غزہ، کراچی (اے ایف پی، نیوز ڈیسک) اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 14امدادی کارکنوں کے قتل کا انکشاف ہوا ہے ، یہ کارکن ایک ہفتے قبل تل السلطان کے علاقے میں بمباری کے بعد امدادی کارروائیوں کیلئے پہنچے تھے۔ الجزیرہ نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے ان کارکنوں کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں دفنادیں جبکہ ایک ایمبولنس کو بھی برآمد کرلیا گیا ہے جسے دفن کردیا گیا تھا ۔ اسرائیلی فوج نے بھی گزشتہ اتوار کے روز تل السلطان میں ایمبولنسز پر حملوں کا اعتراف کیا ہے تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ حماس ایمبولنسز کو استعمال کررہی ہے۔ ہلال احمر کا کہنا ہے کہ ایمبولنسز پر فائرنگ کے بعد اس کے 9ارکن تاحال لاپتہ ہیں۔ دوسری جانب غزہ پر بمباری میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران خواتین اور بچوں سمیت مزید 25افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے ۔ حماس نے ایک بار پھر ایک اور اسرائیلی قیدی کی ویڈیو جاری کردی ہے جس میں اس نے اپنی رہائی کیلئے جنگ بندی کی اپیل کی ہے ۔ اسرائیلی اپوزیشن لیڈر لاپیڈ نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر قیدیوں کی رہائی کیلئے جنگ بندی معاہدہ کرے۔ حماس کےرہنما خلیل الحیا کا کہنا ہے کہ حماس نے غزہ میں سول انتظامیہ کی نگرانی کے لئے ماہرین کی ایک آزاد تنظیم کی تشکیل کی مصری تجویز کو قبول کر لیا ہے۔لیکن انہوں نے کہا کہ حماس غیر مسلح نہیں ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ حماس اور دیگر مسلح مزاحمتی گروپ اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہوں گے اور اسرائیل کو فلسطینیوں کے مستقبل کو ڈکٹیٹ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔