیے کا تقاضا کرتے ہیں۔ کیا یاسر عرفات ایک سچّے اور مخلص مسلمان تھے یا کہ سیکولر۔ وہ’’فریڈم فائٹر‘‘ تھے یا’’ٹیررسٹ۔‘‘
اُنھوں نے مزاحمت چھوڑ کر مداہنت اور مفاہمت کا راستہ کیوں اختیار کیا؟شادی کے سوال پر ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ میری شادی فلسطین کی آزادی کے نصب العین سے ہو چُکی ہے، لیکن عُمر کے آخری حصّے میں ایک عیسائی لڑکی سے شادی کر لی۔ وہ بندوق کے دھنی تھے یا مذاکرات کے ماہر ایک مدبّر سیاست دان۔
اُنہوں نے ساری زندگی ایسی آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کا خواب دیکھا، جس کا دارالحکومت یروشلم ہو، لیکن اوسلو معاہدے کے تحت ’’فلسطینی اتھارٹی‘‘ کے نام سے ایک ایسے ٹکڑے کو’’خود مختار‘‘ ریاست کے طور پر کیوں قبول کر لیا؟پھر یاسر عرفات کی موت کے بارے میں بھی کئی جواب طلب سوالات ہیں کہ وہ طبعی موت مرے یا اُنہیں زہر دے کر قتل کیا گیا؟
اُنھیں زندگی بَھر اسرائیل کی بجائے کچھ عرب حُکم رانوں اور تنظیمِ آزادیٔ فلسطین کے کچھ انتہا پسند گروپس سے خطرہ کیوں رہا؟ اسرائیل نے براہِ راست اُن کی جان لینے کی کبھی کوئی کوشش کیوں نہ کی؟مصر کے صدر انور سادات نے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کیا اور یاسر عرفات نے اوسلو معاہدہ۔ کیا دونوں کا loss&gainبرابر تھا یا یاسر عرفات کا lossزیادہ اوgainکم تھا۔
ابو عمّار، محمد عبدالرّؤف عرفات القدوۃ الحسینی، غزہ کے ایک ممتاز فلسطینی تاجر کے صاحب زادے تھے۔اُن کے والد کپڑے کی تجارت کرتے تھے اور اُن کے کچھ آبائی رشتے مصر سے بھی تھے کہ عرفات کی دادی مصری تھیں۔انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا نے اُن کے بارے میں جو تفصیلات دی ہیں، اُن کے مطابق یاسر عرفات کی جائے پیدائش مصر اور تاریخِ پیدائش 24اگست 1929ء بتائی گئی ہے، تاہم اس پر اُن کے سوانح نگاروں میں حتمی اتفاق نہیں ہے۔بعض ذرائع نے اُن کی جائے پیدائش یروشلم اور بعض نے غزہ بھی بتائی ہے۔اُن کی والدہ فلسطین کے ایک قدیم، معزّز خاندان سے تھیں۔
حضرت حُسین ابنِ علی رضی اللہ عنہما سے نسبت رکھنے والے الحسینی خانوادے میں یاسر عرفات کی پیدائش سے پہلے، فلسطین پر برطانیہ کے قبضے اور پھر لیگ آف نیشنز کی طرف سے اس قبضے کو انتداب کا نام دے کر جواز کے وقت سے، ایک بطلِ عظیم مفتیٔ اعظم فلسطین، امین الحسینی فلسطینیوں کے حقوق اور سرزمینِ فلسطین کو صیہونی تسلّط سے بچانے کی جدوجہد کر رہے تھے۔
1929 ء میں فلسطینی عربوں اور قابض یہودیوں میں جو خون ریز تصادم ہوا تھا اور پھر1937ء میں برطانوی انتداب کے خلاف بغاوت کی زبردست لہر اُٹھی، اِس دَوران مفتی امین الحسینی اپنی قوم کی قیادت کر رہے تھے۔1948 ء میں پہلی عرب، اسرائیل جنگ میں بھی وہ مجاہدانہ کردار ادا کر رہے تھے۔الحاج امین الحسینی کے والد اور دادا بھی فلسطین کے مفتیٔ اعظم کے منصب پر فائز رہے تھے۔ سلطان عبدالحمید ثانی کے عہد میں اس خاندان کو بڑی توقیر ملی۔
دوسرے حُسینی، یعنی یاسر عرفات طالبِ علمی کے زمانے میں مصر میں حسن البنّا شہید کی برپا کردہ تحریک‘’اِخوان المُسلمین‘‘ سے بھی وابستہ رہے۔جب مصری ڈکٹیٹر، جمال عبدالناصر نے اخوان کے خلاف ظالمانہ کریک ڈاؤن شروع کیا، تو یاسر عرفات بھی اس سے وابستگی کی وجہ سے پکڑے گئے اور کچھ عرصہ جیل میں رہے۔
اُنہوں نے قاہرہ یونی ورسٹی سے انجنیئرنگ کی ڈگری لینے کے بعد کچھ عرصہ کویت میں کام کیا اور اپنی ایک تعمیراتی کمپنی بھی بنائی۔ اُنہوں نے پہلی عرب، اسرائیل جنگ میں بحیثیت ایک رضا کار حصّہ لیا۔1956ء میں نہرِ سویز کے بحران پر مصر کی برطانیہ اور فرانس سے لڑائی میں بھی مصری فوج کے ہم راہ لڑتے رہے۔
فلسطین پر جب صیہونی قبضہ مکمل ہو گیا اور اسے ایک صیہونی ریاست کی حیثیت سے مغربی دنیا نے تسلیم کر لیا اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ کی بجائے امریکا نے اس کی سرپرستی شروع کر دی، تو یاسر عرفات نے آزادیٔ فلسطین کے لیے کوئی عملی قدم اُٹھانے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا۔
فرانس سے آزادی حاصل کرنے کے لیے الجزائر نے جو عظیم جدوجہد کی، اُس سے متاثر ہو کر اُنہوں نے گوریلا عسکری تیکنیک کی پیروی میں خلیل الوزیر اور صلاح خلف جیسے کچھ ساتھیوں کے ساتھ مل کر آزادیٔ فلسطین کے لیے ایک نیم سیاسی اور نیم عسکری تنظیم’’الفتح‘‘ کی بنیاد رکھی۔بعد میں جارج حباش کے پاپولر فرنٹ اور نائف حواتمہ کے ڈیمو کریٹک فرنٹ کا الفتح سے الحاق ہوا اور تنظیمِ آزادیٔ فلسطین(PLO)کے نام سے مرکزی تنظیم وجود میں آئی، جس کے چیئرمین یا صدر یاسر عرفات تھے۔
1959ء میں شامی فوج کے کچھ فلسطینی افسران احمد جبریل،علی بشناق اور عبدالطیف شرورو وغیرہ کی قیادت میں ایک گروپ وجود میں آیا۔ صبری خلیل البنا المعروف ابو نضال نے الفتح تنظیم سے الگ ہو کر بعث پارٹی کے سوشلسٹ نظریات کی تنظیم انقلابی مجلس تشکیل دی، جو عملاً عراق کے صدر صدام حسین، لیبیا کے صدر معمّر قذافی اور شام کے صدر حافظ الاسد کے زیرِ اثر تھی۔
یہ فلسطین کے تمام سیاسی اور عسکری گروپس میں سب سے زیادہ بے رحم اورمتشدّد گروہ تھا۔اس گروہ نے اسرائیلی، عرب، یورپی اور امریکی باشندوں کے علاوہ دو سفارت کاروں، یہاں تک کہ یاسر عرفات کی تنظیم کے ایک اہم رہنما،صلاح خلف(ابو ایاد) کو بھی قتل کیا تھا۔ابو نضال کی رہنمائی میں اِس گروپ نے ایک سو سے زاید افراد دہشت گردی کا نشانہ بنائے۔
ابونضال نے1985 ء میں ایک جرمن ہفت روزہ’’دیر شبیجل‘‘ (Der Spiegel) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ’’مَیں شر(evil) کی وہ رُوح ہوں، جو تاریکیوں میں اسرائیلیوں کے لیے ڈراؤنا خواب بن کر پِھرتی ہے۔‘‘اور پھر شر کی یہ رُوح، کینسر کے مرض میں مبتلا ہو کر بغداد کے ایک اسپتال یا اپنے اپارٹمنٹ میں پڑی تھی کہ اس کی سرپرستی کرنے والے عراقی صدر، صدام حسین نے مبیّنہ طور پر اسے بندوق کی تین گولیاں مروا کر انجام کو پہنچا دیا تھا۔
گزشتہ صدی کے ساتویں عشرے تک ایسے کچھ اور چھوٹے دہشت گرد گروپس بھی شامی صدر حافظ الاسد اور صدام حسین کی پُشت پناہی سے بنتے اور ٹوٹتے رہے۔ان میں سے کوئی بھی فلسطین سے متعلق اِس حقیقت کا قائل نہیں تھا کہ یہ ساری اُمّت کا ایشو ہے۔وہ عرب نیشنل ازم کے تحت اسے عربوں کا معاملہ سمجھتے تھے۔ دراصل، دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکا اور روس کے درمیان شروع ہونے والی سرد جنگ نے دنیا کو دو بلاکس میں تقسیم کر دیا تھا۔
عرب ممالک بھی امریکا نواز اور روس نواز دو بلاکس میں تقسیم تھے، اِس لیے فلسطین حقیقت میں اُن میں سے کسی کا بھی ایشو نہیں تھا۔ تنظیمِ آزادیٔ فلسطین کے سیاسی اور مرکزی نمائندے اور قائد، یاسر عرفات تھے، لیکن وہ اسلام پسندی اور سوشلسٹ سیکولر ازم کے درمیان جُھول رہے تھے۔شام، عراق، لیبیا، الجزائر اور جنوبی یمن نے اپنا تشخّص بائیں بازو کے ممالک کی صُورت قائم کیا، تو یاسر عرفات کا جھکاؤ بھی اُسی روس نواز بلاک کی طرف تھا۔
پچھلی صدی کے چھٹے عشرے تک عرب ممالک فلسطین ایشو سے متعلق کسی حد تک مخلص اور سنجیدہ تھے، لیکن اُن کے مابین نظریاتی اختلافات گہرے تھے۔مصر کے ڈکٹیٹر جمال عبدالنّاصر نے سوشلسٹ قوم پرستی کو اُبھارا۔ اُسی نے عرب وحدت و اتحاد کا ڈول ڈالا اور1958ء میں مصر اور شام نے’’متحدہ عرب ری پبلک‘‘ کی بنیاد رکھی۔بظاہر اِس اتحاد میں آزادیٔ فلسطین کا مقصد شامل تھا، لیکن حقیقت میں یہ عرب نیشنل ازم کا شاخسانہ تھا۔1967 ء کی جنگ نے عرب ممالک کا بَھرم ختم کر دیا اور اس سے فلسطین کاز پر بھی ضرب لگی۔ پی ایل او کا ہیڈ کوارٹر اُس وقت اردن میں تھا۔
اس تنظیم نے فلسطین اور اسرائیل کے اندر اور باہر کی دنیا میں کچھ ایسی فدائیانہ کارروائیاں کیں، جن کے جواب میں ایک تو اسرائیل، اردن پر حملے کرتا تھا،دوم، امریکا اور مغربی دنیا بھی اردن پر سخت برہم تھی۔ اِن حالات میں اردن کے شاہ حسین اور تنظیمِ آزادیٔ فلسطین کے مابین ٹکراؤ کی صُورت پیدا ہو گئی، تو اردن نے فوج استعمال کر کے یاسر عرفات اور اُن کی تنظیم کو اردن سے نکال دیا۔
اس کے بعد یاسر عرفات نے لبنان کو اپنی تنظیم کا مرکز بنایا، لیکن وہاں ایک طرف عیسائی اور مسلمان عناصر میں خانہ جنگی شروع ہو گئی، تو دوسری طرف 1982ء میں اسرائیل نے وحشت و درندگی کا ثبوت دیتے ہوئے خوف ناک بم باری کی۔ اِس دوران صابرہ اور شتیلا کا المیہ رُونما ہوا۔ برطانوی صحافی، رابرٹ فسک کا ایک طویل انٹرویو گلوبل ایجوکیشن کی ویب سائٹ پر شائع ہوا۔ یوں تو وہ سارا انٹرویو فلسطین کے المیے کے گرد گھومتا ہے، لیکن اِس میں اُنہوں نے اِس المیے کی لفظی تصویر کھینچتے ہوئے بتایا کہ’’یہ قتلِ عام جمعرات کو ہوا، مَیں ہفتے کے روز منظر دیکھنے گیا۔ ہر طرف تباہی کا منظر تھا۔
منہدم گھر، دھماکوں سے اُڑائی ہوئی عمارتیں، گلیوں میں بکھری لاشیں، مَرے ہوئے جانور تھے۔ہم نے ایک عورت کی لاش پڑی دیکھی، جس کے جسم سے تازہ تازہ خون بہہ رہا تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ بچے کھچے فلسطینیوں کو تیسرے روز تک مارتے رہے۔ اسرائیلی فوجی گاڑیاں حرکت میں تھیں، گویا ابھی اور کچھ بھی ہونا ہے۔ لبنانی، فلسطینیوں پر غضب ناک تھے کہ اُن کی وجہ سے اُن کے مُلک کا امن تباہ ہو گیا اور فلسطینی یاسر عرفات سے ناراض تھے کہ اُن کی پالیسیز نے صابرہ اور شتیلا کے دن دِکھائے۔‘‘اور پھر تنظیمِ آزادیٔ فلسطین نے لبنان سے اُکھاڑ کے تیونس میں اپنا مرکز قائم کیا۔
پی ایل او کے فدائین کے حملوں کی وجہ سے امریکا اور اس کی حلیف مغربی دنیا نے یاسر عرفات اور اُن کی تنظیم پر’’دہشت گرد‘‘ کا لیبل چسپاں کردیا، حالاں کہ اگر سرزمینِ وطن کی آزادی کی لڑائی دہشت گردی ہے، تو امریکا کی جنگِ آزادی لڑنے والے جارج واشنگٹن کو کیا کہا جائے گا۔ انڈیپنڈنٹ کے نامہ نگار، ایلن ہارٹ نے’’ Arafat: Terrorist Or Peacemaker‘کے نام سے یاسر عرفات کے بارے میں ایک کتاب لکھی۔یہ کتاب خود عرفات، اُن کے کئی ساتھیوں اور پی ایل او سے وابستہ کچھ خواتین سے طویل انٹرویوز کی روشنی میں مرتّب ہوئی تھی۔ اِسی ایلن ہارٹ نے ایک اہم کتاب’’ Zionism: The Real Enemy of the Jews‘‘لکھی تھی، جس میں امریکی صدور اور کانگریس ارکان پر صیہونیت کے اثر کا پول کھولا تھا۔
13ستمبر1993ء کو یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیرِ اعظم، اسحاق رابین کے درمیان وائٹ ہاؤس نے اوسلو معاہدہ کروایا۔1994ء میں اُنھیں امن کے نوبیل انعام سے بھی نوازا گیا۔1995ء میں عرفات، شمعون پیریز اور اسحاق رابین میں’’اوسلو ثانی‘‘ کے نام سے پی ایل او اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کی تجدید ہوئی۔29ستمبر 2000ء کواحتجاجی مظاہرے، فلسطینی عوام اور اسرائیلی فوج کے درمیان پُرتشدّد ٹکراؤ شروع ہو گیا۔ اسے’’ انتفاضہ اقصیٰ‘‘ کا نام دیا گیا۔
اس عرصے میں یاسر عرفات کا دفتر اور رہائشی کمپاؤنڈ اسرائیلی فوج کے محاصرے میں تھا۔ اسرائیلی بم باری سے کمپاؤنڈ کا ایک حصّہ منہدم ہو چُکا تھا۔ آخر11 نومبر2004ء کو اپنے دامن میں بے شمار ستائشوں، عقیدتوں کے پھول اور درجنوں الزامات کے داغ لے کر یاسر عرفات فرانس میں اپنے ربّ سے جا ملے۔ بظاہر اُن کی موت کا سبب دماغ کی شریان کا پھٹ کر دماغ کے اندر ہی خون جاری ہونا بتایا گیا، لیکن بہت سے لوگ اُن کی موت کو طبعی کی بجائے پُراسرار قتل قرار دیتے ہیں۔
اس الزام کی تحقیق کے لیے فرانسیسی حکومت نے ایک عدالتی تحقیقی کمیشن قائم کیا، لیکن3 ستمبر2015 کوالجزیرہ، گارڈین اور دیگر عالمی صحافتی ذرائع کے مطابق تحقیق پر مامور جج نے یاسر عرفات کی موت سے متعلق تحقیقات کا باب کسی حتمی رائے کے بغیر تین ستمبر 2015 کو بند کر دیا۔ (مضمون نگار، لگ بھگ 40 برس تک شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے۔ معروف مذہبی اسکالر اور کئی کتب کے مصنّف ہیں)