• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک تحقیق کے مطابق گزشتہ برسوں میں برطانیہ میں سامی مخالف حملے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے۔ نسلی منافرت کے پرتشدد واقعات میں 30فیصد اضافے کے بعد ان کی تعداد 600 تک پہنچ گئی ۔برطانیہ میں یہودیوں کو حفاظت کے معاملے پر مشورہ دینے والے کمیونٹی سکیورٹی ٹرسٹ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 30 برس (جب سے ایسے واقعات کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے ) کے دوران یہ بہترین اعدادوشمار ہیں اس کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی تناؤ کا الزام برطانوی یہودیوں کو دیا جاتا ہے اور بعض اوقات ان پر حملے کیے جاتے ہیں جبکہ اس حوالے سے ان پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ ادھر بین الاقوامی یہودی کانگریس ڈبلیو ٹی سی(WTC) نے ایک رپورٹ جاری کی ہے’’یورپ میں اسلام کا فروغ‘‘ کے نام سے جاری سروے رپورٹ میں یہودی کانگریس نے لکھا ہے کہ 2025ءتک یورپ مسلمانوں کے احوال و کوائف میں غیر معمولی آبادیاتی انقلاب رونما ہوگا۔

یورپ میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے یہودی عالمی کانگریس دو وجوہات کی بنا پر تشویش میں مبتلا ہے پہلی وجہ سیاسی ہے جو ایک طرف یورپی ممالک میں’’یہودی کالونیوں‘‘ اور انکے سیاسی نظریات و اثرات کی اہمیت اور پوزیشن سے تعلق رکھتی ہے تو دوسری طرف ان یورپی ممالک کے موقف سے تعلق رکھتی ہے جہاں آنیوالے دنوں میں’’عرب صہیونی کشمکش ‘‘پر مسلمانوں کے موقف اور انکے وزن میں گراں قدر اضافہ کی وجہ سے اثر پڑے گا۔ رپورٹ کے مطابق یہودی کالونیوں اور انکے سیاسی اثرات پر انتخابات میں منفی اثر کا پڑنا فطری ہے کہ وہاں مسلمانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اس سے ان کا سیاسی وزن بھی بڑھ رہا ہے اور یورپی سیاسی جماعتوں اور قانون ساز شخصیات کے حامل موثر ترین رول ادا کرنے کا موقف بھی مستحکم ہو رہا ہے یہاں تک کہ یورپی ممالک میں حکومتیں اور سیاسی جماعتیں اسلام سے بڑھتی ہوئی لوگوں کی دلچسپی کو تسلیم کرتے ہوئے علاقائی مسائل میں سیاسی موقف کے یقین کے ساتھ اسکا لحاظ کرنے پر مجبور ہے رپورٹ میں برطانیہ میں ہوئے گزشتہ انتخابات کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ برطانیہ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں اسرائیلی موقف رکھنے والے امیدواروں کے خلاف ہزاروں پمفلٹ اور کتابچے تقسیم کیے گئے اور امریکہ کی طرف سے اسرائیل کو ملنے والی اقتصادی اور فوجی امداد کو نشانہ بنایا گیا اور اسرائیل کی ناروا ظالمانہ صہیونی حکمت عملی کی نشاندہی کی گئی ۔یہودی عالمی کانگریس کی تشویش کی دوسری وجہ’’امن و سلامتی کو لاحق ہونے والا خطرہ‘‘ہے کہ یورپی ممالک میں اسلام کا فروغ یہودیت کیلئے خطرہ اور سیکورٹی رسک ہے ۔اسرائیلی تجزیہ نگاروں اور سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 10 برسوں میں مسلم برادری کے سیاسی وزن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور امریکہ و برطانیہ کے انتخابات میں اس کا انتخابی موقف اس بات کا متقاضی ہے اور اس رجحان کے تدارک کی تیاری کریں۔

یہودی و اسرائیلی تجزیہ نگاروں نے اس بات پر زور دے کر کہا ہے کہ یورپ میں یہودیوں کی تعداد میں کمی اور مسلمانوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ کے باعث یورپ کے یہودی تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں انہیں خطرہ لاحق ہو گیا ہے کہ یورپ میں ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات یہودی باشندوں پر ضرور مرتب ہوں گے اور مسلمانوں کا یہ انتباہ پیش نظر رہنا چاہیے کہ وہ ماضی کے مقابلے میں اب زیادہ منظم، کارگر ، منصوبہ بند اور موثر شکل میں سامنے آئیں گے یہی وجہ ہے کہ صہیونی لیڈروں نے ایک نیا نعرہ بلند کیا ہے کہ دنیا بھر کے یہودیوں کو فلسطین میں لا کر بسایا جائے گا میرے حساب سے صہیونی نظریہ آج کے دور میں صرف یہودی قومیت اور یہودی سامراجیت ہی کی اجارہ داری کا نظریہ نہیں ہے بلکہ نسل پرستی اور سوشلسٹ دشمنی پر مبنی ہے پانچ جولائی 1950ء کو اسرائیل نے یہ قانون بنایا کہ دنیا بھر کے یہودی اسرائیلی شہریت لے سکتے ہیں صہیونی دانشوروں اور مفکروں نے یہ عجیب و غریب منطق بھی پیش کی کہ وہ یہودیوں کے علاوہ فلسطین میں رہنے والے باقی عربوں کو وہاں کا شہری تسلیم نہیں کرتے۔اس نرالی منطق کے مطابق اقلیت میں یہودی تو فلسطینی قرار پائے اور اکثریت عربوں کو ’’مہاجر‘‘بنا دیا گیا چونکہ یہ فیصلہ یکم اپریل 1951 میں کیا گیا اس لیے یہ کوئی پہلی اپریل کا روایتی مذاق نہیں تھا بلکہ اسرائیل کا ایک سنجیدہ اقدام تھا اس دن سے اسرائیلی حکومت نے عرب دشمنی کا کھل کر ساتھ دیا اور عرب علاقوںپر اپنا حق جتانے کی پروپیگنڈا مہم تیز کر دی۔حقیقت تو یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت نے معرضِ وجود میں آتے ہی عربوں اور فلسطینیوں کے خلاف جارحانہ کارروائی کا آغاز کر دیا تھا۔ کسی بھی حوالے سے دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہودی اس ریاست کو صرف یہودیوں کیلئے مخصوص کرنا چاہتے ہیںبالکل اسی طرح جیسے کہ نازی یہودیوں کو بےدخل کر کے جرمنی کو صرف نازیوں کی ریاست بنانا چاہتے تھے صہیونیت اس بات کا دعویٰ بھی کرتی ہے کہ دنیا بھر کے یہودی اسرائیل کے قدیم باشندے ہیں اور یہودی قوم ایک مشترکہ جذبے، مسلسل جدو جہد، ایک مذہب اور ایک مخصوص تاریخ کی مالک ہے صہیونی مفکر یہودیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں کہ یہودی خدا کی پسندیدہ نسل اور قوم ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے؟

میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچئے۔۔۔۔۔

بلند بانگ ہیں دعوے یہ پارسائی کے

فرشتے سارے ہیں کوئی تو یاں بشر ٹھہرے

تازہ ترین