واشنگٹن(جنگ نیوز،مانیٹر نگ ڈیسک) مودی ٹرمپ میں ٹیرف جنگ جاری ہے بھارت نے بھی امریکی زرعی منصوعات پر 100فیصد ٹیرف عائد کردیاجبکہ دہلی نے ایسا کرکے ہمیں دھوکا دیا،امریکی صدارتی دفتر وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے بھارت کی جانب سے امریکی زرعی مصنوعات پر100فیصد ٹیرف غیرمنصفانہ قرار دے دیا۔یورپی یونین نے امریکی دودھ کی مصنوعات پر 50فیصد،جاپان نےامریکی چاول پر 700،کینیڈانے امریکی مکھن،پنیر پر300فیصد ٹیرف عائدکرچکا،نیویارک اسٹیٹ، کولوراڈو، کولمبیا، پنسلوانیا اور دیگر ریاستوں کی جانب سے دائر مقدمے میں کہا گیا کہ کٹوتی غیرقانونی ہے اور وفاقی حکومت کی جانب سے کٹوتی کے حوالے سے کوئی منطقی جواز پیش نہیں کیا گیا، وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق بھارت کی جانب سے امریکی زرعی مصنوعات پر 100فیصد ٹیرف غیرمنصفانہ ہے اور بھارت نے 100فیصد ٹیرف عائد کرکے امریکا کو دھوکا دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی مصنوعات پربھاری ٹیرف امریکی برآمدات کوعملاً ناممکن بنا دیتے ہیں۔ترجمان وائٹ ہاؤس نے بتایاکہ یورپی یونین نے امریکی دودھ کی مصنوعات پر 50فیصد ٹیرف عائد کر رکھا ہے، جاپان نے امریکی چاول پر 700اور کینیڈا نے امریکی مکھن اور پنیر پر 300 فیصد ٹیرف عائدکر رکھا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کررکھا ہے کہ دو اپریل سے نافذ ہونے والے ٹیرف بڑے پیمانے پرہوں گے جبکہ امریکی صدر متعدد بار کہہ چکے دو اپریل سے نافذ ٹیرف امریکی معیشت کیلئے اہم موڑ ثابت ہوں گے۔دوسر جانب وشگٹن (مانیٹر نگ ڈیسک)لگ بھگ 2 درجن امریکی ریاستوں نے صحت کے شعبے میں اربوں ڈالرز کے فنڈز کی کٹوتی پر ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ریاستوں کے اٹارنی جنرلز کے اتحاد نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف 2 اپریل کو مقدمہ دائر کیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انٹطامیہ نے ملک بھر میں متعدد طبی منصوبوں اور کووڈ 19 سے متعلق اقدامات کے لیے وفاقی فنڈز میں 11 ارب ڈالرز کی کٹوتی کا فیصلہ کیا تھا۔23 ریاستوں کی جانب سے رہوڈ آئی لینڈ کی فیڈرل کورٹ میں مقدمہ دائر کیا۔نیویارک اسٹیٹ، کولوراڈو، کولمبیا، پنسلوانیا اور دیگر ریاستوں کی جانب سے دائر مقدمے میں کہا گیا کہ کٹوتی غیرقانونی ہے اور وفاقی حکومت کی جانب سے کٹوتی کے حوالے سے کوئی منطقی جواز پیش نہیں کیا گیا۔مقدمے میں کہا گیا کہ اس کٹوتی سے عوامی صحت کے کو شدید نقصان پہنچے گا جبکہ ریاستوں میں مستقبل میں وباؤں اور دیگر عام امراض پھیلنے کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔مقدمے میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کو فوری طور پر ان فنڈز میں کٹوتی کرنے سے روکے جو کہ ایوان نمائندگان کی جانب سے وبا کے دوران مختص کیے گئے تھے اور ان کا زیادہ تر حصہ کووڈ سے متعلق اقدامات جیسے ٹیسٹنگ اور ویکسینیشن پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ان فنڈز سے ذہنی صحت کے مختلف پروگرامز پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔رہاست نیویارک کی اٹارنی جنرل Letitia James نے کہا کہ فنڈز میں کٹوتی سے افیون کے بحران پر قابو پانے کے لیے کی جانے والی پیشرفت ریورس ہو جائے گی جبکہ ذہنی صحت کے سسٹمز کو نقصان پہنچے گا۔دوسری جانب یو ایس ہیلتھ اینڈ ہیومین سروسز ڈیپارٹمنٹ نے ملازمین کو نوٹسز جاری کیے ہیں اور توقع ہے کہ 10 ہزار افراد کو ملازمتوں سے نکال دیا جائے گا۔ مگر امریکی محکمے کی جانب سے کٹوتی پر ہونے والے احتجاج پر بیان جاری کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔