جیبلی آرٹ سوشل میڈیا پر ہر خاص و عام کی خصوصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل میمز، سیلفیز، ویڈیوز یہاں تک کہ روزمرہ کی مصروفیات کی تصاویر لے کر اُنہیں بھی صارفین جیبلی آرٹ میں تبدیل کرتے نظر آ رہے ہیں۔
اس وائرل ٹرینڈ کو دیکھ کر اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ سوالات آئے ہوں گے کہ جیبلی آرٹ کو کس نے تخلیق کیا اور اوپن اے آئی نے اس کے استعمال کا آغاز کیسے کیا؟
جیبلی ایک مشہور جاپانی اینیمیشن اسٹوڈیو ہے جسے 1985ء میں ہایو میزاکی، ایساؤ تاکاہاٹا اور تاشیو سوزوکی نے مشترکہ طور پر بنایا اور اپنا ایک منفرد اینیمیٹڈ اسٹائل متعارف کروایا جو جیبلی آرٹ کے نام سے مقبول ہوا۔
’اسٹوڈیو جیبلی‘ اینیمیشن انڈسٹری کے سب سے زیادہ مشہور اور مقبول اسٹوڈیوز میں سے ایک ہے جس کا وسیع مجموعہ کئی ایوارڈ یافتہ مختصر فلموں، ٹیلی وژن اشتہارات اور 2 تنقیدی اور تجارتی طور پر سراہی جانے والی فیچر فلموں پر مشتمل ہے۔
ان کی فیچر فلم ’اسپیریٹِڈ اوے (Spirited Away) نے 2003ء میں اور فلم ’دی بوائے اینڈ دی ہیرون (The Boy and the Heron) نے 2024ء میں آسکر ایوارڈ بھی اپنے نام کیا ہے۔
جیبلی آرٹ سوشل میڈیا پر کیوں وائرل ہو رہا ہے؟
مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل جیبلی آرٹ کو مشہور اے آئی چیٹ باٹ ’چیٹ جی پی ٹی‘ نے متعارف کروایا ہے۔
جب اوپن اے آئی نے اپنی مربوط تصاویر بنانے کی صلاحیت کا انکشاف کیا تو سوشل میڈیا پر ایک ہلچل مچ گئی۔
کمپنی نے اعلان کیا کہ ہم طویل عرصے سے سوچ رہے ہیں کہ امیج جنریشن ہمارے لینگویج ماڈلز کی بنیادی صلاحیت ہونی چاہیے اسی لیے ہم نے اب اپنا سب سے جدید امیج جنریٹر GPT‑4o متعارف کروا دیا ہے جو نا صرف خوبصورت ہے بلکہ مفید بھی ہے۔
اوپن اے آئی کے اس جدید امیج جنریٹر GPT‑4o نے صرف چند دنوں میں ہی سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کر لی اور اب سوشل میڈیا صارفین اپنی تصاویر اور ویڈیوز یہاں تک کے دنیا میں رونما ہونے والے حادثات کو بھی جیبلی آرٹ میں تبدیل کرتے نظر آ رہے ہیں۔
جہاں ایک طرف سوشل میڈیا پر اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے بننے والا جیبلی آرٹ وائرل ہو رہا ہے وہیں دوسری جانب اسٹوڈیو جیبلی کے شریک بانی ہایو میازاکی کے کئی مداح اور اینیمیشن انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے لوگ اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے جیبلی آرٹ تخلیق کرنے کی کوشش کرنے والے صارفین کی اخلاقیات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں۔