• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

‎آج کل افطاریوں کی بہار ہے۔ ‎رمضان سے قبل بھی لاہور کی رونقیں زوروں پر رہیں ایک طرف فورٹریس میں عرصۂ دراز کے بعد ہارس اینڈ کیٹل شو منعقد ہوا جسکی اختتامی تقریب میں آرمی چیف جنرل حافظ عاصم منیر کے ہمراہ پنجاب کی خوش پوش چیف منسٹر مریم نواز شریف نے شرکت کی ۔

الحمرا میں ”فیض امن میلہ“ کی رونقیں رہیں تو مابعد یہاں ”لٹریسی فیسٹیول“ نے خوب ماحول بنائے رکھا جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لاہوری کھانوں یا کھابوں کے ہی رسیا نہیں علمی، ادبی اور تفریحی سرگرمیوں کے بھی دلدادہ ہیں۔ اس مرتبہ تو کتاب بینی میں انکی دلچسپی خاصی نمایاں رہی۔ پہلے ایکسپو سنٹر میں بڑا کتاب میلہ لگا اور پھر پنجاب یونیورسٹی کے کوریڈیور میں یونیورسٹی انتظامیہ نے ایسا بک فیئر سجایا جسکے متعلق بتایا گیا کہ کتابوں کی ریکارڈ توڑ سیل ہوئی۔ کتاب بینی کے ذوق کی حوصلہ شکنی کے ماحول میں یہ واقعی خوشگوار نیوز تھی۔‎ درویش کیلئے رمضان سے قبل ایک بڑی خوشی اسکے محبوب تعلیمی ادارے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں اولڈ راوینز یونین کے الیکشن تھے اتنی گہما گہمی اور رونق کہ کیا کہنے۔ ‎ایک سترہ برس کا پینڈو بچہ اس ماڈرن ماحول میں آیا تو اس کی کیا کیفیات تھیں؟ اندر سے وہ تھا بھی مولوی، اس نئے ماحول میں اسکی ایڈجسٹمنٹ کیسے ہوئی؟ یہ کہانی موضوع سے متعلق نہیں، چھوڑے دیتے ہیں۔ بات ہورہی تھی اولڈ راوینز کے الیکشن کی جس کی یونین کے صدر اطہر اسمعیل چنے گئے اور نائب صدر ہمارے دوست ہر دلعزیز خالد رانجھا اور جنرل سیکرٹری کی سیٹ پر آئے شہاب بشارت بھٹہ جبکہ سیکرٹری فنانس عمار سلیم منتخب ہوئے۔ یونین کے کام اور کارکردگی سے علی الرغم یہ امر از خود قابلِ ستائش ہے کہ اس الیکشن کیلئے نئے اور پرانے سبھی اولڈ راوینز چناؤ کیلئے اپنی اس قدیمی درسگاہ پہنچتے ہیں برسوں سے بچھڑے دوست یہاں ملتے ہیں، دیکھا جائے تو یہ بھی جمہوریت کا فیضان ہے۔ ‎ہمارے واصف ناگی صاحب نے ”وہ لاہور کہیں کھو گیا“ کے عنوان سےایک طویل سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس میں وہ پارٹیشن سے قبل کے لاہور کی جو تصویر کشی کرتے رہتے ہیں بلاشبہ وہ بہت رومانوی و دلکش ہے جس میں مسلمانوں کے ساتھ برابری پر ہندوؤں کی بھی بہت بڑی آبادی لاہور کی رونق تھی بلکہ لاہور کی تعمیر و ترقی اوراسے تہذیبی گہوارہ بنانے میں ہندووں کا رول شائدباقی سب سے بڑھ کر تھا۔ سرگنگارام کی خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے جنہیں بجا طور پر ماڈرن لاہور کا باپ قرار دیا جاتا ہے۔

‎ ‎راجستھان سے ہمارے دوست اروند درویش کی دعوت پر لاہور آئے ہوئے تھے اروند سہارن جو اینکر پرسن اور سوشل ایکٹوسٹ ہیں سوشل میڈیا پر ان کی فالونگ لاکھوں میں ہے انہوں نے درویش کے ہمراہ مختلف النوع پروگراموں میں بھرپور شرکت کی اور اہلیانِ لاہور کی زندہ دلی پر خوش ہوئے، یہاں ان سے اکثر یہ شکوہ کیا گیا کہ انڈیا نے اپنی کرکٹ ٹیم پاکستان نہ بھیج کر اچھا نہیں کیا۔ اگر انڈین ٹیم یہاں آتی تو عوامی جوش و خروش میں اور اضافہ ہوتا۔ جواب میں اروند سہارن بولتے کہ میں کرکٹ سے بڑھ کر عوامی مفاد میں دیگر مطلوبہ اقدامات کو زیادہ اہم خیال کرتا ہوں۔ عام آدمی کو کرکٹ سے زیادہ اپنے بال بچوں کے کھانے پینے کی فکر ہے اس ہوشربا مہنگائی میں اس کی ترجیح اپنی گھریلو ضروریات ہونگی نہ کہ کرکٹ، آلو پیاز ٹماٹر جو واہگہ کے اس پار بیس پچیس روپے کلو دستیاب ہیں میں حیرت زدہ ہوں وہ یہاں ڈیڑھ سو روپے کلو ملتے ہیں مجھے ریحان صاحب کے گھر ایک کاشتکار محنت کش نوجوان مٹھو نے بتایا کہ وہ کھاد کا ایک توڑا چودہ ہزار میں خریدتا ہے جبکہ کھاد کا یہی توڑا ہندوستان میں ساڑھے تیرہ سو میں دستیاب ہے، کرنسی کا فرق نکال بھی لیا جائے تو بھی پاکستانی کسان کی مشکلات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ہم لوگوں کو کرکٹ سے زیادہ عام آدمی کی معاشی پریشانیوں اور دکھوں کا احساس و ادراک ہونا چاہیے۔ ہم نے تو جنگی ماحول کے باوجود کبھی سفارتی تعلقات خراب نہیں کیے۔ ہم نے تو طویل عرصہ آپ کو ”دی موسٹ فیورٹ نیشن“ کا سٹیٹس دیے رکھا ۔ اسلام آباد میں انڈین ہائی کمشنر نہیں ہو گا تو لوگوں کیلئے ویزوں کا حصول کتنا مشکل ہو جائے گا۔

‎درویش نے اروند سہارن کے ہمراہ سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری سے بھی پاک وہند تعلقات کے حوالے سے طویل نشست کی، جوصدقِ دل سے چاہتے ہیں کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں سرد مہری کی جو برف جمی ہوئی ہے وہ پگھلے اس سلسلے میں سب سے پہلے سفارتی تعلقات کی بحالی ہونی چاہیے اسکے بعد بتدریج دیگر معاملات پر گفت و شنید کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ یوں لاکھوں پاکستانی بھارت جا سکیں گے اور لاکھوں ہندوستانی لاہور کی رونقیں دوبالا کرنا چاہیں گے۔

تازہ ترین