• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غزہ میں ہر طرف قیامت کا سماں تھا۔ تین سال کے بچے کا بازو ملبے تلے دبا ہوا تھا۔ وہ ہوش میں تھا اور رو رہا تھا۔ بچے کا باپ اسے حوصلہ دلا رہا تھا۔ کچھ لوگ جب یہ مناظر دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ خدا مخلوقات پہ رحم کیوں نہیں کرتا۔ جنگل میں جب درندے ایک جانور کو زندہ کھا جاتے ہیں تو خدا انہیں روکتا کیوں نہیں؟2005ء میں کشمیر کے زلزلے میں 75ہزار ہلاکتیں ہوئیں۔ کربلا میں اہل بیتؓ کے ساتھ کیا ہوا۔ خدانے اسے روکا کیوں نہیں؟

انسان کے علاوہ دوسری مخلوقات میں کیا ہوتاہے؟ شیروں میں نر بچوں کولڑکپن کی عمر تک پہنچنے پر نکال باہر کیا جاتاہے۔ جب یہ لڑکے اپنی جوانی کو پہنچتے ہیں تو اچانک کسی گروہ پر حملہ کر دیتے ہیں۔ گروہ کے محافظ شیروں کو اگر وہ مار دینے میں کامیاب ہو جائیں تو سب سے پہلا کام یہ کرتے ہیں کہ ان کی اولاد کو چن چن کر قتل کر تے ہیں تاکہ اپنی اولاد پیدا کر سکیں۔ماؤں کے پاس سرنڈر کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

یہ سب انسانوں میں بھی ہوتا آیا ہے اور ہو رہا ہے۔ہندوستان کی تقسیم کے دوران ہوا۔ آپ کے خیال میں غزہ میں قتل و غارت کیوں ہو رہی ہے؟ قرآن میں لکھا ہے کہ فرعون کے پیروکار یہودی بچوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور عورتوں کو زندہ رکھتے تھے۔ یورپیوں نے کیوں ریڈ انڈینز کو قتل کیا؟ ڈونلڈ ٹرمپ کیوں کہتاہے کہ کینیڈا ہمارا صوبہ بن جائے۔یہ سب زمین پہ قبضے کی جنگ ہے۔

انسان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بہتر ضرور ہے لیکن جب تک عقل غالب رہے۔جبلت غالب آجائے تو اپنے ہاتھ سے اپنی زندگی تباہ کر ڈالتاہے۔یہ بات درست ہے کہ کرّہ ارض پہ جتنی بھی زندگی ہے، اس کی ابتدا ایک زندہ خلیے سے ہوئی تھی۔ اس کے بعد ساری زندگی ارتقا میں بنی۔ لاکھوں سال پیچھے جائیں تو آباؤاجداد مشترک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گھوڑے اور گدھے، شیر اور ٹائیگر آپس میں اولاد پیدا کرنے کے قابل ہیں۔وہ پہلی مخلوق جو دو ٹانگوں پر چلنا شروع ہوئی اس کا نام سہی لینتھروپس (Sahelanthropus)تھا جو کہ آج سے ستر لاکھ سال پہلے آج کے افریقی ملک چیڈ (Chad)میں زندگی بسر کرتی رہی۔

توزمین پر یہ جو زندگی ایک دوسرے سے ارتقا کرتی رہی، اس کا رویہ ایک جیسا ہے۔ ایک دوسرے سے حسد، غصہ، وسائل چھیننے کی کوشش اور معمولی باتوں پر جنگ۔ شیطان نے چونکہ سہی لینتھروپس جیسے کئی انسان اپنی آنکھوں کے سامنے فنا ہوتے دیکھے، اسلئے اس پر یہ انکشاف بجلی بن کر گرا کہ ان میں سے ایک کرّہ ارض پہ خدا کا نائب بننے والا ہے۔وہ تو اس زمین کو اپنی ملکیت سمجھے بیٹھا تھا، جہاں زندگی کی صورت میں حسین کھلونے موجود تھے۔ شیطان نے یہ نہیں سوچا کہ حکم دینے والے کا علم کتنا زیادہ ہے۔ فاسلز کے ماہرین کو قوی شک ہے کہ ہوموسیپین یعنی موجودہ انسان دوسرے انسانوں بالخصوص نینڈرتھل کا گلا گھونٹ کر یہاں تک پہنچا ہے۔

اب آجائیے اولاد سے محبت کی حقیقت۔ چار برس پہلے ہماری چھت پر سبز رنگ کی ایک بلی نے بچے پیدا کر دیے۔ باقیوں کو لے گئی، ایک بھورے رنگ کی بلونگڑی چھوڑ گئی، جس کا نام ہم انتونیا فرض کر لیتے ہیں۔ انتونیا نے پھر تین بچوں کو جنم دیا، جن میں سے دو مرگئے اور ایک بچ گیا۔ماں بیٹے کو میں نے صحن میں منتقل کر دیا۔ جس بچے کو انتونیا نے جنم دیا، اپنا دودھ پلایااور جسے ہر وقت وہ چومتی چاٹتی رہتی، جب وہ چار ماہ کا ہوا تو اچانک اس پہ غرانے لگی۔بچے کا خون اس نے خشک کر دیا۔ پورا دن وہ بھوکا رہا۔ خوف کی حالت میں اس نے قے بھی کی۔ صبح جب میں صحن میں گیا تووہ جا چکا تھا۔ اس کی بقا اسی میں تھی۔انتونیا اب پھر حاملہ ہے اور چھت پر رہ رہی ہے۔

ابھی کچھ دیر پہلے لڑنے کی آوازیں آئیں۔ دیکھا تو چھت پر انتونیا اور اس کی سبز ماں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے غرا رہی تھیں۔یہ ہے اولاد سے محبت کی حقیقت۔ وجہ؟ یہ اللہ ہی ہے جو دل میں اولاد کی محبت ڈالتاہے ورنہ زندہ چیز بڑی بے رحم ہوتی ہے۔ وہ نہیں کسی کے منہ میں اپنا نوالہ ڈال سکتی۔ اللہ یہ محبت واپس بھی نکال لیتاہے۔ بلیوں میں جلدی نکال لیتا ہے، انسانوں سے حشر کے میدان میں نکال لے گا۔حدیث کے مطابق اللہ مخلوقات کے دل میں رحم نہ ڈالتا تو جانور اپنی اولاد کو خود اپنے سموں تلے روند ڈالتے۔

بات غزہ سے شرو ع ہوئی تھی۔مسلمانوں کی بے حسی اور بے حمیتی اپنی جگہ، یہ بات سچ ہے کہ اس دنیا میں جو بھی پیدا ہوا، اسے تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔ کیا امیر لوگ اور فاتح ممالک کے باشندے بیماری اور بڑھاپے کا شکار نہیں ہوتے۔ایک امیر شخص جو عشروں لا علاج بیماری سے گزرتا ہے، کیا وہ کم قابلِ رحم ہے؟ موت کا ذائقہ تو کھرب پتیوں نے بھی چکھناہے۔موت آسانی سے کہاں آتی ہے۔

ایک سیارے پر اتنی نازک زندگی کو پالنا کتنا مشکل ہے۔ یہ تو آپ امریکی خلاباز سنیتا ولیمز سے پوچھیں جونو ماہ خلا میں پھنسی رہیں اور اب علاج سے گزر رہی ہیں۔ اس طرح کی دنیا تخلیق کی جا سکتی تھی،جس میں سب جاندار سبزی خور ہوتے، گریٹ ایپ بونوبو کی طرح صلح جو، کرّ ہ ارض پہ جنگلات زیادہ ہوتے۔ اس سبزی خور دنیا کا مگر مصرف کیا ہوتا۔ یہ دنیا تو انسان کی آزمائش کیلئے بنی ہے، خیر و شر کی کشمکش کیلئے !

تازہ ترین