• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’غزوہ بدر‘‘ اسلام کی عظمت و سربلندی کا پیش خیمہ

’’یوم الفرقان‘‘ یوم بدر درحقیقت اسلام کی عظمت وسر بلندی کا ایک واضح نشان ہے، بدر کی فتح نے  اسلام اور اہل ِ ایمان کو مضبوط بنیاد فراہم کی
’’یوم الفرقان‘‘ یوم بدر درحقیقت اسلام کی عظمت وسر بلندی کا ایک واضح نشان ہے، بدر کی فتح نے اسلام اور اہل ِ ایمان کو مضبوط بنیاد فراہم کی

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق کلوٹا

غزوۂ بدر اہل ایمان اورکفار و مشرکین کی پہلی اور فیصلہ کن جنگ تھی ، پھر صورت ایسی پیش آئی کہ کفار نے پہلے سے اچھی جگہ اور پانی وغیرہ پر قبضہ کرلیا۔ مسلمان نشیب میں تھے، ریت بہت زیادہ تھی جس میں چلتے ہوئے پاؤں دھنستے تھے، گردو غبار نے الگ پریشان کررکھا تھا، پانی نہ ملنے سے ایک طرف غسل و وضو کی تکلیف، دوسری طرف پانی کی پیاس ستارہی تھی۔

اس وقت قدرت نے بارش برسائی ، جس سے میدان کی ریت جم گئی، غسل، وضو کرنے، پینے کے لیے پانی کی کثرت ہوگئی اور گردو غبار سے نجات ملی۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: جب اس نے (تمہاری) تسکین کے لئے اپنی طرف سے تمہیں نیند (کی چادر) اڑھا دی اور تم پر آسمان سے پانی برسا دیا، تاکہ تمہیں اس سے (نہلا کر) پاک کر دے اور نجاست کو تم سے دور کر دے۔ اس لئے بھی کہ تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور اس سے تمہارے پاؤں جمائے رکھے۔ ( سورۃ الانفال)

اس کے بعد ہوا یہ کہ کفار کا لشکر جس جگہ تھا ،وہاں کیچڑ اور پھسلن سے چلنا دشوار ہوگیا۔ جب یہ ظاہری پریشانیاں دور ہوئیں، تو حق تعالیٰ نے مسلمانوں پر ایک قسم کی غنودگی طاری کردی،جس کے چند منٹ بعد ان کی بیداری نے ان میں ایک نئی تازگی اور نئی روح پھونک دی۔

آسمان سے فرشتوں کا نزول :۔

حضرت سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ حضرت ابو اُسید ؓ نے بینائی جانے کے بعد فرمایا: اے میرے بھتیجے ! میں اور تم اگر میدان بدر میں ہوتے اور ﷲ تعالیٰ میری بینائی واپس کردیتا، تو میں تمھیں وہ گھاٹی دکھاتا، جہاں سے فرشتے نکل کر ہمارے لشکر میں آئے تھے اور اس بات میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے ۔(البدایہ والنہایہ)

حضرت سہل بن حُنَیفؓ فرماتے ہیں کہ’’ غزوۂ بدر کے دن ہم میں سے کوئی تلوار سے مشرک کی طرف اشارہ کرتا تھا تو اس کی تلوار پہنچنے سے پہلے ہی مشرک کا سرتن سے جدا ہو کر گر جاتا ۔ (معرفۃ الصحابہ)

حضرت عروہ ؓنے فرمایا: حضرت جبرائیل علیہ السلام جنگ بدر کے دن، حضرت زبیر ؓ کی شکل و صورت میں اترے تھے، انہوں نے سر پر زرد رنگ کی پگڑی باندھی ہوئی تھی جس کا کچھ کپڑا ان کے چہرے پر بھی تھا۔"

میدان ِ بدر میں اللہ کی غیبی مدد و نصرت :۔ حضرت ابو امامہ بن سہل ؓکہتے ہیں ، میرے والد ( سہل) نے فرمایا: اے میرے بیٹے، ہم نے غزوۂ بدر میں ﷲ کی غیبی مدد کی وجہ سے اپنا یہ حال دیکھا تھا کہ ہم میں سے کوئی آدمی کسی مشرک کے سر کی طرف اشارہ کردیتا، تو اس کا سر تلوار لگنے سے پہلے ہی جسم سے کٹ کر نیچے گرجاتا ۔

جب سفید عمامہ پہنے فرشتے نازل ہوئے:۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا: غزوۂ بدر کے دن فرشتوں کی نشانی سفید پگڑیاں تھیں، جن کے شملے پشت پر لٹکے ہوئے تھے۔ (بعض فرشتوں کی پگڑیاں سفید تھیں اور بعض کی زرد)

سہیل بن عمرو ؓ نے فرمایا: میں نے جنگ بدر کے دن بہت سے گورے چٹے آدمی دیکھے، جو چتکبرے گھوڑوں پر آسمان اور زمین کے درمیان سوار تھے ،ان پر نشانیاں لگی ہوئی تھیں، وہ بعد میں جنگ بھی کررہے تھے اور کافروں کو قید بھی کررہے تھے ۔ '

حضرت براء ؓفرماتے ہیں : ایک انصاری صحابی حضرت عباس ؓکو قید کرکے لائے، (حضرت عباسؓ نے اس وقت تک اپنا مسلمان ہونا ظاہر نہیں کیا تھا ،اس لیے وہ جنگ بدر میں کافروں کے ساتھ تھے ) حضرت عباس ؓ نے عرض کیا :"یا رسول ﷲ ﷺانہوں نے مجھے قید نہیں کیا، بلکہ مجھے تو ایسے آدمی نے قید کیا ہے، جس کے سرکا شروع حصہ گنجا تھا اور اس کی شکل و صورت ایسی اور ایسی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان انصاری سے فرمایا: ﷲ نے ایک کریم فرشتے کے ذریعے تمھاری مدد فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں فرشتوں کی نشانی بدر والے دن سفید رنگ کے لباس کی تھی ۔(تفسیر ابن ابی حاتم:565/2)

حضرت سہل بن ابی خیثمہؓ نے فرماتے ہیں : حضرت ابوبرزہ حارثی ، جنگ بدر کے دن (مشرکوں کے ) تین سر اٹھائے ہوئے ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی کریم ﷺ نے جب انہیں دیکھا، تو فرمایا: تمھارا دایاں ہاتھ کامیاب رہا ۔"انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ، ان میں سے دوکو تو میں نے قتل کیا اور تیسرے کی صورت یہ ہوئی کہ میں نے ایک خوبصورت خوبرو اور گورا چٹا آدمی دیکھا جس نے اس کا سر، تن سے جدا کردیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : وہ فلاں فرشتہ تھا۔

سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک مسلمان ایک کافر کے پیچھے دوڑ رہا تھا کہ اسے اوپر سے ایک کوڑے کی آواز آئی اور سوار کی بھی آواز آئی، وہ سوار کہہ رہا تھا کہ "حیزوم (غالباً اس کے گھوڑے کا نام تھا) آگے بڑھ۔ "اتنے میں اس مسلمان نے دیکھا کہ وہ کافر اس کے سامنے چت پڑا ہے۔ اس کی ناک پر نشان تھا اور اس کا سر پھٹ گیا تھا۔

گویا کسی نے اسے کوڑا مارا ہے۔ پھر اس کا سارا جسم سبز ہوگیا۔ وہ انصاری صحابیؓ رسول کریم ﷺ کے پاس آئے اور سارا ماجرا بیان کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا "تم سچ کہتے ہو۔ یہ فرشتے تیسرے آسمان سے مدد کے لیے آئے تھے۔ "(مسلم، کتاب الجہاد، باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر )

سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا : "یہ جبرائیل امین ؑہیں، اپنے گھوڑے کا سر تھامے ہوئے اور ان پر جنگ کے ہتھیار ہیں۔" (صحیح بخاری، کتاب المغازی) انہی سے روایت ہے کہ مسلمانوں نے ستر کافروں کو قتل کیا اور ستر کو قید کیا۔ (مسلم، کتاب الجہاد، باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر)

سورۂ انفال میں ایک ہزار فرشتوں کا ذکر ہے جو پہاڑ پر اترے تھے ، اس پہاڑ کو عرف عام میں آج کل، جبل ِملا ئکہ یعنی فرشتوں کا پہاڑ کہتے ہیں ۔ترجمہ:" جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے اس نے جواب میں فرمایا کہ میں تمہاری مدد کے لیے پے در پے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں۔"(صحیح بخاری ۔سنن ابن ماجہ) پھر فرمایا گیا: ترجمہ:"یاد کریں جب آپ (ﷺ) کا رب فرشتوں کو وحی بھیجتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مسلمانوں کو ثابت قدم رکھو۔

عنقریب میں کافروں کے دلوں میں ہیبت ڈال دوں گا تو تم کافروں کی گردنوں کے اوپر مارو اور ان کے ایک ایک پور (جوڑ) پر ضربیں لگاؤ۔"فرشتوں کے ہاتھوں جو کافر مارے جاتے، وہ دوسرے مقتولوں سے مختلف ہوتے تھے، ان کی گردنوں اور جوڑوں پر داغ ہوتے تھے۔ (فتح الباری ، جلد 7، ص 388)

پانچ سو فرشتے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی قیادت میں اور جب کہ دوسرے پانچ سو فرشتے سیدنا میکائیل علیہ السلام کی قیادت میں اس پہاڑ پر اترے اور مسلمانوں کی مدد کی جبکہ کفّار کا لشکرنامراد رہااور ابو جہل سمیت نیست و نابود ہوگیا۔

حضرت رفاعہ بن ابی رافعؓجو کہ بدری صحابہ میں سے ہیں، بیان فرماتے ہیں کہ :"حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر دریافت کیا: "یا رسول اللہﷺ! آپ ﷺ غزوۂ بدر میں شرکت کرنے والے صحابہؓ کو کیسا سمجھتے ہیں؟ "آپ ﷺ نے فرمایا:" میں اُنہیں مسلمانوں میں سب سے افضل شمار کرتا ہوں یا ایسا ہی کوئی دوسرا جملہ استعمال فرمایا۔ " حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: " غزوۂ بدر میں شمولیت کرنے والے فرشتے بھی دوسرے فرشتوں میں اِسی طرح ہیں۔‘‘(صحیح بخاری ، ابن ماجہ، مشکاۃ المصابیح)

اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ افضل ہونے کی وجہ غزوۂ بدر میں شرکت کی وجہ سے ہے۔ اگرچہ فرشتے دوسری جنگوں میں بھی شریک ہوئے تھے، لیکن غزوۂ بدر میں انہوں نے باقاعدہ جنگ کی اور دیگر فرشتوں سے افضل اور بہترین قرار پائے۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺنے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے اہل ِ بدر کو دیکھا اور فرمایا جو چاہو کرو میں تمہیں بخش چکا ہوں۔" (سنن ابی داؤد )

"غزوۂ بدر " کفر و اسلام کا فیصلہ کن معرکہ تاقیامت حق و باطل کی میزان

غزوۂ بدر اسلام اور کفر کا پہلا اور اہم ترین غزوہ ہے، اس سے دنیا پر واضح ہو گیا کہ نصرت الٰہی کی بدولت مومنین اپنے سے کئی گنا فوج کو شکست دے سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سو مومنوں کو ہزار کافروں پر فتح کی خوشخبری دی۔

خاتم النبیین ﷺ اور آپ ﷺ کے جلیل القدر صحابہ کرام ؓ اپنی جانوں اور مالوں کا سودا اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنت کے عوض کر چکے تھے۔ انھوں نے اپنی وفاداریوں کا مرکز و محور اللہ اور اس کے رسول ِ رحمت ﷺ کو بنا لیا تھا۔

غزوۂ بدر میں شامل مسلمانوں نے جس قوت ایمانی کا مظاہرہ کیا ،اس کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ باپ بیٹے کے خلاف اور بیٹا باپ کے خلاف۔ بھانجا ماموں کے خلاف اور چچا بھتیجے کے خلاف محض اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ کی محبت اور قرب ورضا کی تلاش میں میدان میں آیا۔

میدانِ بدر میں حاصل ہونے والی فتح کے اثرات نہایت دوررس اور گہرے تھے۔ یہ حق و باطل کا وہ عظیم معرکہ تھا جو قیامت تک کے لیے ایک میزان بن گیا۔ یہ معرکہ اہل ایمان کے لیے حوصلے اور ہمت کا ایک روشن مینار ہے، جو ہر دور کے مسلمانوں کو یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ پر بھروسے اور ایمان کی قوت سے کوئی چیز ناممکن نہیں۔

بدر کی فتح نے یہ ثابت کر دیا کہ اکثریت پر اقلیت بھی غالب آ سکتی ہے، کفر پر ایمان کی فتح ممکن ہے، اور ہتھیاروں کے مقابلے میں بے سروسامانی بھی برتری حاصل کر سکتی ہے۔ یہ ہماری ملی تاریخ کے درخشاں اور یادگار باب ہیں، جن کی سرخی غزوۂ بدر کے مجاہدوں نے اپنے خون سے لکھی۔ انہوں نے حق کی خاطر جان قربان کرنے کی وہ عظیم روایت ڈالی، جو آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے اور ہمیں راہِ حق پر چلنے کی ترغیب دیتی ہے۔

غزوۂ بدر کی کامیابی نے مسلمانوں کو پورے عرب میں ایک مضبوط اور مستحکم حیثیت دلائی۔ اس فتح کے بعد تمام طاغوتی طاقتیں مسلمانوں کی طاقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ قریش مکہ، جو اس وقت عرب کی سب سے بڑی طاقت تھے، ان کے مقابلے میں مسلمانوں نے ایک برابر کے فریق کی حیثیت حاصل کر لی۔ قریش کو اب مسلمانوں کی طاقت کا پوری طرح احساس ہو گیا، اور ان کی سیاسی شہرت اور حیثیت کو شدید دھچکا لگا۔ ان کی شام کی تجارتی شاہراہ، جو ان کی معیشت کا اہم ستون تھی، غیر محفوظ ہو گئی۔

اس فتح نے اسلام کی مرکزیت کومستحکم کیا اور مدینہ کی مملکت کو استحکام بخشا۔ عرب کے دیگر قبائل اب مسلمانوں کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے پہلے سوچنے پر مجبور ہو گئے۔ مدینہ کے یہودی، جو اپنے معاشی، عسکری اور مادی وسائل کی وجہ سے خود کو برتر سمجھتے تھے، اس فتح سے ہکا بکا رہ گئے۔ ان کے ہوش و حواس گویا معطل ہو گئے، اور انہیں اپنے لیے ایک بڑا خطرہ محسوس ہونے لگا۔ غزوۂ بدر کی کامیابی نے نہ صرف مسلمانوں کے اعتماد کو بلند کیا بلکہ عرب میں اسلام کے مستقبل کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھی۔

غزوۂ بدر کو اسلام کی عسکری تاریخ میں ایک خاص اور اہم مقام حاصل ہے۔ میدانِ بدر میں، جہاں میر کارواں، خاتم النبیین، سالاراعظم حضرت محمد ﷺ کی قیادت میں صحابہ کرامؓ نے بے مثال بہادری اور استقامت کا مظاہرہ کیا، وہیں یہ معرکہ کفر اور اسلام کے درمیان ایک فیصلہ کن جنگ بھی ثابت ہوا۔ 

یوم الفرقان، یوم بدر درحقیقت اسلام کی عظمت اور بلندی کا ایک واضح نشان ہے۔ بدر کی فتح نے نہ صرف اسلام کو مضبوط بنیاد فراہم کی بلکہ یہ دنیا بھر میں اسلام کے پیغام کے پھیلاؤ کا ایک اہم ٹرننگ پوائنٹ اور نقطۂ آغاز بھی بنا۔ اس فتح نے مسلمانوں کے عزم اور ایمان کو مزید مضبوط کیا اور تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔